قرآن کریم
یہ ناقابل ِ انکار حقیقت ہے کہ تمام اسلامی تعلیمات کا سر
چشمہ فیض اور انسان کے جسمانی اور روحانی اصلاح
و فلاح کا ماخذ جمیع علوم اسلامیہ عربیہ کا مرجع مرکز مسلمانوں کی ترقی و تمدن اور
تافق کا راز سربستہ عالم کی تاریکی جہالت کوفنا کر دینے والا آفتاب درخشان نوع انسان کو سعادت
ابدی اور نجات سرمدی کی منزل مقصود تک پہنچانے والا ہادی برحق صرف اور صرف قرآن مجید
فرقان حمید ہے۔
واقعات متعلقہ نزول قرآن
حضور رسید یوم انشور ﷺ کو بعثت اور نزول قرآن سے پہلے
اولاً رویائے صادق صادقہ نظر آئے پھر ایک روز جب کہ حسب عادت حضور غار حرا میں محو
عبادت تھے فرشتہ حاضر آیا جو وحی لایا۔ جس میں حکم ملا پڑھ۔ حضور نے فرمایا ۔ میں
پڑھنےوالا نہیں ہوں۔ فرشتہ نے حضور کے قریب آگر آپ کو اپنے سینہ سے لگا کر زور سے معانقہ کیا اور کہا پڑھ حضور
نے پھر وہی جواب دیا " مَا أَنَا بِقَارِي تین
بار جب بھی جواب ہوا تو فرشتہ نے کہا اقْرَأْ بِاسْمِ
رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ : خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقَهُ إِقْرَا وَ ربك
الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَمَ بِالْقَلَمِ عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُهُ ترجمہ(
اعلیٰ حضرت قدس ستره معہ افا
دات )پڑھو اپنے رب کے نام سے یعنی قرآت کی ابتدا او باللہ کے نام سے ہو) جس نے پیدا
کیا ( تمام مخلوق کو) انسان کو خون کی پھٹک سے بنایا ۔ پڑھو (دوبارہ پڑھنے کا حکم تاکیدکے
لیے ہے) اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے جس نے قلم سے لکھنا سکھا یا اس سے
کتابت کی فضیلت ثابت ہوئی آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا آدمی سے مراد یہاں آدم
علیہ السلام میں اور جوا نہیں سکھایااس سے مراد علم اسماء ہے اور ایک قول میں اس
سے مراد سید علی ﷺہیں کہ آپکو اللہ تعالیٰ نے جمیع اشیاء کے علوم عطا فرمائے
(معالم و خازن)
حضور نے متلٰوہ آیات کو اپنی زبان مبارک سے ادافرمایا
اور فرشتہ نظروں سے غائب ہو گیا یہ ہے نزول قرآن پاک کی ابتداء یہ واقعہ ماہ رمضان
المبارک کے آخری ایام میں پیش کیا۔ اس پر آیت کریمہ خود شاہد ہے اور شہْرُرَمَضَانَ
الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآن ۔ خاص اُس رات کے تعین میں
اختلاف رواۃ ہے جس میں آغاز نزول ہوا ۔ بعض کے نزدیک ۲۵ رمضان ہے اور ان کی تحقیق
میں حضور کی اظہار نبوت کا زمانہ بھی اسی تاریخ سے ہے اور بعض نے سنترہ رمضان بھی
بعض نے ۲۳
بتائی۔اکثر نے ستائیسویں شب رمضان تسلیم کی۔ اس کے بعد چند ایام وحی کا نزول رکا
رہا کہ سورہ مزثر نازل ہوئی پھر نجمانجما قرآن کریم حسب ضرورت متفرقہ تئیس سال میں
نازل ہوتا رہا لبعض سورتیں ایسی ہیں جو یک دوم بیک وقت آئیں ۔ جیسے سورۃ الفاتحہ،
سورۃ الکوثر اور اس میں آخری سورت سورۃ التوبہ ہے، اور آیتوں میں سب سے آخری آیت لَقَدْ
جَاءَکُمْ رَسول جَاءَكُمْ رَسُولٌ منْ أَنفُسِكُمْ الخ
ہے جس کے نو روز بعد وفات قیامت آیات ہوئی۔(جاری ہے)
(محمد اسرار محی الدین قادری)


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
خوش آمید۔
ہمارا مقصد دین اسلام کی ترویج ہے