جمعرات، 19 مارچ، 2026

عید الفطر کیسے منائیں


 

عید الفطر

الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، ونشھد أن سیدنا ومولانا محمدًا عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرًا ونذیرًا، وداعیًا إلى اللہ بإذنہ وسراجًا منیرًا، اللهم صل وسلم وبارک على سیدنا محمد وعلى آلہ وأصحابہ أجمعین۔اما بعد!

معزز و مکرام دوستو! آج کا ہمارا موضوع ہے:

اے ایمان والو! آج ہم ایک عظیم مہینے رمضان المبارک کو الوداع کہہ کر عید الفطر کی خوشیوں میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ دن محض خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان بندوں کے لیے انعام کا دن ہے جنہوں نے رمضان میں روزے رکھے، قیام کیا، قرآن کی تلاوت کی، اور اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کیا۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ"یعنی تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس ہدایت پر جو اس نے تمہیں دی، اور تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔

یہ آیت ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ عید کا مقصد اللہ کی کبریائی بیان کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا ہے، نہ کہ محض دنیاوی لذتوں میں کھو جانا۔

محترم بھائیو! رمضان المبارک دراصل ایک تربیتی کورس تھا۔ اس میں ہمیں صبر سکھایا گیا، تقویٰ سکھایا گیا، اپنے نفس پر قابو پانا سکھایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"
(بخاری و مسلم)جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس تربیت سے کچھ حاصل کیا؟ کیا ہماری زندگیوں میں کوئی تبدیلی آئی؟ اگر رمضان گزر گیا اور ہم ویسے کے ویسے ہی رہے، تو پھر ہمیں اپنی فکر کرنی چاہیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں فرمایا:"رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ"
(ابن ماجہ) کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
لہٰذا ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارا روزہ ہمیں کہاں لے کر گیا؟ کیا اس نے ہمیں گناہوں سے روکا؟ کیا اس نے ہمیں اللہ کے قریب کیا؟کیا ہم نے تقویٰ اختیار کیا ؟ کیا ہم نے سائلوں و فقراء کے لیے اپنے مال کو کھولا؟

اے مسلمانو! عید الفطر دراصل کامیابی کا اعلان ہے، لیکن یہ کامیابی صرف اسی کے لیے ہے جس نے رمضان کی روح کو سمجھا ہو۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں، اور ہماری اصل کامیابی اسی کی اطاعت میں ہے۔

اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خوشی کا اظہار بھی اللہ کی حدود کے اندر رہ کر کرنے کی تعلیم دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدٌ وَهَذَا عِيدُنَا"(بخاری)ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔یعنی یہ عید ایک اسلامی تہوار ہے، جس کی اپنی حدود اور اپنی روح ہے۔

محترم حاضرین! عید الفطر کا ایک اہم پہلو صدقہ فطر بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ"(ابو داؤد)یعنی صدقہ فطر روزہ دار کو پاک کرتا ہے اور مسکینوں کے لیے کھانے کا ذریعہ بنتا ہے۔اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عید کی خوشیوں میں غریبوں کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔

اے ایمان والو! عید کا دن اخوت و محبت کا دن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف کریں، کینہ اور بغض کو ختم کریں، اور ایک دوسرے کو معاف کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا"(مسلم)آپس میں حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، بلکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا: أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ"(طبرانی)اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ شخص ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو۔لہٰذا عید کے دن ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، خوشیاں بانٹیں، اور معاشرے میں محبت کو فروغ دیں۔

محترم بھائیو! عید کا دن ہمیں یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ ہم اپنی عبادات کو جاری رکھیں۔ رمضان کے بعد عبادت چھوڑ دینا ایک بہت بڑی محرومی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ"(بخاری)اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم نمازوں کی پابندی جاری رکھیں، قرآن کی تلاوت کو معمول بنائیں، اور اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں۔

آخر میں! ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں رمضان کی برکتوں کو اپنی زندگیوں میں برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری عبادات کو قبول فرمائے، اور ہمیں حقیقی معنوں میں عید کی خوشیاں نصیب فرمائے۔

اللهم تقبل منا صيامنا وقيامنا، واجعلنا من عتقائك من النار، واجعل عيدنا هذا عيد خير وبركة، وأعده علينا أعوامًا عديدة وأزمنة مديدة ونحن في خير وعافية۔

عباد اللہ! آج کے دن اپنے دلوں کو صاف کریں، اپنے رب کا شکر ادا کریں، اور یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق گزاریں گے۔ یہی عید الفطر کا حقیقی پیغام ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

Read more ...

بدھ، 18 مارچ، 2026

شب قدر کی فضیلت

 

لیلۃ القدر کی فضیلت سورۃ القدرکی روشنی میں

سورت القدر مکی ہے اس میں پانچ آیات ہیں ابو حیان کاقول ہے کہ مدنی ہے اور واحدی نے کھا ہے کہ مدینہ میں اول اترنے والی یہی سورت القدر ہے اور سیوطی نے الاتقان میں نقل کیا ہے کہ اکثر علماء کے نزدیک مکی ہے اور بعض نے اسے مدنی کہا ہے اور ترمذی کی ایک روایت سے اس پراستدلال کیا ہے جوکہ غریب اور منکر ہے۔ ابن جریرنے مجاہد سے نقل کیا ہےکہ بنی اسرائیل سے ایک شخص تھا جس نے ایک ہزار مہینے تک پیہم راتوں کو صبح ہونے تک نمازیں پڑھیں اور صبح سے شام تک مصروف جہاد رہا اس پر اصحاب کو تعجب اور رشک ہوا تو سورت القدر اتری امام مالک نے موطا میں مرسلاً روایت کیا ہے کہ امت محمدیہ کی عمریں قلیل تھیں اور دوسری امتوں کے برابر اعمال اُن سے نہ ہو سکتے تھے کہ ان امتوں کی عمریں زیادہ تھیں تو اللہ نے اہل ایمان کی دلجوئی کے لیے شب قدر انعام فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے محمد بن نصر نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ انها تعدل ربع القرآن سورت القدر ایک چو تھائی قرآن کے برابر ہے اور اکثر شوافع کا قول ہے کہ وضو کے بعد اس سورت کی قرأت مسنون ہے۔ اور بعض علماء کے نزدیک وضو کے بعد تین مرتبہ پڑھے۔ اور اس سورت کی مناسبت پچھلی سورت سے یہ ہے کہ اس میں قرآت قرآن کا حکم ہے اور اس میں گویا اس حکم کے لیے تعلیل ہے کہ قرآن عظیم کی تلاوت کرو کہ جو عظیم قدر و منزلت اور عظمت والا کلام ہے اور خطبابی کا قول ِباری انا انزلناہ میں قول باری اقراء بسم  ربک کی طرف اشارہ ہے اور اسی وجہ سے پچھلی سورت سے متاخر ہے ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ(۱) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ(۲) لَیْلَةُ الْقَدْرِ ﳔ خَیْرٌ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔ بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا ۔ اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر شب قدر ہزار

مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ(۳) تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْۚ-مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ(۴) سَلٰمٌ ﱡ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠(۵)

مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں (ف۵) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے (ف۶) وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک (ف۷)

مختصر تفسیر

ٰ جمہور علماء مفسرین کے نزدیک انزلناہ کی ضمیر قرآن حکیم کی طرف راجع ہے اور ضمیر غائب قرآن کی عظمت شان کے اظہار کے لیے ہے اور نزول کی نسبت نازل کرنے والے حق سبحانہ وتعالیٰ کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے اور بعض نے (ہ)ضمیر غائب سے مراد جبریل عليه السلام کو لیا ہے في لَيْلَةِ الْقَدْرِ شب قدر میں ۔

زہری کا قول ہے کہ اس رات کی بزرگی اور عظمت و فضیلت کی وجہ سے اسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے قدر کے معنی عزت و شرف کے ہیں اور اس سے واضح ہے کہ نزول قرآن کا وقت بھی بڑی عظمت والا ہے۔ حسین بن فضل کا قول ہے کہ وہ امور جو آئندہ سال ہونے میں مقدر ہو چکے اس رات میں ملائکہ اور کارکنان قضاء و قدر کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں جبکہ عکرمہ کا قول ہے کہ ایسا پندرہ شعبان کو (شب برات )کو ہوتا ہے۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ شب برات (پندرہ شعبان المعظم ) کو تمام احکام کو تفویض کر دیا جاتا ہے بغوی سے منقول ہے کہ لیلۃ القدر کو لیلۃ القدر کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس شب میں اللہ کے نزدیک نیک کاموں اور عبادات و طاعات کا ثواب بہت زیادہ ہے اور عند اللہ ان کی قدر و قیمت بھی بہت عظیم ہے۔ سیوطی نے الاتقان میں نقل کیا ہے کہ شب قدر میں نزول قرآن کا مطلب یہ ہے کہ قرآن حکیم جولیلۃ المبارکہ (پندرہ شعبان )میں پورے کا پوراآسمانِ دنیا کے بیت العزت میں اتارا گیا تھا وہ شب قدر میں حضور اکرم ﷺپر نجماً نجماً اتارا کیا گیا یعنی قرآن کا نزول سابقہ کتب کی طرح یکبارگی پندرہ شعبان کو ہوا اور لیلۃ القدر میں ضرورت کے مطابق نزول کا آغاز ہوا۔ لیلۃ القدر کا تعین و تفصیل آگے ذکر ہو گی ۔

(وَمَا أَدْر لَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر

لما فيه من الدلالة على ان علوها خارج عن دائرة دراية الخلق لا يعلم ذلك ولا علام الغيوب یعنی اس رات میں اس کی جو عظمت و فخامت شان پر دلالت کرتی ہے مخلوق کی درایت و عقل کے دائرہ سے بلند و بالا ہے اور عقل کی رسائی اس تک نہیں نے اس کی عظمت نہ کسی کو معلوم ہے اور نہ جانی جا سکتی ہے سوا ئے حق سبحانہ و تعالیٰ کے جو جملہ غیوب کا داناہے ۔ ایک قول ہے کہ دونوں جگہ " ما " استفهام انکاری ہے اور مقصود عظمت کا اظہار ہے۔

ليْلَةُ الْقَدْرِ خیرٌ نم الف شہر( شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے )

لیلتہ القدر ماه رمضان کے ساتھ ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں تصریح ہے شہر رمضان الذی انزل فية یہ مہینہ رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن حکیم اتارا گیا اور انا انزلناه في ليلية القدر اور بے شک ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا دونوں آیات سے واضح ہے کہ لیلتہ القدر ماه رمضان ہی کی ایک رات ہے اور غیر رمضان میں بھی لیکن یہ قول درست نہیں ۔ علماء کا قول ہے کہ شب قدر رمضان میں بھی ہوتی ہے اور غیر رمضان میں بھی لیکن یہ قول درست نہیں ہے ۔

امام احمد ، بخاری مسلم اور ترمذی نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ سول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ تم لیلۃ القدر کو ماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ لہذا لیلتہ القدر ماه رمضان ہی کی ایک رات ہے ، سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ک نبی اکرم ﷺ نے شعبان المعظم کی آخری تاریخ کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا لوگو تمہارے پاس ایسا با عظمت مہینہ آرہا ہے اور یہ برکت والا مہینہ ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس حدیث سے بھی لیلۃ القدر کا شہر رمضان سے خاص ہو نا واضح ہے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا یہی مذہب ہے۔ لیلۃ القدر کے تعیین کے بارے میں ۔

بخاری ومسلم میں ہے کہ جس شخص نے ایمان و اخلاص کے ساتھ اس رات میں جا گا اور عبادت کی اللہ اس کے سال بھر کے گناہ بخش دیتا ہے یا اُس کے پچھلے سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ یہ رات دعا کے لیے بھی خاص اجابت رکھتی ہے حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ  سے پوچھا کہ اگر مجھے لیلۃ القدر مل جائے تو میں کیا کہوں ارشاد فرمایا تم کہو اللهم انك عفو تحب العفو فاعف عنى (بخاری)

خَيْرٌ مِنَ الْفِ شَهرٍ  ہزار مہینوں سے بہتر

عبادت کے اعتبار سے جیسا کہ اکثر علماء کا قول ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں عبادت دوسرے ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اس ی بہتری کی مقدار کا اندازہ یا علم  نہیں ہو سکتا مگر ایسا اللہ ہی کو معلوم ہے کہ وہ عبادات کس مرتبہ اور فضیلت کی ہیں اور انکی عظمت خیر کا کیا درجہ ہے یہ لیلۃ القدر کی پہلی صفت یا فضیلت ہے ۔

 

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْۚ-مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ(۴) سَلٰمٌ ﱡ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠(۵)۔اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔

 یہ جملہ لیلۃ القدر کی دوسری فضیلت کا بیان ہے یا پھر خیر من الف شہر کی علت ہے ۔ اور جمہور کے نزدیک الروح سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں اور یہاں ان کا ذکر بطور خاص ان کی عظمت و شرف کے اظہار کے لیے ہے اس کے ساتھ کہ وہ ذکر کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔ جب کہ ایک قول ہے کہ الروح ایک عظیم فرشتہ ہے جو زمین و آسمانوں کو نگل لے تو وہ اس کے لیے ایک لقمہ کے برابر ہو اور اور التیسیت میں اس کے اوصاف کا ایسا ذکر ہے جو عقل کو حیران کرنے والا ہے ۔کعب اور مقاتل کا قول ہے کہ الروح فرشتوں کا ایک گردہ ہے جنہیں فرشتے بھی اس رات کے سوا نہیں دیکھتے وہ ان زاہدوں جیسے ہیں جنہیں بجز یوم العبد اور یوم الجمعہ کے نہیں دیکھا جاتا ۔ ایک قول ہے کہ الروح سے مراد فرشتوں پر نگہباں فرشتوں کا گروہ ہے جیسے ہم پر نگہبان فرشتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اللہ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے جو کھاتے پہنتے ہیں مگر نہ ہی فرشتے ہیں اور نہ ہی انسانوں میں سے ہیں اور اللہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے اور تیرے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ہوں بعض لوگوں کا کہنا ہے شائد وہ اہل جنت کے خدام ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ الروح سے مرادر حضرت عیسی علیہ السلام ہیں جو اس امت کے مطالعہ و مشاہدہ کے لیے اترتے ہیں اور اس لیے بھی کہ نبی اکرم ﷺ کی زیارت کریں ۔ ایک قول ہے کہ مراد اہل ایمان کی ارواح ہیں جو اہل خانہ کی زیارت کے لیے اترتے ہیں ۔

غنية الطالبین میں قطب ربانی عوث صمدانی شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ جب لیلتہ القدر ہوتی ہے حق سبحانہ و تعالیٰ جبریل علیہ السلام کو زمین پر اترنے کا حکم فرماتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ سدرۃ المنتہیٰ کے ساتوں (فرشتوں) کے ساتھ زمین پراترتے ہیں جن کی تعدا د ستر ہزار ہوتی ہے جن کے پاس نور کے جھنڈے ہوتے ہیں پھر جب وہ زمین پر اترپڑتے ہیں تو جبریل علیہ السلام اپنے جھنڈے اور فرشتے (علیہم السلام ) اپنے اپنے جھنڈوں کو چار مقامات پر نصب کرتے ہیں کعبہ کے قریب، روضہ النبی ﷺ کے پاس مسجد بیت المقدس اور مسجد طور سیناء کے نزدیک پھر جبریل علیہ السلام ان فرشتوں سے کہتے ہیں پھیل جاؤ تو وہ پھیل جاتے ہیں اور کوئی گھر، کوئی پتھر، کوئی مکان اور کوئی کشتی باقی نہیں رہتی کہ اس میں مومن مرد یا عورت ہو کہ اس میں ملائکہ علیہم السلام داخل نہ ہوں سوائے اس گھر کے جس میں کتا یا خنزیر یا شراب یا فعل حرام کا مرکب جنبی یا بتوں کی تصاویر و مجسمے وغیرہ ہوں یعنی اُن میں داخل نہیں ہوتے ۔ تو وہ اللہ کی تسبیح کہتے ہیں اس کی پاکی بولتے ہیں اور تہلیل کہتے ہیں ( لا اله الا الله ) کا ذکر کرتے ہیں اور امت محمد ﷺ کے لیے بخشش مانگتے ہیں یہاں تک کہ صبح چمکتی ہے پھر وہ آسمانوں کی طرف چڑھ جاتے ہیں تو آسمان ِ دنیا والے ان کا استقبال کرتے ہیں تو آسمان دنیا کے رہنے والے ان سے کہتے ہیں کہ تم کہاں سے آرہے ہو تو وہ کہتے ہیں ہم دنیا میں تھے کیونکہ محمد ﷺ کے لیے وہ رات یعنی لیلتہ القدر تھی تو وہ ساکنان آسمان دنیا کہتے ہیں تو اللہ کریم نے امت محمدیہ کی ضرورتوں کے ساتھ کیا فرمایا تو جبریل علیہ السلام فرماتے میں اللہ نے ان کے نیکو کاروں کو بخش دیا اور ان کے گناہ گاروں کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی تو آسمان دنیا کے فرشتے بلند آوازوں سے جہانوں کے پروردگار کی تسبیح و تقدیس اور تعریف کرتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے اس امت کے لیے عطا فرمایا ۔ اور یونہی سارے آسمانوں اور اہل جنت بھی دعا فرماتے ہیں۔ اور عرش بھی یونہی فرماتا ہے پھر حق سبحانہ و تعالیٰ اس امر کی تصدیق فرماتا ہے کہ میرے نزدیک است محمد یہ ﷺ کے لیے بڑے انعامات و ہیں جنہیں نہ کسی کان نے سنا نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور کسی دل پر اس کا خطرہ گزرا

باذن ربھم (اپنے رب کے حکم ہے

یہ فرشتوں کے اترنے سے متعلق ہے ای با مره عز وجل یعنی جبریل اور فرشتے بحکم پروردگار اترتے ہیں یہ ان کے اترنے کے حکم کے بارے میں بطور تعظیم کے اظہار کے لیے ہے ۔ ایک قول ہے کہ جس طرح حجاج کرام زیارت مکۃالمکرمہ کے لیے جاتے ہیں تاکہ ثواب و طاعات کی کثرت کا حصول اور شعائر اللہ کی زیارت یقین و ادراک برکت و تسکین ملے یونہی فرشتے لیلۃ القدر میں زمین میں اترتے ہیں کہ اللہ نے مومنین کے لیے زمین میں اپنی طاعات و عبادات میں مشغول ہونے کی فضیلت اس مقدس رات میں رکھی ہے اور آسمانوں میں رات ہوتی ہی نہیں تو فرشتوں کا نزول اس خیر و برکت کے ادراک و مشاہدہ کے لیے ہے ۔

سفیان ثوری کا قول ہے الدعا في تلك الليلة احب من الصلوة  اس رات میں نماز کی نسبت دعا زیادہ پسندیدہ امر ہے پھر فرمایا تلاوت قرآن (خواہ مطلق ہو یا نوافل میں) کےبعد اگر دعا مانگے توبہت ہی بہتر ہے اور نبی کریم ﷺ ان راتوں میں خوب مجاہدہ فرمانے اور ترتیل کے ساتھ قرآت فرماتے اور آیات رحمت پر بن مانگے نہ گزرتے اور یونہی آیات رحمت پر مغفرت مانگتے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا ان واقف ليلة القدر رفعااقول قال قولى اللهم انك عفو تحب العفو فاعف عنى ويجتهد فيها بانواع العبادات من صلوة وغيرها ۔ اگرمیں لیلتہ القدر پاوں تو میں کیا کہوں ارشاد ہو تم کہو اے پروردگار تو معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو محبوب رکھتا ہے پس مجھ سے درگزر فرما اور اس میں نمازہ وغیرہ مختلف عبادتوں میں (ذکر وغیرہ) خوب کوشش کرو۔

فقیر محمد اسرار محی الدین قادری

Read more ...

جمعرات، 12 مارچ، 2026

انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت

 

انفاق فی سبیل الله

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وَالصَّلَوَةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَبِاسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ عِنْدِي مِثْلُ احِدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَثَ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أَرْ صُدُهُ لِدَيْنِ - (رواه البخاري ومسلم) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو میری خوشی یہی ہوگی کہ میں اسے تین راتیں گزرنے سے قبل ہی راہ خدا میں خرچ کر دوں اور میرے پاس اس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہ جائے بجز اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ اسے امام بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث پاک سے آنحضرت ﷺ کی شانِ جو دو کرم اور انفاق فی سبیل اللہ کے شوق کا پتہ چلتا ہے۔ نیز ادائیگی قرض کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ صفت جو دو کرم سخاوت اور فیاضی میں کوئی شخص بھی صاحب خُلقِ عظیم نبی کریم ﷺ کی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتا۔ قرآن کریم کے ارشاد پاک وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تنهر پر عمل کرتے ہوئے آپ ﷺ نے کبھی کسی سائل کے جائز سوال کو رد نہیں فرمایا۔ حضرت جابر بن عبدالله انصاری رضی الله عنہ  کہتے ہیں۔ مَاسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ وَقَالَ لَا کہ نبی کریم ﷺ کبھی کسی سائل کے سوال کو "ناں“ کہہ کر رد نہیں فرماتے تھے۔ یہ صرف آپ کی تمنا ہی نہ تھی کہ احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو تو خرچ کر دوں بلکہ آپ نے بار ہا اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ بحرین کے عامل نے ایک بار آپ کی خدمت میں ایک لاکھ دس ہزار درہم بھیجے ۔ آپ کے پاس جو سائل آیا دیتے گئے یہاں تک کہ شام ہونے سے قبل سب تقسیم ہو گئے ۔ اسی طرح ایک مرتبہ نوے ہزار درہم پیش کئے گئے۔ حضور نے فرمایا ان کو چٹائی پر رکھ دو۔ آپ خود تقسیم کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ۔ جو آیا جھولی بھر کر دیا یہاں تک کہ وہ ختم ہو گئے ۔ اس کے بعد ایک سائل آیا اور دامن طلب پھیلایا۔ آپ نے فرمایا درہم تو ختم ہو گئے ۔ تم فلاں کے پاس جاؤ اور میرے نام پر قرض لے لو میں ادا کر دوں گا۔ فاروق اعظم رضی اللہ  عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرض لے کر دینے کا مکلف تو نہیں کیا ۔ نبی رحمت ﷺ کو یہ بات مناسب نہ لگی۔ ایک انصاری بھی وہاں حاضر تھے آپ ﷺ کے رخ انور کو دیکھ کر بولے يَا رَسُوْلَ اللهِ انْفِقْ وَلَا تَخَفْ مِنْ ذِي الْعَرْشِ اقْلَالًا اے الله کے رسول ﷺ خوب داد و دہش کیجئے اور مالک عرش کی طرف سے تنگ دستی کی فکرمت کیجئے۔ آپ اپنے غلام کی یہ بات سن کر مسکرائے اور خوشی کے آثار چہرہ انور پر آئے۔ فرمایا بهذا أُمِرْتُ مجھے یہی حکم ملا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کے مشہور ارشاد پاک وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَرْ پر عمل کرتے ہوئے آپ کسی سائل کے سوال کو کبھی رد نہیں فرماتے تھے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری علی کہتے ہیں مَاسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ . وَقَالَ لَا کہ نبی کریم ﷺکسی سائل کے جواب میں ”نہ نہیں کہتے تھے۔ آپ کی سخاوت اعلان نبوت سے قبل بھی زبان زد خاص و عام تھی۔ آغاز وحی میں جب آپ نے حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا کو تمام ماجرا سنایا تو انہوں نے کہا۔ كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيْكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرِّحْمَ وَتَحْمِلُ الْكُلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَکر نہ کریں اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بے آبرو نہ کرے گا کیونکہ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں بے سہاروں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں ناداروں کی ضروریات مہیا کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں آنے والے مصائب پر دستگیری فرماتے ہیں ۔

ایک بار حضرت عباس رضی اللہ عنع نے اپنے زیر بار ہونے کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اپنے سامنے پڑے ہوئے سونے چاندی کے ڈھیر سے انہیں اس قدر عطا فرمایا کہ وہ اُٹھا نہ سکے۔ بہت ۔

میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا                     دریا بہا دئے ہیں ڈربے بہا دئے ہیں

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ نبی  رحمت ﷺ کل کے لئے کچھ بچا کر نہیں رکھتے تھے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار ایک خاتون نے حاشیہ دار چادر اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے حضور ﷺ کو پیش کی تاکہ آپ ﷺ زیب تن فرمائیں۔ آپ ﷺ اسے گھر سے بطور تہبند باندھ کر باہر تشریف لائے ۔ فوراً ایک اعرابی نے آپ ﷺسے وہ چادر مانگ لی۔ آپ ﷺ دوبارہ کا شانہ اقدس میں گئے۔ وہاں سے تہ کر کے یہ چادر اعرابی کو بھیج دی۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ آپ ﷺ کو چادر کی ضرورت تھی تم نے کیوں سوال کیا ۔ کیا تمہیں خبر نہیں کہ آپ ﷺ سوال کو رد نہیں کرتے۔ اعرابی نے کہا واللہ میں نے باندھنے کے لئے نہیں بلکہ اپنے کفن کے لیے مانگی تھی تا کہ اس کی برکت سے عذاب قبر سے نجات پاؤں ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم جب بھی آپ ﷺکی تعریف کرتے تو سخاوت کا ذکر ضرور کرتے اور کہتے كَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ كَفَّا یعنی آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے عطیہ دینے میں سب لوگوں سے زیادہ جواد و کریم تھے۔ غزوہ حنین کے مال غنیمت کو آپ نے جس طرح نو مسلم غازیوں اور مجاہدوں کے علاوہ ضرورتمند سائلوں میں لٹا یا وہ تاریخ جو دو کرم کا ایک تابناک اور سنہری باب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شمع رسالت کے پروانے بن گئے۔ اس غزوہ سے واپسی پر بہت سے بدوی آپ کے گرد جمع ہو گئے ۔ آپ ﷺ ان کو عطا کرتے رہے مگر وہ مانگتے مانگتے آپ ﷺسے لپٹ گئے اور اس کشمکش میں آپ ﷺ کی چادر بھی گلے میں اُلجھ گئی مگر آپ ﷺ ناراض نہیں ہوئے ۔ یہی کہا کہ میری چادر تو چھوڑ دو۔ بخدا اگر اس جنگل کے درختوں کے برابر بھی اونٹ میرے پاس ہوتے تو سب تم میں بانٹ دیتا۔ پھر تم مجھے نہ بخیل پاتے نہ جھوٹا اور بزدل

آپ ﷺ کے جو دوسخا کے واقعات سے سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ جتنے واقعات چاہیں جمع کئے جاسکتے ہیں کیونکہ آپ ﷺ کے ابر کرم کی گہر باری کسی موسم اور موقع کی منتظر نہیں رہتی تھی بلکہ وہ فیاض ازل کی بخشش کی ایک مثال تھی کہ ہمیشہ اور ہر حال میں جاری رہتی تھی۔ انتہا یہ ہے کہ جب آپ ﷺ مرض وصال میں تھے آپ ﷺکے پاس کچھ دینار آئے آپ ﷺنے سب اُسی وقت تقسیم کر دیئے۔ صرف چھ باقی رہ گئے وہ بعض امہات المومنین کو دے دیئے مگر آپ ﷺکو نیند نہ آئی یہاں تک کہ آپ ﷺ نے پوچھا میں نے وہ چھ دینار کیا کئے۔ کہا گیا آپ ﷺنے فلاں فلاں ازواج مطہرات کو دیئے ہیں۔ آپ ﷺنے فوراً منگوا کر تقسیم کر دیئے اور پھر اطمینان کا سانس لیا۔ تاہم یہ بات ملحوظ خاطر رکھنی چاہئے کہ آپ کی تعلیم کا یہ جو دوسخا بے جا نہیں تھا ۔اُس وقت مہاجرین تو بالعموم غریب اور نادار تھے جن کا سب کچھ مکہ میں رہ گیا تھا۔ رہے انصار تو وہ بھی سود خور یہودی تاجروں کی اجارہ داری کے باعث زیادہ مالدار نہ تھے۔ عربوں کی روایتی حمیت و شرافت اُس پر رسول اللہ ﷺ  کی صحبت وتربیت وہاں سوائے بعض بدویوں کے کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ بے ضرورت زمرہ سائلین میں شمولیت کی عار گوارا کرے ۔ آپ ﷺ کے پاس ضرورت مند ہی آتے تھے جن کی آپ ﷺ بے دریغ اعانت و دستگیری فرماتے۔ نیز اس سے یہ بھی نہیں سمجھنا چاہے کہ عام مسلمانوں کے لئے بھی یہی حکم ہے کہ سب کچھ راہ خدا میں لٹا دیں۔ ظاہر ہے عام شخص ایسے تو کل کے مقام پر فائز نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے کلام مجید میں یہ حکم فرمایا گیا کہ تو  اپنے ہاتھ بخل  کے باعث گردن سے باندھ لو اور نہ پوری طرح کھلے چھوڑ دو کہ بعد میں خود ملامت خوردہ اور حسرت زدہ بیٹھ رہو یعنی انفاق فی سبیل اللہ میں عام مسلمان کو مناسب اعتدال سے کام لینا چاہئیے ۔ اللہ تعالیٰ توفیق ارزانی کرے۔آمین
فقیر اسرار محی الدین

Read more ...

بدھ، 11 مارچ، 2026

شان قرآن مجید (قسط 2)


مکی اور مدنی صورتوں میں فرق

مکی مدنی آیات کیا ہیں ؟ زول قرآن کریم کے لیے کوئی مقام یا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔ اس لحاظ سے نزول کی شان یہ رہی ، کہ جب حضور ﷺ کا قیام مکہ میں ہوا تو نزول بھی مکہ میں رہااور جب ہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لے آئے تو نزول بھی مدینہ میں ہوا اس اعتبار سے آیات قرآنی مکی اور مدنی کہلائیں ۔ چنانچہ ۹۳ سورتیں مکہ معظمہ میں نازل ہو ئیں اور 21 سورتیں مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں نازل ہوئیں۔ پھر آیات ِمکیہ میں عموما آپ کو سابقہ انبیاء کرام اور ان کی امتوں کے حالا ت ملیں گے اور آیات مدنی میں مسلمانوں کے لیے معاملات اور ضروری احکام پائے جائیں گے۔ آیات مکیہ میں زیادہ تر کفر و شرک سے اجتناب خدائے واحد کی طرف رجوع کر نے ،حشر و نشر پر امان لانے کا ذکر ہے ۔ جبکہ آیات مدنیہ میں اوامر و مناہی کا مکمل قانون ہے ۔ مکی آیتوں میں مخاطبہ کفار سے ہے کہیں یایھا الناس فرما کہ کہیں یا هل الكتاب کہ کر کہیں اور کہیں يبني ادم کے الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے۔ آیات مدینہ میں عام طور پر مسلمان مخاطب ہیں۔ اس لیے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا یا کہیں کہیں یا تھا النَّاسُ بھی استعمال ہوا ہے۔

تقسیم قرآن کریم

اللہ تعالیٰ جل مجدہ کی طرف سے قرآن کریم 114 سورتوں میں منقسم ہے ہر سورت بجائے خود ایک مستقل فصل ہے اور مختلف تعداد کی آیات پر مشتمل قرآن کریم میں کل چھ ہزار آیتیں ہیں۔ صحابہ کرام نے انہیں سات منزلں میں تقسیم کردیا تایہ ایک ہفتے میں تمام قرآن کو ختم کر سکیں ۔ عہدِ حجاج بن یوسف میں قرآن کریم تین پاروں اور ہر پارہ ربع ، نصف اور ثلث میں تقسیم کیا گیا اور رکوع وقف وغیرہ علامات بعد میں مقرر ہوئے ۔
محمد اسرار محی الدین قادری

Read more ...

منگل، 10 مارچ، 2026

شان قرآن مجید

قرآن کریم

یہ ناقابل ِ انکار حقیقت ہے کہ تمام اسلامی تعلیمات کا سر چشمہ فیض اور انسان کے جسمانی اور روحانی اصلاح و فلاح کا ماخذ جمیع علوم اسلامیہ عربیہ کا مرجع مرکز مسلمانوں کی ترقی و تمدن اور تافق کا راز سربستہ عالم کی تاریکی جہالت کوفنا  کر دینے والا آفتاب درخشان نوع انسان کو سعادت ابدی اور نجات سرمدی کی منزل مقصود تک پہنچانے والا ہادی برحق صرف اور صرف قرآن مجید فرقان حمید ہے۔

واقعات متعلقہ نزول قرآن

حضور رسید یوم انشور ﷺ کو بعثت اور نزول قرآن سے پہلے اولاً رویائے صادق صادقہ نظر آئے پھر ایک روز جب کہ حسب عادت حضور غار حرا میں محو عبادت تھے فرشتہ حاضر آیا جو وحی لایا۔ جس میں حکم ملا پڑھ۔ حضور نے فرمایا ۔ میں پڑھنےوالا نہیں ہوں۔ فرشتہ نے حضور کے قریب آگر آپ کو اپنے سینہ  سے لگا کر زور سے معانقہ کیا اور کہا پڑھ حضور نے پھر وہی جواب دیا " مَا أَنَا بِقَارِي تین بار جب بھی جواب ہوا تو فرشتہ نے کہا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ : خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقَهُ إِقْرَا وَ ربك الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَمَ بِالْقَلَمِ عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُهُ ترجمہ( اعلیٰ حضرت قدس ستره معہ افا دات )پڑھو اپنے رب کے نام سے یعنی قرآت کی ابتدا او باللہ کے نام سے ہو) جس نے پیدا کیا ( تمام مخلوق کو) انسان کو خون کی پھٹک سے بنایا ۔ پڑھو (دوبارہ پڑھنے کا حکم تاکیدکے لیے ہے) اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے جس نے قلم سے لکھنا سکھا یا اس سے کتابت کی فضیلت ثابت ہوئی آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا آدمی سے مراد یہاں آدم علیہ السلام میں اور جوا نہیں سکھایااس سے مراد علم اسماء ہے اور ایک قول میں اس سے مراد سید علی ﷺہیں کہ آپکو اللہ تعالیٰ نے جمیع اشیاء کے علوم عطا فرمائے (معالم و خازن)

حضور نے متلٰوہ آیات کو اپنی زبان مبارک سے ادافرمایا اور فرشتہ نظروں سے غائب ہو گیا یہ ہے نزول قرآن پاک کی ابتداء یہ واقعہ ماہ رمضان المبارک کے آخری ایام میں پیش کیا۔ اس پر آیت کریمہ خود شاہد ہے اور شہْرُرَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآن ۔ خاص اُس رات کے تعین میں اختلاف رواۃ ہے جس میں آغاز نزول ہوا ۔ بعض کے نزدیک ۲۵ رمضان ہے اور ان کی تحقیق میں حضور کی اظہار نبوت کا زمانہ بھی اسی تاریخ سے ہے اور بعض نے سنترہ رمضان بھی بعض نے ۲۳ بتائی۔اکثر نے ستائیسویں شب رمضان تسلیم کی۔ اس کے بعد چند ایام وحی کا نزول رکا رہا کہ سورہ مزثر نازل ہوئی پھر نجمانجما قرآن کریم حسب ضرورت متفرقہ تئیس سال میں نازل ہوتا رہا لبعض سورتیں ایسی ہیں جو یک دوم بیک وقت آئیں ۔ جیسے سورۃ الفاتحہ، سورۃ الکوثر اور اس میں آخری سورت سورۃ التوبہ ہے، اور آیتوں میں سب سے آخری آیت لَقَدْ جَاءَکُمْ رَسول جَاءَكُمْ رَسُولٌ منْ أَنفُسِكُمْ الخ ہے جس کے نو روز بعد وفات قیامت آیات ہوئی۔(جاری ہے)
(محمد اسرار محی الدین قادری)


Read more ...

اتوار، 30 مارچ، 2025

تفسیر سورہ فاتحہ


 

اس سورت کا نام سورۂ «فاتحہ» ہے۔ «فاتحہ» کہتے ہیں شروع کرنے والی کو، چونکہ قرآن کریم میں سب سے پہلے یہی سورت لکھی گئی ہے، اس لئے اسے سورۂ «فاتحہ» کہتے ہیں اور اس لئے بھی کہ نمازوں میں قرأت بھی اسی سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا نام «أمُّ الْكِتَاب» بھی ہے، جمہور یہی کہتے ہیں۔       
حسن اور ابن سرین رحمہ اللہ علیہم اس کے قائل نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوح محفوظ کا نام 
«أمُّ الْكِتَاب» ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول ہے کہ محکم آیتوں کو «أمُّ الْكِتَاب» کہتے ہیں۔

ترمذی کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» پوری سورت تک یہی سورت «ام القرآن» ہے اور «ام الکتاب» ہے اور «سبع مثانی» ہے اور «قرآن عظیم» ہے۔‏‏‏‏ [صحیح بخاری:4804] ‏‏‏‏

اس سورت کا نام سورت «الحمد» اور سورۃ «الصلوٰۃ» بھی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے میں نے صلوۃ (‏‏‏‏یعنی سورۂ فاتحہ) کو پنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا۔ جب بندہ کہتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی ، پوری حدیث تک۔ [صحیح مسلم:395] ‏‏‏‏     

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورۂ فاتحہ کا نام «صلوۃ» بھی ہے، اس لیے کہ اس سورت کا نماز میں پڑھنا شرط ہے، اس سورت کا نام سورت «الشفاء» بھی ہے۔ دارمی میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ سورت فاتحہ ہر زہر کی شفا ہے اور اس کا نام سورت «الرقیہ» بھی ہے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:2370:صحیح بالشواهد]       
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے جب سانپ کے کاٹے ہوئے شخص پر اس سورت کو پڑھ کر دم کیا، وہ اچھا ہو گیا تب نبی 
صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ «رقیہ» ہے (‏‏‏‏یعنی پڑھ کر پھونکنے کی سورت ہے)؟ [صحیح بخاری:2276] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے «اساس القرآن» کہتے تھے یعنی قرآن کے جڑ یا بنیاد اس سورت کی بنیاد آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» ہے۔

سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں۔ اس کا نام «واقیہ» ہے، یحییٰ بن کثیر کہتے ہیں اس کا نام «کافیہ» بھی ہے اس لیے کہ یہ اپنے علاوہ سب کی کفایت کرتی ہے اور دوسری سورت اس سورت کی کفایت نہیں کرتی۔ بعض مرسل حدیثوں میں بھی یہ مضمون آیا ہے کہ ام القرآن بدل ہے اس کے غیر کا مگر اس کا غیر اس کا بدل نہیں۔ [دارقطنی:322/1] ‏‏‏‏

اسے سورۃ «الصلوٰۃ» اور سورۃ «الکنز» بھی کہا گیا ہے زمحشری کی تفسیر کشاف دیکھئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما، قتادہ، ابوالعالیہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ یہ سورت مکی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، مجاہد، عطاء بن یسار اور زہری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں، یہ سورت مدنی ہے اور یہ بھی ایک قول ہے کہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی ایک مرتبہ مکہ میں اور دوبارہ مدینہ میں لیکن پہلا قول ہی زیادہ ٹھیک ہے اس لئے کہ دوسری آیت میں ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْ‌آنَ الْعَظِيمَ» [15-الحجر:87] ‏‏‏‏ یعنی ” ہم نے تمہیں سبع مثانی سات آیتیں دہرائی جانے والی دی ہیں “۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابواللیث سمرقندی کا ایک قول قرطبی نے بھی نقل کیا ہے کہ اس سورت کا نصف تو مکہ شریف میں نازل ہوا اور آخری نصف حصہ مدینہ شریف میں نازل ہوا لیکن یہ قول بالکل غریب ہے۔ ان آیتوں کی نسبت اتفاق ہے کہ سات ہیں لیکن عمرو بن عبید نے آٹھ اور حسین جعفی نے چھ بھی کہا ہے اور یہ دونوں قول شاذ ہیں۔

 

«بسم الله الرحمن الرحيم» مختلف اقوال اور سورہ فاتحہ :

«بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» یہ سورت کی مستقل آیت ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔ تمام کوفی قاری اور صحابہ رضی اللہ عنہ اور تابعین رحمہ اللہ کی ایک جماعت اور پچھلے بہت سے بزرگ تو اسے سورہ فاتحہ کے اول کی ایک پوری اور مستقل آیت کہتے ہیں، بعض اسے اس کا جزو مانتے ہیں اور بعض سرے سے اس آیت کو اس کے شروع میں مانتے ہی نہیں، جیسے کہ مدینے شریف کے قاریوں اور فقیہوں کے یہ تینوں قول ہیں۔ اس کی تفصیل ان شاءاللہ آگے آئے گی۔ اس سورت کے کلمات پچیس ہیں اور حروف ایک سو تیرہ ہیں۔ امام بخاری کتاب التفسیر کے شروع میں صحیح بخاری میں لکھتے ہیں  «ام الكتاب» اس سورت کا نام اس لئے ہے کہ قرآن شریف کی کتابت اسی سے شروع ہوتی ہے [صحیح بخاری:قبل الحدیث:4474] ‏‏‏‏ اور نماز کی قراءت بھی اسی سے شروع ہوتی ہے۔‏‏‏‏

ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ تمام قرآن شریف کے مضامین اجمالی طور سے اس میں ہیں، اس لئے اس کا نام «ام الكتاب» ہے۔ عرب کی عادت ہے کہ ہر ایک جامع کام اور کام کی جڑ کو جس کی شاخیں اور اجزاء اسی کے تابع ہوں، «ام» کہتے ہیں۔دیکھئے «ام الراس» اس جلد کو کہتے ہیں جو دماغ کی جامع ہے اور لشکری جھنڈے اور نشان کو بھی جس کے نیچے لوگ جمع ہوتے ہیں «ام» کہتے ہیں۔ شاعروں میں بھی اس کا ثبوت پایا جاتا ہے۔ مکہ شریف کو «ام القري» کہنے کی بھی یہی وجہ ہے کہ یہ سب سے پہلے اور سب کا جامع ہے، زمین وہیں سے پھیلائی گئ ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:107/1] ‏‏‏‏چونکہ اس سے نماز کی قراءت شروع ہوتی ہے۔ قرآن شریف کو لکھتے وقت بھی صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسی کو پہلے لکھا اس لیے اسے فاتحہ بھی کہتے ہیں۔ اس کا ایک صحیح نام «سبع مثاني» بھی ہے اس لیے کہ یہ بار بار نماز میں پڑھی جاتی ہے۔ ہر رکعت میں اسے پڑھا جاتا ہے اور «مثاني» کے معنی اور بھی ہیں جو ان شاءاللہ تعالی اپنی جگہ بیان ہوں گے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

مسند احمد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام القرآن کے بارے میں فرمایا: یہ ام القرآن ہے، یہی سبع مثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے ، [مسند احمد:448/2:صحیح] ‏‏‏‏ایک اور حدیث میں ہے یہی ام القرآن ہے، یہی فاتحہ الکتاب ہے اور یہی سبع مثانی ہے ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:134:صحیح]

تفسیر مردویہ میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» کی سات آیتیں ہیں۔ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» بھی ان میں سے ایک آیت ہے، اسی کا نام سبع مثانی ہے، یہی قرآن عظیم ہے، یہی ام الکتاب ہے یہی فاتحتہ الکتاب ہے ۔ [دارقطنی:312/1:ضعیف] ‏‏‏‏ دارقطنی میں بھی اسی مفہوم کی ایک حدیث ہے اور بقول امام دارقطنی اس کے سب راوی ثقہ ہیں۔بیہقی میں ہے کہ سیدنا علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نے سبع مثانی کی تفسیر میں یہی کہا ہے کہ یہ سورۂ فاتحہ ہے اور «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» اس کی ساتویں آیت ہے۔ «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کی بحث میں یہ بیان پورا آئے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ نے سورہَ فاتحہ کو اپنے لکھے ہوئے قرآن شریف کے شروع میں کیوں نہیں لکھا؟ تو کہا اگر میں ایسا کرتا تو پھر ہر سورت کے پہلے اس کو لکھتا۔ ابوبکر بن ابوداؤد فرماتے ہیں اس قول کا مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھے جانے کی حیثیت سے اور چونکہ تمام مسلمانوں کو حفظ ہے، اس لیے لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔دلائل النبوۃ میں امام بیہقی نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں ہے کہ یہ سورت سب سے پہلے نازل ہوئی، باقلانی نے نقل کیا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ سب سے پہلے نازل ہوئی اور دوسرا قول یہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ‌» [74-المدثر:1] ‏‏‏‏ سب سے پہلے نازل ہوئی جیسا کہ صحیح حدیث سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور تیسرا قول یہ ہے کہ سب سے پہلے «اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ» [96-العلق:1] ‏‏‏‏ نازل ہوئی اور یہی صحیح ہے۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ «ان شاء اللہ»

سورہ فاتحہ کی فضیلت :

مسند احمد میں سیدنا ابوسعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب نماز سے فارغ ہو کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تک کس کام میں تھے؟، میں کہا: یا رسول اللہ ! میں نماز میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالی کا یہ فرمان تم نے نہیں سنا؟ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّ‌سُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ» [8-الأنفال:24] ‏‏‏‏ ” اے ایمان والو! اللہ کے رسول جب تمہیں پکاریں، تم جواب دو “، اچھا سنو! میں تمھیں مسجد سے نکلنے سے پہلے بتلا دوں گا کہ قرآن پاک میں سب سے بڑی سورت کونسی ہے؟ پھر میرا ہاتھ پکڑے ہوئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے جانے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ یاد دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» ہے یہی سبع مثانی ہے اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھ کو دیا گیا ہے ۔ اسی طرح یہ روایت صحیح بخاری شریف، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی دوسری سندوں کے ساتھ ہے۔ [صحیح بخاری:4474] ‏‏‏‏

واقدی نے یہ واقعہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان کیا ہے۔ موطا مالک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، وہ نماز میں مشغول تھے، فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا، اس وقت مسجد سے باہر نکل ہی رہے تھے کہ فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے تجھے ایسی سورت بتاؤں کہ تورات، انجیل اور قرآن میں اس کے مثل نہیں۔‏‏‏‏ اب میں نے اپنی چال سست کر دی اور پوچھا، یا رسول اللہ ! وہ سورت کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کے شروع میں تم کیا پڑھتے ہو؟ میں کہا «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» پوری سورت تک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ سورت ہے، سبع مثانی اور قرآنی عظیم جو مجھے دیا گیا ہے ۔ [مسند احمد:412/2:صحیح] ‏‏‏‏اس حدیث کے آخری راوی ابوسعید رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس بنا پر ابن اثیر اور ان کے ساتھ والے یہاں دھوکا کھا گئے ہیں اور وہ انہیں ابوسعید بن معلٰی سمجھ بیٹھے ہیں۔ درحقیقت یہ ابوسعید خزاعی رحمہ اللہ ہیں اور تابعین میں سے ہیں اور وہ ابوسعید انصاری صحابی ہیں رضی اللہ عنہ۔ ان کی حدیث متصل اور صحیح ہے اور یہ حدیث بظاہر منقطع معلوم ہوتی ہے۔ اگر ابوسعید تابعی کا سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہ ہو اور اگر سننا ثابت ہو تو یہ حدیث شرط مسلم پر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس حدیث کے اور بھی بہت سے انداز بیان ہیں، مثلاً مسند احمد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں پکارا تو یہ نماز میں تھے “ التفات کیا، مگر جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پکارا، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے نماز مختصر کر دی اور فارغ ہو کر جلدی سے حاضر خدمت ہوئے السلام علیکم عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دے کر فرمایا: ابی! تم نے مجھے جواب کیوں نہ دیا؟ کہا یا رسول اللہ ! میں نماز میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی آیت پڑھ کر فرمایا: کیا تم نے یہ آیت نہیں سنی؟ کہا اے اللہ کے رسول ! غلطی ہوئی اب ایسا نہ کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایک ایسی سورت بتاؤں کہ تورات، انجیل، زبور اور قرآن میں اس جیسی سورت نہ ہو۔‏‏‏‏ میں کہا ضرور ارشاد فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں سے جانے سے پہلے ہی میں تمہیں بتادوں گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ تھامے ہوئے اور باتیں کرتے رہے اور میں نے اپنی چال دھیمی کر دی کہ ایسا نہ ہو کہ وہ بات رہ جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر چلے جائیں۔ آخر جب دروازے کے قریب پہنچ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ وعدہ یاد دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں کیا پڑھتے ہو؟، میں نے ام القرآن پڑھ کو سنائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تورات، انجیل، زبور اور قرآن میں اس جیسی کوئی اور سورت نہیں، یہ سبع مثانی ہے ۔ [مسند احمد:413/2:صحیح] ‏‏‏‏ترمذی میں مزید یہ بھی ہے کہ یہی وہ بڑا قرآن ہے جو مجھے عطا فرمایا گیا ہے ، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي:2875،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی اس باب میں ایک حدیث مروی ہے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1499:صحیح] ‏‏‏‏مسند احمد کی ایک مطول حدیث میں بھی اسی طرح مروی ہے۔ نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان تقسیم کر دی گئی ہے ۔ ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ [سنن ترمذي:3125،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏مسند احمد میں سیدنا عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت استنجے سے فارغ ہوئے ہی تھے، میں نے تین مرتبہ سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بھی جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے اور میں غم و رنج کی حالت میں مسجد میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد طہارت کر کے تشریف لائے اور تین مرتبہ ہی میرے سلام کا جواب دیا۔ پھر فرمایا: اے جابر بن عبداللہ سنو! تمام قرآن میں بہترین سورت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» آخر تک ہے ۔ [مسند احمد:177/4:صحیح بالشواهد] ‏‏‏‏ اس کی اسناد بہت عمدہ ہے۔ ابن عقیل جو اس کا راوی ہے، اس کی حدیث بڑے بڑے ائمہ روایت کرتے ہیں اور عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ سے مراد عبدی صحابی ہیں، ابن الجوزی کا بھی یہی قول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

حافظ ابن عساکر کا قول ہے کہ یہ عبداللہ بن جابر انصاری و بیاضی ہیں یہ حدیث اور اس جیسی اور احادیث سے استدلال کر کے اسحاق بن راہویہ، ابوبکر بن عربی ابن الحضار وغیرہ اکثر علماء نے کہا ہے کہ بعض آیتیں اور بعض سورتیں بعض پر فضیلت رکھتی ہیں۔‏‏‏‏یہی ایک دوسری جماعت کا بھی خیال ہے کہ کلام اللہ کل کا کل فضیلت میں ایک سا ہے۔ ایک کو ایک پر فضیلت دینے سے یہ قباحت ہوتی ہے کہ دوسری آیتیں اور سورتیں اس سے کم درجہ کی نظر آئیں گی حالانکہ کلام اللہ سارے کا سارا فضیلت والا ہے۔ قرطبی نے اشعری اور ابوبکر باقلانی اور ابوحاتم ابن حبان بستی اور ابوحبان اور یحییٰ رحمہ اللہ علیہم سے یہی نقل کیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے۔ یہ مذہب منقول ہے (‏‏‏‏لیکن صحیح اور مطابق حدیث پہلا قول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» مترجم)

سورۂ فاتحہ کے فضائل کی مندرجہ بالاحدیثوں کے علاوہ اور حدیثیں بھی ہیں۔ صحیح بخاری شریف فضائل القرآن میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں ایک جگہ اترے ہوئے تھے۔ ناگہاں ایک لونڈی آئی اور کہا کہ یہاں کے قبیلہ کے سردار کو سانپ نے کاٹ کھایا ہے، ہمارے آدمی یہاں موجود نہیں، آپ میں سے کوئی ایسا ہے کہ جھاڑ پھونک کر دے؟ ہم میں سے ایک شخص اٹھ کر اس کے ساتھ ہو لیا ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ کچھ جھاڑ پھونک بھی جانتا ہے۔ اس نے وہاں جا کر کچھ پڑھ کر دم کر دیا اللہ کے فضل سے وہ بالکل اچھا ہو گیا، تیس بکریاں اس نے دیں اور ہماری مہمانی کے لیے دودھ بھی بہت سارا بھیجا۔ جب وہ واپس آئے تو ہم نے پوچھا: کیا تمہیں جھاڑ پھونک کا علم تھا؟ اس نے کہا میں نے تو صرف سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا ہے ہم نے کہا: اس آئے ہوئے مال کو ابھی نہ چھیڑو، پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ لو۔ مدینہ میں آ کر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کیسے معلوم ہوا کہ یہ پڑھ کر دم کرنے کی سورت ہے؟ فرمایا: اس مال کے حصے کر لو میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔ صحیح مسلم شریف اور ابوداوَد میں یہ حدیث ہے۔ [صحیح بخاری:2276] ‏‏‏‏

مسلم کی بعض روایتوں میں ہے کہ دم کرنے والے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ مسلم اور نسائی میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ جبرئیل علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے کہ اوپر سے ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی۔ جبرئیل علیہ السلام نے اوپر دیکھ کر فرمایا آج آسمان کا وہ دروازہ کھلا ہے جو کبھی نہیں کھلا تھا۔ پھر وہاں سے ایک فرشتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا خوش ہو جائیے دو نور آپ کو ایسے دیے گئے ہیں کہ آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں ایک ایک حرف پر نور ہے ۔ [صحیح مسلم:806] ‏‏‏‏

صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی نماز میں ام القرآن نہ پڑھے اس کی نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں ہے۔‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ جب امام کے پیچھے ہوں تو؟ فرمایا: پھر بھی چپکے چپکے پڑھ لیا کرو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ” میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے نصف نصف کر دیا ہے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگتا ہے وہ میں دیتا ہوں “۔ جب بندہ کہتا ہے «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ» تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «حمدني عبدي» ” میرے بندے نے میری تعریف کی “۔ پھر بندہ کہتا ہے «الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ» اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” «أثنى علي عبدي» میرے بندے نے میری ثناء بیان کی “۔ پھر بندہ کہتا ہے «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” «مجدني عبدي» یعنی میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی “۔ بعض روایتوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے، «فوض إلي عبدي» یعنی ” میرے بندے نے خود کو میرے سپرد کر دیا “۔ پھر بندہ کہتا ہے «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” یہ ہے میرے اور میرے بندے کے درمیان اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا، میں دوں گا “۔ پھر بندہ «وَلَا الضَّالِّينَ» تک پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” یہ سب میرے بندے کے لیے ہے اور یہ جو مانگے گا وہ اس کے لیے ہے “ ۔ [صحیح مسلم:395] ‏‏‏‏

نسائی میں یہ روایت ہے۔ بعض روایات کے الفاظ میں کچھ تبدیلی بھی ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ [سنن ترمذي:2953،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ابورزعہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ مسند احمد میں بھی یہ حدیث مطول موجود ہے۔ [مسند احمد:282/2] ‏‏‏‏ اس کے راوی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔

ابن جریر کی ایک روایت میں حدیث کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ” یہ میرے لئے ہے اور جو باقی ہے وہ میرے بندے کے لئے ہے “ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:224:حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے۔

 

Read more ...