مکی اور مدنی صورتوں میں فرق
مکی مدنی آیات کیا ہیں ؟ زول قرآن کریم کے لیے کوئی
مقام یا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔ اس لحاظ سے نزول کی شان یہ رہی ، کہ جب حضور ﷺ کا
قیام مکہ میں ہوا تو نزول بھی مکہ میں رہااور جب ہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لے آئے
تو نزول بھی مدینہ میں ہوا اس اعتبار سے آیات قرآنی مکی اور مدنی کہلائیں ۔ چنانچہ
۹۳ سورتیں مکہ معظمہ میں
نازل ہو ئیں اور 21 سورتیں مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں نازل ہوئیں۔ پھر آیات
ِمکیہ میں عموما آپ کو سابقہ انبیاء کرام اور ان کی امتوں کے حالا ت ملیں گے اور آیات
مدنی میں مسلمانوں کے لیے معاملات اور ضروری احکام پائے جائیں گے۔ آیات مکیہ میں زیادہ
تر کفر و شرک سے اجتناب خدائے واحد کی طرف رجوع کر نے ،حشر و نشر پر امان لانے کا
ذکر ہے ۔ جبکہ آیات مدنیہ میں اوامر و مناہی کا مکمل قانون ہے ۔ مکی آیتوں میں
مخاطبہ کفار سے ہے کہیں یایھا الناس فرما
کہ کہیں یا هل الكتاب کہ
کر کہیں اور کہیں يبني ادم کے
الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے۔ آیات مدینہ میں عام طور پر مسلمان مخاطب ہیں۔ اس لیے يَأَيُّهَا
الَّذِينَ آمَنُوا یا کہیں کہیں یا
تھا النَّاسُ بھی استعمال ہوا ہے۔
تقسیم قرآن کریم
اللہ تعالیٰ جل مجدہ کی طرف سے قرآن کریم 114 سورتوں میں منقسم ہے ہر
سورت بجائے خود ایک مستقل فصل ہے اور مختلف تعداد کی آیات پر مشتمل قرآن کریم میں
کل چھ ہزار آیتیں ہیں۔ صحابہ کرام نے انہیں سات منزلں میں تقسیم کردیا تایہ ایک
ہفتے میں تمام قرآن کو ختم کر سکیں ۔ عہدِ حجاج بن یوسف میں قرآن کریم تین پاروں
اور ہر پارہ ربع ، نصف اور ثلث میں تقسیم کیا گیا اور رکوع وقف وغیرہ علامات بعد میں
مقرر ہوئے ۔
محمد اسرار محی الدین قادری


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
خوش آمید۔
ہمارا مقصد دین اسلام کی ترویج ہے