بدھ، 18 مارچ، 2026

شب قدر کی فضیلت

 

لیلۃ القدر کی فضیلت سورۃ القدرکی روشنی میں

سورت القدر مکی ہے اس میں پانچ آیات ہیں ابو حیان کاقول ہے کہ مدنی ہے اور واحدی نے کھا ہے کہ مدینہ میں اول اترنے والی یہی سورت القدر ہے اور سیوطی نے الاتقان میں نقل کیا ہے کہ اکثر علماء کے نزدیک مکی ہے اور بعض نے اسے مدنی کہا ہے اور ترمذی کی ایک روایت سے اس پراستدلال کیا ہے جوکہ غریب اور منکر ہے۔ ابن جریرنے مجاہد سے نقل کیا ہےکہ بنی اسرائیل سے ایک شخص تھا جس نے ایک ہزار مہینے تک پیہم راتوں کو صبح ہونے تک نمازیں پڑھیں اور صبح سے شام تک مصروف جہاد رہا اس پر اصحاب کو تعجب اور رشک ہوا تو سورت القدر اتری امام مالک نے موطا میں مرسلاً روایت کیا ہے کہ امت محمدیہ کی عمریں قلیل تھیں اور دوسری امتوں کے برابر اعمال اُن سے نہ ہو سکتے تھے کہ ان امتوں کی عمریں زیادہ تھیں تو اللہ نے اہل ایمان کی دلجوئی کے لیے شب قدر انعام فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے محمد بن نصر نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ انها تعدل ربع القرآن سورت القدر ایک چو تھائی قرآن کے برابر ہے اور اکثر شوافع کا قول ہے کہ وضو کے بعد اس سورت کی قرأت مسنون ہے۔ اور بعض علماء کے نزدیک وضو کے بعد تین مرتبہ پڑھے۔ اور اس سورت کی مناسبت پچھلی سورت سے یہ ہے کہ اس میں قرآت قرآن کا حکم ہے اور اس میں گویا اس حکم کے لیے تعلیل ہے کہ قرآن عظیم کی تلاوت کرو کہ جو عظیم قدر و منزلت اور عظمت والا کلام ہے اور خطبابی کا قول ِباری انا انزلناہ میں قول باری اقراء بسم  ربک کی طرف اشارہ ہے اور اسی وجہ سے پچھلی سورت سے متاخر ہے ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ(۱) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ(۲) لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔ بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا ۔ اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر شب قدر ہزار

مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳) تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْۚ-مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ(۴) سَلٰمٌ ﱡ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠(۵)

مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں (ف۵) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے (ف۶) وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک (ف۷)

مختصر تفسیر

ٰ جمہور علماء مفسرین کے نزدیک انزلناہ کی ضمیر قرآن حکیم کی طرف راجع ہے اور ضمیر غائب قرآن کی عظمت شان کے اظہار کے لیے ہے اور نزول کی نسبت نازل کرنے والے حق سبحانہ وتعالیٰ کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے اور بعض نے (ہ)ضمیر غائب سے مراد جبریل عليه السلام کو لیا ہے في لَيْلَةِ الْقَدْرِ شب قدر میں ۔

زہری کا قول ہے کہ اس رات کی بزرگی اور عظمت و فضیلت کی وجہ سے اسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے قدر کے معنی عزت و شرف کے ہیں اور اس سے واضح ہے کہ نزول قرآن کا وقت بھی بڑی عظمت والا ہے۔ حسین بن فضل کا قول ہے کہ وہ امور جو آئندہ سال ہونے میں مقدر ہو چکے اس رات میں ملائکہ اور کارکنان قضاء و قدر کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں جبکہ عکرمہ کا قول ہے کہ ایسا پندرہ شعبان کو (شب برات )کو ہوتا ہے۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ شب برات (پندرہ شعبان المعظم ) کو تمام احکام کو تفویض کر دیا جاتا ہے بغوی سے منقول ہے کہ لیلۃ القدر کو لیلۃ القدر کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس شب میں اللہ کے نزدیک نیک کاموں اور عبادات و طاعات کا ثواب بہت زیادہ ہے اور عند اللہ ان کی قدر و قیمت بھی بہت عظیم ہے۔ سیوطی نے الاتقان میں نقل کیا ہے کہ شب قدر میں نزول قرآن کا مطلب یہ ہے کہ قرآن حکیم جولیلۃ المبارکہ (پندرہ شعبان )میں پورے کا پوراآسمانِ دنیا کے بیت العزت میں اتارا گیا تھا وہ شب قدر میں حضور اکرم ﷺپر نجماً نجماً اتارا کیا گیا یعنی قرآن کا نزول سابقہ کتب کی طرح یکبارگی پندرہ شعبان کو ہوا اور لیلۃ القدر میں ضرورت کے مطابق نزول کا آغاز ہوا۔ لیلۃ القدر کا تعین و تفصیل آگے ذکر ہو گی ۔

(وَمَا أَدْر لَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر

لما فيه من الدلالة على ان علوها خارج عن دائرة دراية الخلق لا يعلم ذلك ولا علام الغيوب یعنی اس رات میں اس کی جو عظمت و فخامت شان پر دلالت کرتی ہے مخلوق کی درایت و عقل کے دائرہ سے بلند و بالا ہے اور عقل کی رسائی اس تک نہیں نے اس کی عظمت نہ کسی کو معلوم ہے اور نہ جانی جا سکتی ہے سوا ئے حق سبحانہ و تعالیٰ کے جو جملہ غیوب کا داناہے ۔ ایک قول ہے کہ دونوں جگہ " ما " استفهام انکاری ہے اور مقصود عظمت کا اظہار ہے۔

ليْلَةُ الْقَدْرِ خیرٌ نم الف شہر( شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے )

لیلتہ القدر ماه رمضان کے ساتھ ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں تصریح ہے شہر رمضان الذی انزل فية یہ مہینہ رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن حکیم اتارا گیا اور انا انزلناه في ليلية القدر اور بے شک ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا دونوں آیات سے واضح ہے کہ لیلتہ القدر ماه رمضان ہی کی ایک رات ہے اور غیر رمضان میں بھی لیکن یہ قول درست نہیں ۔ علماء کا قول ہے کہ شب قدر رمضان میں بھی ہوتی ہے اور غیر رمضان میں بھی لیکن یہ قول درست نہیں ہے ۔

امام احمد ، بخاری مسلم اور ترمذی نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ سول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ تم لیلۃ القدر کو ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ لہذا لیلتہ القدر ماه رمضان ہی کی ایک رات ہے ، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ک نبی اکرم ﷺ نے شعبان المعظم کی آخری تاریخ کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا لوگو تمہارے پاس ایسا با عظمت مہینہ آرہا ہے اور یہ برکت والا مہینہ ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس حدیث سے بھی لیلۃ القدر کا شہر رمضان سے خاص ہو نا واضح ہے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا یہی مذہب ہے۔ لیلۃ القدر کے تعیین کے بارے میں ۔

بخاری ومسلم میں ہے کہ جس شخص نے ایمان و اخلاص کے ساتھ اس رات میں جا گا اور عبادت کی اللہ اس کے سال بھر کے گناہ بخش دیتا ہے یا اُس کے پچھلے سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ یہ رات دعا کے لیے بھی خاص اجابت رکھتی ہے حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ  سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر مل جائے تو میں کیا کہوں ارشاد فرمایا تم کہو اللهم انك عفو تحب العفو فاعف عنى (بخاری)

خَيْرٌ مِنَ الْفِ شَهرٍ  ہزار مہینوں سے بہتر

عبادت کے اعتبار سے جیسا کہ اکثر علماء کا قول ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں عبادت دوسرے ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اس ی بہتری کی مقدار کا اندازہ یا علم  نہیں ہو سکتا مگر ایسا اللہ ہی کو معلوم ہے کہ وہ عبادات کس مرتبہ اور فضیلت کی ہیں اور انکی عظمت خیر کا کیا درجہ ہے یہ لیلۃ القدر کی پہلی صفت یا فضیلت ہے ۔

 

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْۚ-مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ(۴) سَلٰمٌ ﱡ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠(۵)۔اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔

 یہ جملہ لیلۃ القدر کی دوسری فضیلت کا بیان ہے یا پھر خیر من الف شہر کی علت ہے ۔ اور جمہور کے نزدیک الروح سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں اور یہاں ان کا ذکر بطور خاص ان کی عظمت و شرف کے اظہار کے لیے ہے اس کے ساتھ کہ وہ ذکر کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔ جب کہ ایک قول ہے کہ الروح ایک عظیم فرشتہ ہے جو زمین و آسمانوں کو نگل لے تو وہ اس کے لیے ایک لقمہ کے برابر ہو اور اور التیسیت میں اس کے اوصاف کا ایسا ذکر ہے جو عقل کو حیران کرنے والا ہے ۔کعب اور مقاتل کا قول ہے کہ الروح فرشتوں کا ایک گردہ ہے جنہیں فرشتے بھی اس رات کے سوا نہیں دیکھتے وہ ان زاہدوں جیسے ہیں جنہیں بجز یوم العبد اور یوم الجمعہ کے نہیں دیکھا جاتا ۔ ایک قول ہے کہ الروح سے مراد فرشتوں پر نگہباں فرشتوں کا گروہ ہے جیسے ہم پر نگہبان فرشتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اللہ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے جو کھاتے پہنتے ہیں مگر نہ ہی فرشتے ہیں اور نہ ہی انسانوں میں سے ہیں اور اللہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے اور تیرے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ہوں بعض لوگوں کا کہنا ہے شائد وہ اہل جنت کے خدام ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ الروح سے مرادر حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جو اس امت کے مطالعہ و مشاہدہ کے لیے اترتے ہیں اور اس لیے بھی کہ نبی اکرم ﷺ کی زیارت کریں ۔ ایک قول ہے کہ مراد اہل ایمان کی ارواح ہیں جو اہل خانہ کی زیارت کے لیے اترتے ہیں ۔

غنية الطالبین میں قطب ربانی عوث صمدانی شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ جب لیلتہ القدر ہوتی ہے حق سبحانہ و تعالیٰ جبریل علیہ السلام کو زمین پر اترنے کا حکم فرماتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ سدرۃ المنتہیٰ کے ساتوں (فرشتوں) کے ساتھ زمین پراترتے ہیں جن کی تعدا د ستر ہزار ہوتی ہے جن کے پاس نور کے جھنڈے ہوتے ہیں پھر جب وہ زمین پر اترپڑتے ہیں تو جبریل علیہ السلام اپنے جھنڈے اور فرشتے (علیہم السلام ) اپنے اپنے جھنڈوں کو چار مقامات پر نصب کرتے ہیں کعبہ کے قریب، روضہ النبی ﷺ کے پاس مسجد بیت المقدس اور مسجد طور سیناء کے نزدیک پھر جبریل علیہ السلام ان فرشتوں سے کہتے ہیں پھیل جاؤ تو وہ پھیل جاتے ہیں اور کوئی گھر، کوئی پتھر، کوئی مکان اور کوئی کشتی باقی نہیں رہتی کہ اس میں مومن مرد یا عورت ہو کہ اس میں ملائکہ علیہم السلام داخل نہ ہوں سوائے اس گھر کے جس میں کتا یا خنزیر یا شراب یا فعل حرام کا مرکب جنبی یا بتوں کی تصاویر و مجسمے وغیرہ ہوں یعنی اُن میں داخل نہیں ہوتے ۔ تو وہ اللہ کی تسبیح کہتے ہیں اس کی پاکی بولتے ہیں اور تہلیل کہتے ہیں ( لا اله الا الله ) کا ذکر کرتے ہیں اور امت محمد ﷺ کے لیے بخشش مانگتے ہیں یہاں تک کہ صبح چمکتی ہے پھر وہ آسمانوں کی طرف چڑھ جاتے ہیں تو آسمان ِ دنیا والے ان کا استقبال کرتے ہیں تو آسمان دنیا کے رہنے والے ان سے کہتے ہیں کہ تم کہاں سے آرہے ہو تو وہ کہتے ہیں ہم دنیا میں تھے کیونکہ محمد ﷺ کے لیے وہ رات یعنی لیلتہ القدر تھی تو وہ ساکنان آسمان دنیا کہتے ہیں تو اللہ کریم نے امت محمدیہ کی ضرورتوں کے ساتھ کیا فرمایا تو جبریل علیہ السلام فرماتے میں اللہ نے ان کے نیکو کاروں کو بخش دیا اور ان کے گناہ گاروں کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی تو آسمان دنیا کے فرشتے بلند آوازوں سے جہانوں کے پروردگار کی تسبیح و تقدیس اور تعریف کرتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے اس امت کے لیے عطا فرمایا ۔ اور یونہی سارے آسمانوں اور اہل جنت بھی دعا فرماتے ہیں۔ اور عرش بھی یونہی فرماتا ہے پھر حق سبحانہ و تعالیٰ اس امر کی تصدیق فرماتا ہے کہ میرے نزدیک است محمد یہ ﷺ کے لیے بڑے انعامات و ہیں جنہیں نہ کسی کان نے سنا نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور کسی دل پر اس کا خطرہ گزرا

باذن ربھم (اپنے رب کے حکم ہے

یہ فرشتوں کے اترنے سے متعلق ہے ای با مره عز وجل یعنی جبریل اور فرشتے بحکم پروردگار اترتے ہیں یہ ان کے اترنے کے حکم کے بارے میں بطور تعظیم کے اظہار کے لیے ہے ۔ ایک قول ہے کہ جس طرح حجاج کرام زیارت مکۃالمکرمہ کے لیے جاتے ہیں تاکہ ثواب و طاعات کی کثرت کا حصول اور شعائر اللہ کی زیارت یقین و ادراک برکت و تسکین ملے یونہی فرشتے لیلۃ القدر میں زمین میں اترتے ہیں کہ اللہ نے مومنین کے لیے زمین میں اپنی طاعات و عبادات میں مشغول ہونے کی فضیلت اس مقدس رات میں رکھی ہے اور آسمانوں میں رات ہوتی ہی نہیں تو فرشتوں کا نزول اس خیر و برکت کے ادراک و مشاہدہ کے لیے ہے ۔

سفیان ثوری کا قول ہے الدعا في تلك الليلة احب من الصلوة  اس رات میں نماز کی نسبت دعا زیادہ پسندیدہ امر ہے پھر فرمایا تلاوت قرآن (خواہ مطلق ہو یا نوافل میں) کےبعد اگر دعا مانگے توبہت ہی بہتر ہے اور نبی کریم ﷺ ان راتوں میں خوب مجاہدہ فرمانے اور ترتیل کے ساتھ قرآت فرماتے اور آیات رحمت پر بن مانگے نہ گزرتے اور یونہی آیات رحمت پر مغفرت مانگتے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا ان واقف ليلة القدر رفعااقول قال قولى اللهم انك عفو تحب العفو فاعف عنى ويجتهد فيها بانواع العبادات من صلوة وغيرها ۔ اگرمیں لیلتہ القدر پاوں تو میں کیا کہوں ارشاد ہو تم کہو اے پروردگار تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو محبوب رکھتا ہے پس مجھ سے درگزر فرما اور اس میں نمازہ وغیرہ مختلف عبادتوں میں (ذکر وغیرہ) خوب کوشش کرو۔

فقیر محمد اسرار محی الدین قادری

1 تبصرہ:

خوش آمید۔
ہمارا مقصد دین اسلام کی ترویج ہے