انفاق فی سبیل الله
الْحَمْدُ
لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَالصَّلَوَةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِ
الْمُرْسَلِيْنَ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ أَمَّا بَعْدُ
فَبِاسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
لَوْ كَانَ عِنْدِي مِثْلُ احِدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ
ثَلَثَ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أَرْ صُدُهُ لِدَيْنِ -
(رواه البخاري ومسلم) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے
فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میری خوشی یہی ہوگی کہ میں
اسے تین راتیں گزرنے سے قبل ہی راہ خدا میں خرچ کر دوں اور میرے پاس اس میں سے کچھ
بھی باقی نہ رہ جائے بجز اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ اسے
امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث پاک سے آنحضرت ﷺ کی شانِ جو دو کرم
اور انفاق فی سبیل اللہ کے شوق کا پتہ چلتا ہے۔ نیز ادائیگی قرض کی اہمیت کا
اندازہ ہوتا ہے۔ صفت جو دو کرم سخاوت اور فیاضی میں کوئی شخص بھی صاحب خُلقِ عظیم
نبی کریم ﷺ کی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتا۔ قرآن کریم کے ارشاد پاک وَأَمَّا
السَّائِلَ فَلا تنهر پر عمل کرتے ہوئے آپ ﷺ نے کبھی کسی سائل کے
جائز سوال کو رد نہیں فرمایا۔ حضرت جابر بن عبدالله انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں۔ مَاسُئِلَ
النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ وَقَالَ لَا کہ نبی
کریم ﷺ کبھی کسی سائل کے سوال کو "ناں“ کہہ کر رد نہیں فرماتے تھے۔ یہ صرف آپ
کی تمنا ہی نہ تھی کہ احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو تو خرچ کر دوں بلکہ آپ نے بار
ہا اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ بحرین کے عامل نے ایک بار آپ کی خدمت میں ایک لاکھ
دس ہزار درہم بھیجے ۔ آپ کے پاس جو سائل آیا دیتے گئے یہاں تک کہ شام ہونے سے قبل
سب تقسیم ہو گئے ۔ اسی طرح ایک مرتبہ نوے ہزار درہم پیش کئے گئے۔ حضور نے فرمایا
ان کو چٹائی پر رکھ دو۔ آپ خود تقسیم کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ۔ جو آیا جھولی بھر کر
دیا یہاں تک کہ وہ ختم ہو گئے ۔ اس کے بعد ایک سائل آیا اور دامن طلب پھیلایا۔ آپ
نے فرمایا درہم تو ختم ہو گئے ۔ تم فلاں کے پاس جاؤ اور میرے نام پر قرض لے لو میں
ادا کر دوں گا۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے
عرض کیا۔ یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرض لے کر دینے کا مکلف تو نہیں کیا ۔
نبی رحمت ﷺ کو یہ بات مناسب نہ لگی۔ ایک انصاری بھی وہاں حاضر تھے آپ ﷺ کے رخ انور
کو دیکھ کر بولے يَا رَسُوْلَ اللهِ انْفِقْ وَلَا تَخَفْ مِنْ ذِي
الْعَرْشِ اقْلَالًا اے الله کے رسول ﷺ خوب داد و دہش کیجئے اور مالک عرش کی
طرف سے تنگ دستی کی فکرمت کیجئے۔ آپ اپنے غلام کی یہ بات سن کر مسکرائے اور خوشی
کے آثار چہرہ انور پر آئے۔ فرمایا بهذا أُمِرْتُ مجھے یہی حکم ملا
ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کے مشہور ارشاد پاک وَأَمَّا
السَّائِلَ فَلا تَنْهَرْ پر عمل کرتے ہوئے آپ کسی سائل کے سوال کو
کبھی رد نہیں فرماتے تھے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری علی کہتے ہیں مَاسُئِلَ
النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ . وَقَالَ لَا کہ نبی
کریم ﷺکسی سائل کے جواب میں ”نہ نہیں کہتے تھے۔ آپ کی سخاوت اعلان نبوت سے قبل بھی
زبان زد خاص و عام تھی۔ آغاز وحی میں جب آپ نے حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا کو
تمام ماجرا سنایا تو انہوں نے کہا۔ كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيْكَ
اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرِّحْمَ وَتَحْمِلُ الْكُلَّ وَتَكْسِبُ
الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَکر
نہ کریں اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بے آبرو نہ کرے گا کیونکہ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں
بے سہاروں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں ناداروں کی
ضروریات مہیا کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں آنے والے مصائب پر
دستگیری فرماتے ہیں ۔
ایک
بار حضرت عباس رضی اللہ عنع نے اپنے زیر بار ہونے کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اپنے
سامنے پڑے ہوئے سونے چاندی کے ڈھیر سے انہیں اس قدر عطا فرمایا کہ وہ اُٹھا نہ
سکے۔ بہت ۔
میرے
کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا دریا
بہا دئے ہیں ڈربے بہا دئے ہیں
حضرت
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ نبی رحمت ﷺ کل کے لئے کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار ایک خاتون نے حاشیہ دار چادر
اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے حضور ﷺ کو پیش کی تاکہ آپ ﷺ زیب تن فرمائیں۔ آپ ﷺ اسے
گھر سے بطور تہبند باندھ کر باہر تشریف لائے ۔ فوراً ایک اعرابی نے آپ ﷺسے وہ چادر
مانگ لی۔ آپ ﷺ دوبارہ کا شانہ اقدس میں گئے۔ وہاں سے تہ کر کے یہ چادر اعرابی کو
بھیج دی۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ آپ ﷺ کو چادر کی ضرورت تھی تم نے کیوں سوال کیا ۔
کیا تمہیں خبر نہیں کہ آپ ﷺ سوال کو رد نہیں کرتے۔ اعرابی نے کہا واللہ میں نے
باندھنے کے لئے نہیں بلکہ اپنے کفن کے لیے مانگی تھی تا کہ اس کی برکت سے عذاب قبر
سے نجات پاؤں ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم جب بھی آپ ﷺکی تعریف کرتے تو سخاوت
کا ذکر ضرور کرتے اور کہتے كَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ كَفَّا یعنی
آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے عطیہ دینے میں سب لوگوں سے زیادہ جواد و کریم تھے۔ غزوہ حنین کے
مال غنیمت کو آپ نے جس طرح نو مسلم غازیوں اور مجاہدوں کے علاوہ ضرورتمند سائلوں میں
لٹا یا وہ تاریخ جو دو کرم کا ایک تابناک اور سنہری باب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ
وہ شمع رسالت کے پروانے بن گئے۔ اس غزوہ سے واپسی پر بہت سے بدوی آپ کے گرد جمع ہو
گئے ۔ آپ ﷺ ان کو عطا کرتے رہے مگر وہ مانگتے مانگتے آپ ﷺسے لپٹ گئے اور اس کشمکش
میں آپ ﷺ کی چادر بھی گلے میں اُلجھ گئی مگر آپ ﷺ ناراض نہیں ہوئے ۔ یہی کہا کہ میری
چادر تو چھوڑ دو۔ بخدا اگر اس جنگل کے درختوں کے برابر بھی اونٹ میرے پاس ہوتے تو
سب تم میں بانٹ دیتا۔ پھر تم مجھے نہ بخیل پاتے نہ جھوٹا اور بزدل
آپ ﷺ کے
جو دوسخا کے واقعات سے سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ جتنے واقعات چاہیں جمع کئے
جاسکتے ہیں کیونکہ آپ ﷺ کے ابر کرم کی گہر باری کسی موسم اور موقع کی منتظر نہیں
رہتی تھی بلکہ وہ فیاض ازل کی بخشش کی ایک مثال تھی کہ ہمیشہ اور ہر حال میں جاری
رہتی تھی۔ انتہا یہ ہے کہ جب آپ ﷺ مرض وصال میں تھے آپ ﷺکے پاس کچھ دینار آئے آپ ﷺنے
سب اُسی وقت تقسیم کر دیئے۔ صرف چھ باقی رہ گئے وہ بعض امہات المومنین کو دے دیئے
مگر آپ ﷺکو نیند نہ آئی یہاں تک کہ آپ ﷺ نے پوچھا میں نے وہ چھ دینار کیا کئے۔ کہا
گیا آپ ﷺنے فلاں فلاں ازواج مطہرات کو دیئے ہیں۔ آپ ﷺنے فوراً منگوا کر تقسیم کر دیئے
اور پھر اطمینان کا سانس لیا۔ تاہم یہ بات ملحوظ خاطر رکھنی چاہئے کہ آپ کی تعلیم
کا یہ جو دوسخا بے جا نہیں تھا ۔اُس وقت مہاجرین تو بالعموم غریب اور نادار تھے جن
کا سب کچھ مکہ میں رہ گیا تھا۔ رہے انصار تو وہ بھی سود خور یہودی تاجروں کی اجارہ
داری کے باعث زیادہ مالدار نہ تھے۔ عربوں کی روایتی حمیت و شرافت اُس پر رسول اللہ
ﷺ کی صحبت وتربیت وہاں سوائے بعض بدویوں
کے کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ بے ضرورت زمرہ سائلین میں شمولیت کی عار گوارا کرے ۔
آپ ﷺ کے پاس ضرورت مند ہی آتے تھے جن کی آپ ﷺ بے دریغ اعانت و دستگیری فرماتے۔ نیز
اس سے یہ بھی نہیں سمجھنا چاہے کہ عام مسلمانوں کے لئے بھی یہی حکم ہے کہ سب کچھ
راہ خدا میں لٹا دیں۔ ظاہر ہے عام شخص ایسے تو کل کے مقام پر فائز نہیں ہو سکتا۔
اسی لئے کلام مجید میں یہ حکم فرمایا گیا کہ تو اپنے ہاتھ بخل کے باعث گردن سے باندھ لو اور نہ پوری طرح کھلے
چھوڑ دو کہ بعد میں خود ملامت خوردہ اور حسرت زدہ بیٹھ رہو یعنی انفاق فی سبیل
اللہ میں عام مسلمان کو مناسب اعتدال سے کام لینا چاہئیے ۔ اللہ تعالیٰ توفیق
ارزانی کرے۔آمین
فقیر اسرار محی الدین


ماشاء اللہ
جواب دیںحذف کریں