گزارشات:
(فقیر
محمد اسرار محی الدین قادری)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ www.asrarmohyuddin.blogspot.com میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔
آج کی پوسٹ رفع الدین کے بارے میں ایک تحقیق ہے ان شاء اللہ مفید رہے گی
مقالہ کو لکھنے سے پہلے
چند ایک گزارشات عرض کرنا چاہوں گا
حدیث کا صحیح ہونا شرط ہے
نہ کہ بخاری یا مسلم یا صحاستہ کی کتب میں ہونا ضروری نہیں ہے ۔بلکہ کتب احادیث جو
کہ تقریبا 360 ہیں کسی بھی کتاب میں سے ہو سکتی ہے
" رفع یدین" دو لفظوں کا مجموعہ ہے، ’’رفع‘‘ کا مطلب
ہے: اٹھانا اور ’’یدین‘‘ کا مطلب ہے : دونوں ہاتھ، چناں چہ
’’رفع یدین ‘‘ کا مطلب ہوا ’’دونوں ہاتھوں کو اٹھانا‘‘، رفع
یدین سے مراد نماز کی حالت میں تکبیر کہتے وقت دونوں
ہاتھوں کو کانوں کی لو تک اٹھانا ہے، وتر اور عیدین کی نماز کے
علاوہ عام نمازوں میں صرف تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہی ”رفعِ
یدین“ مسنون ہے، اور یہ مسئلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
کے زمانہ سے مختلف فیہ ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بعض صحابہ کرام
”رفع یدین“ کرتے تھے اوربعض نہیں کرتے تھے،اسی وجہ سے مجتہدینِ امت میں بھی اس
مسئلہ میں اختلاف ہواہے،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ترکِ رفع یدین والی روایات
کوراجح قراردیاہے،کئی اکابر صحابہ کرام کامعمول ترکِ رفع کاتھا، اور یہی نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کاآخری عمل ہے۔ احناف کے نزدیک ترکِ رفع یدین ہی
سنت ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:
رفع یدین کے مسئلہ
کو سمجھنے کے لئے یہ بنیادی حقیقت ذہن میں رکھیں
شروع
اسلام میں دوران نماز گفتگو کرنا جائز تھی۔
خود حضور کے دوران نماز سلام کرنے والے کو جواب دے دیا کرتے تھے۔ ( بخاری )
لیکن بعد میں یہ عمل منسوخ ہو گیا، باقی نہ رہا۔ اب اگر کوئی آدمی بہت سی روایات
دکھا دے کہ دیکھو نماز میں گفتگو کرنا جائز ہے۔ تم ایک حدیث لئے پھرتے ہو کہ منع
ہے اب بتاؤ اس کا جواب کیا ہو گا۔ یقینا یہی جواب ہو گا کہ بھائی نماز میں گفتگو
کرنا حدیث سے تو ثابت ہے مگر سنت یہ ہے کہ یہ احادیث منسوخ ہیں ان کی ناسخ آیہ
مبارکہ وَقُومُوَ اللَّهِ قَنِتِينَ ہے۔ (البقرہ)
مثال سے سمجھئے :
فرض
کیجئے کہ عبداللہ اور عبدالرحمن دو آدمی ایک جلسہ عام میں موجود تھے۔ عبداللہ نے
سینکڑوں آدمیوں کی موجودگی میں عبدالرحمن سے دس ہزار روپے قرض لیا۔ ایک ماہ گزرنے
کے بعد عبداللہ نے عبید اللہ اور عبدالئی کی موجودگی میں مجھ دس ہزار روپے
عبدالرحمن کو واپس کر دیئے۔ اب عبدالرحمن نے بد دیانتی کی اورعبد اللہ پر مقدمہ کر
دیا کہ یہ میرے دس ہزار روپے نہیں دیتا۔ حالانکہ اس نے کئی سو آدمیوں کی موجودگی
میں لیے تھے اور کئی سو آدمیوں نے حلفیہ طور پر اس بات کی گواہی بھی دے دی کہ
ہمارے سامنے عبداللہ نے عبدالرحمن سے دس ہزا روپے لیے تھے۔ لیکن عبید اللہ اور
عبدالحئی کہہ رہے ہیں کہ وہ روپے واپس کر دیئے تھے۔ اب ایمان سے بتائیے کہ اگر
قاضی صرف اس بنا پر عبد اللہ کے خلاف ڈگری دے دے کہ عبدالرحمن کے گواہ سینکڑوں ہیں
جبکہ عبداللہ کے پاس صرف دو گوالا ہیں تو کیا یہ فیصلہ درست ہو گا؟ یقیناً ہر
انصاف پسند یہی کہے گا کہ اگر چہ سینکڑوں کو آدمیوں نے جو گواہی دی ہے وہ بھی سچ
ہے قرض واقعی لیا تھا۔ مگر یہ دو آدمی گواہ ہیں کہ قرض واپس کر دیا تھا۔
اسی
طرح سمجھیں کہ ابتداء میں دوران نماز رفع یدین کیا جا تا تھا بلکہ بہت کاجاتا تھا۔
احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
(246) عَنْ أَنَسٍ
رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ الله كَانَ يَرْفَ يَدَيْهِ
فِي الرَّكُوعِ وَالسُّجُودِ. ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم رکوع وسجود میں اپنے ہاتھ
اٹھاتے تھے۔ (کنز العمال) (247)
حضرت
عمیر حبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ "كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ
تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ كُلَّ تَكْبِيرَةٍ
فِي الصَّلوة المَكْتُوبَةِ
رسول
الله فرض نماز میں ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔ یعنی رفع یدین کیا کرتے
تھے۔ (سنن ابن ماجہ )(248)
حضرت
ابوحمید ساعدی فرماتے ہیں کہ جب آپ صلى الله عليه وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو
بالکل سیدھے کھڑے ہوتے پھر اپنے کندھوں تک ہاتھ اُٹھاتے اور اللہ اکبر فرماتے جب
رکوع کا ارادہ فرماتے تب بھی کندھوں تک ہاتھ اُٹھاتے جب سمع اللہ لمن حمدہ فرماتے
تب بھی کندھوں تک ہاتھ اُٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب دوسری رکعت سے کھڑے
ہوتے تب بھی کندھوں تک ہاتھ سے کھڑےاُٹھاتے ۔ (سنن ابن ماجہ)(249)
حضرت
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔ (ابن
ماجہ )
رفع یدین کے اوقات :
اگر
غور کریں تو ان صحیح احادیث سے درج ذیل مقامات پر رفع یدین ثابت ہوا
(۱) تکبیر تحریمہ کے وقت (۲) رکوع میں جاتے ہوئے (۳) رکوع سے سر اٹھاتے وقت (۴) سجدے میں جاتے وقت (۵) سجدہ سے سر اُٹھاتے وقت (1) دوسرے سجدہ میں
جاتے وقت (۷) دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے وقت (۸) تیسری رکعت کے شروع میں (۹) بعض روایات کے مطابق سلام پھیرتے وقت بھی
رفع یدین کیا جاتا تھا۔ اہل حدیث ہونے کے دعویدار غیرمقلد حضرات صرف تین مقامات پر
یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور تیسری رکعت کے آغاز میں تو
رفع یدین کرتے ہیں لیکن ہر سجدہ اور ہر ہر تکبیر پر رفع یدین کیوں نہیں کرتے ۔
تعجب
کی بات ہے کہ غیر مقلد حضرات چھ سات جگہ پر رفع یدین کو ترک کے بھی اہل حدیث کے
اہل حدیث ہی رہے لیکن اگر ہم رکوع سے پہلے اور تیسری رکعت کے شروع میں نہ کریں تو
فتویٰ کے تیروں کی اندھا دھند بارش یاللعجب۔
ہم آہ
بھی بھرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ
قتل بھی کر دیں تو چرچا نہیں ہوتا
ہو
سکتا ہے کہ کوئی دانا قسم کا غیر مقلد یہ حکم سنا دے کہ یہ سارے رفع یدین پہلے کیے
جاتے تھے اب منسوخ ہیں تو ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ حضرت ہم بھی تو یہ ہی کہہ رہے
ہیں کہ یہ سب رفع یدین پہلے کیے جاتے تھے اب منسوخ ہیں لیکن آپ مانتے ہی نہیں
ہیں۔
رفع یدین پچاس
صحابہ سے ثابت ہے
غیر
مقلد حضرات سادہ لوح عوام الناس پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے عموماً ارشاد فرماتے
ہیں کہ رکوع کرتے ، رکوع سے سر اٹھاتے اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کرنا
چار سو احادیث میں وارد ہے جبکہ رفع یدین کی روایات بچاس صحابہ کرام سے منقول ہیں
جن میں خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں۔ اتنی بھاری دلیل دیکھ کر تو ہر
کس و ناکس کا جی رفع یدین کو چاہتا ہے۔اس جگہ ہم ان دونوں دعوؤں کا جائزہ لیتے ہیں
کہ کہاں تک درست ہیں۔
(1)
ان مقامات پر رفع یدین کی بابت چارسو احادیث کا دعویٰ جو کیا جاتا ہے وہ محض دعویٰ
ہی ہے اس بارہ میں ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالی سچ بولنے
کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔ کیونکہ جھوٹ بولنے والوں کے لئے قرآن کریم میں بڑی سخت
وعید ہے اور غیر مقلدین حضرات سے گزارش کریں
ھے کہ
اس مجموعہ کو منظر عام پر لایا جائے ۔ اگر تا حال وہ روایات یکجا نہیں کی گئی ہیں
تو مہربانی فرما کر جید علماء کا پینل مقرر فرما ئیں جو صحاح ستہ سے ان چارصد
روایات کو جمع کرے ۔ امت مسلمہ پر ان کا بڑا احسان ہو گا مگر قیامت تک یہ ممکن
نہیں کیونکہ یہ دعوئی سوفی صد جھوٹ پر مبنی ہے اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں یہی وجہ
ہے کہ
غیر مقلدین کے جید علماء کا فیصلہ ہے کہ:
وَلَيْسَ
فِي رِوَايَةٍ مَنْ رُوِى تَرَكَ الرَّفْعِ إِلَّا مَاقُلْنَا إِنَّ الْمُثْبِتَ مُقَدَّمٌ
عَلَى النَّافِي. (تردى)
ترجمہ:
جن روایات میں رفع یدین نہ کرنے کا ذکر ہے کہ ان روایات میں کوئی بھی قابل اعتراض
بات نہیں۔
(یعنی
معیار صحت پر پوری اترتی ہیں ) بس آجا کر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ رفع یدین والی
احادیث کو ہم انکار والی احادیث پر ترجیح دیتے
ہیں۔
رفع
یدین بالا تفاق صرف مستحب ہے واجب نہیں ہے۔ (غیر مقلد ) رفع یدین کرنا اور نہ کرنا
دونوں سنت سے ثابت ہے یہی بات انصاف کی ہے۔
(غیر مقلد)
رفع
یدین میں جھگڑنا تعصب اور جہالت سے خالی نہیں کیونکہ رفع یدین کا ثبوت اور عدم
ثبوت دونوں مروی ہیں۔ (غیر مقلد)
نوٹ:۔
موخر الذکر تینوں حوالہ جات بھی چند صفحات پیچھے گزر چکے ہیں۔
(2) اب
آئیے پچاس صحابہ والی دلیل کی جانب کہ جن میں خلفاء راشد ہیں بھی شامل ہیں اور
حضرات عشرہ مبشرہ بھی۔ اس بارہ میں عرض ہے کہ حضرت آپ نے کسر نفسی سے کام لیا کہ
محض پچاس صحابہ کا ذکر فرمایا۔ اگر آپ یہ دعوئی فرما دیتے کہ ہمارے آقا رسول محتشم
ﷺ ہمیشہ اس پر سختی سے کاربند رہے ایک لاکھ نے زائد صحابہ کرام اور اس وقت سے لے
کر آج تک ساری کی ساری امت بشمول شیعه، سنی، بریلوی، دیوبندی، مقلد، غیر مقلد اس
پر متفق ہیں۔ تو بھی ہمیں انکار نہ ہوتا۔ اس لئے کہ یہ رفع یدین نماز کے شروع کرنے
کے وقت کا ہے رکوع و سجود والا نہیں۔ محض لفظ رفع یدین کرنا (یعنی کندھوں یا کانوں
تک ہاتھ اُٹھانا) سے عوام الناس کو دھوکہ نہ دیں بلکہ بتائیں کہ اس جگہ وہ رفع
یدین (ہاتھ اٹھانا ) مراد ہے۔ جو تکبیر تحریمہ کے وقت شروع نماز میں کیا جاتا ہے۔
یادرکھئے دھو کہ دہی ، قرآن وسنت کی نظر میں قابل تعریف نہیں اور پھر دین متین کے
بارہ میں دھو کا۔ (اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ) بہت بُری بات اور ٍاللہ تعالیٰ پر
جرات ہے۔
اعتراف حقیقت:
ممکن
ہے کہ ہماری اس گزارش پر کچھ حضرات برہم ہوں ان کی تسلی کے لئے عرض ہے کہ غیر
مقلدین کے مایہ ناز محقق اور امام علامہ شوکانی، نیل الاوطار ومیں لکھتے ہیں۔
وَجَمَعَ
الْعَرَاقِيُّ عَدَدَ مَنْ رَوَى رَفَعَ الْيَدَيْنِ فِي ابْتِدَاءِ الصَّلوةِ
.فَبَلَغُوا خَمْسِينَ صَحَابِياً مِنْهُمُ الْعَشْرَةُ الْمَشْهُودُ لَهُمُ
بِالْجَنَّةِ. (نیل الاوطار)
ترجمہ:
علامہ عراقی نے نماز کے شروع میں رفع یدین کرنے کی روایات کو نقل فرمانے والے
صحابہ کرام کو شمار کیا تو ان کی تعداد پچاس تک پہنچ گئی۔ غیر مقلدین کے جید عالم
محدث اور شارح علامہ محمد بن اسماعیل صنعانی سبل السلام فی شرح بلوغ المرام میں
اسی ناقابل تردید حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں۔
قَالَ
الْمُصَنفُ إِنَّهُ رُوِيَ رَفْعُ الْيَدَيْنِ فِي أَوَّلِ الصَّلَوةِ خَمْسُونَ
صَحَابِيًا مِنْهُمُ الْعَشَرَةُ الْمَشْهُودُلَهُم بِالْجَنَّةِ وَرَوَى
الْبَيْهَقِيُّ عَنِ الْحَاكِمِ لَا تَعْلَمُ سُنَّةَ اتَّفَقَ عَلَى رِوَايَتِهَا
عَنْ رَّسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
الْخُلَفَاءُ الْأَرْبَعَةُ ثُمَّ الْعَشَرَةُ الْمَشْهُودُ لَهُمُ بِالْجَنَّةِ
فَمَنْ بَعْدُهُمْ مِنَ الصَّحَابَةِ مَعَ تَفَرُّقِهِمُ فِي الْبِلَادِ
الشَّاسِعَةِ غَيْرَ هَذِهِ السُّنَّةِ. (سبل السلام )
ترجمہ:
(علامہ ابن حجر شارح بخاری) فرماتے ہیں کہ نماز کے شروع میں رفع یدین کرنے کی
احادیث پچاس صحابہ سے مروی ہیں جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں اور امام بیہقی نے
امام حاکم کے حوالہ سے نقل فرمایا کہ نماز کے شروع میں رفع یدین کرنا (یعنی کندھوں
یا کانوں تک ہاتھ اُٹھانا) ایک ایسا عمل ہے کہ رسول اللہ ہ سے اس کو منقول کرنے
میں خلفائے راشدین عشرہ مبشرہ اور دیگر بہت سے
صحابہ
متفق ہیں باوجود یہ کہ وہ مختلف شہروں میں پھیل چکے تھے۔ محترم قارئین کرام ! ان
دونوں عبارات میں خط کشیدہ عبارت رفع اليدين في ابتداء الصلوة .. اور ....
رفع الدين في اول الصلوة .. قابل غور ہیں۔ سوچئے کیا ان الفاظ
سے غیر مقلدین کا رفع یدین ثابت ہوتا ہے۔ یا مقلدین کا؟ اللہ تعالی حقائق کو
سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تکبیر
تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین کی ناسخ احادیث اگر چہ طالب حق کے لئے مندرجہ بالا
گفتگو ہی کافی ہے بایں ہمہ اگر آپ اپنے ذہن و قلب پر بار محسوس نہیں فرماتے تو ذیل
کی روایات پڑھیں تا کہ پتہ چلے کہ بحمد اللہ تعالیٰ حنفی حضرات کی نماز عین سنت
نبوی صلى الله عليه وسلم کے مطابق ہے۔ (250) حضرت علقمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ
فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود را
رضی
اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔
اَلَا أَصَلِّي بِكُمْ صَلوةَ رَسُولِ
اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ .وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمْ
يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.
ترجمہ
: کیا میں تمہیں رسول اللہ کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں ۔ ( یہ کہا) پھر نماز
پڑھی اور سوائے پہلی مرتبہ یعنی تکبیر اولی کے کسی بھی جگہ رفع یدین نہ فرمایا۔
ترندی ، نسائی کے ابو داؤد سلام
اس روایت کا تجزیہ کرتے ہوئے امام
ترمذی فرماتے ہیں۔(251)
وَفِي
الْبَابِ عَنْ بَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ
حَسَنُ وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ
النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ
وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ وَاهْلِ الْكُوفَهِ.
ترجمہ:
اس بات میں (یعنی صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع یدین کرنے کے بارہ میں ) حضرت
براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی حدیث پاک مروی ہے امام ترندی مزید فرماتے
ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث (سند کے اعتبار سے) حسن یعنی بہت بہتر ہے ۔
مزید یہ کہ حضور نبی کریم کے بہت سے (عام صحابہ نہیں بلکہ ) علماء صحابہ کرام
رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی پر عمل کرتے تھے اور اسی طرح تابعین بھی اور حضرت
سفیان ثوری اور اہل کوفہ (امام ابو حنیفہ ) کا بھی یہی فرمان ہے ( کہ تکبیر تحریمہ
کے سوا کہیں رفع یدین نہ کیا جائے ) ۔( ترندی)
فائدہ:
قارئین کرام ! آپ نے امام ترمذی کی روایت کردہ حدیث اور اس پر خود انہی کا تبصرہ
ملاحظہ فرمایا۔ دیکھئے اس سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ:
حضرت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جو خود بڑے فقیہہ صحابی ہیں وہ جماعت صحابہ
کے سامنے حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کا یہ انداز نماز پیش فرماتے ہیں مگر کوئی
بھی انکار نہیں کرتا۔ کیا وہ خدانخواستہ حضرت عبداللہ سے ڈرتے تھے۔ نہیں ہرگزنہیں
بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ حق یہی ہے۔
ہ یہ
حدیث ضعیف نہیں ہے کہ قابل عمل نہ ہو بلکہ حسن یعنی بہترین اور لائق دلیل ہے کہ جس
کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
پہلی
مرتبہ یعنی تکبیر اولیٰ کے علاوہ رفع یدین نہ کرنے پر محض عام صحابہ کرام نہیں
بلکہ جید علماء قسم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عمل فرماتے تھے۔ ہیں ان
جید صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے تابعین اور فقہا مثلاً سفیان ثوری اور امام
اعظم رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہم کا بھی یہی مذہب تھا۔(252)
مذکورہ
بالا حدیث پاک کو امام نسائی نے اپنی سنن کے کتاب الافتتاح ج 1 ص 58 مطبوعہ کراچی
میں نقل فرمایا اور اسی طرح (سنن ابی داؤد ج 1 ص 118 میں کتاب الصلوۃ) میں یہ حدیث
مذکور ہے۔ مزید برآں سنن ابو داؤد میں ہے۔
حَدَّثَنَا
حَسَنُ بْنُ عَلِيِّ نَامُعَاوِيَةُ وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو وَاَبُوْ حُذَيْفَةً
قَالُوْ أَنَا سُفْيَانُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي
أَوَّلِ مَرَّةٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَرَّةً
وَاحِدَهُ.
ترجمہ:
حضرت حسن بن علی، معاویه، خالد بن عمر اور حضرت ابو حذیفہ نے اپنی سند کے ساتھ
سفیان سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھائے اوربعض نے کہا صرف ایک
مرتبہ ہاتھ اُٹھائے۔ (ابو داؤد)
(253)
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی
عنہ سے
روایت کیا کہ:
إِنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا
افْتَحَ الصَّلوةَ رَفَعَ
يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ.
ترجمہ:
بے شک رسول اللہ ہے جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھ مبارک کانوں کے قریب تک
اُٹھاتے اس کے بعد (پوری نماز میں ) پھر ایسا نہ کرتے۔(ابوداؤد)
(254)
حضرت ابن ابی شیبہ جو کہ حضرت امام بخاری و امام مسلم کے استاد محترم ہیں۔ انہوں
نے اپنی مشہور زمانہ کتاب المصنف ص 267 جلد نمبر 1 میں مذکورہ بالا روایات ابن
مسعود و براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بَاب مَنْ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ
ثُمَّ لَا يَعُودُ “ میں
نقل فرمایا۔ امام ابن ابی شیبہ مزید آثار نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عاصم بن کلیب نے
اپنے باپ سے روایت کیا کہ : (255) حضرت علی المرتضیٰ کا عمل :
إِنَّ
عَلِيًّا يَرْفَعَ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلوةَ ثُمَّ لَا يَعُودُ –
ترجمہ:
بے شک حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم اپنے دونوں ہاتھ جب نماز شروع
کرتے تب اُٹھاتے پھر نہیں اُٹھاتے تھے۔ ( ابن ابی شید (1) (256)
حضرت عبداللہ بن مسعود :
امام
ابراہیم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ أَنَّهُ
كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَايَسْتَفْتَحُ ثُمَّ لَا يَرْفَعُهَا - بے شک
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز کے شروع میں افتتاح نماز کے وقت ہاتھ اُٹھاتے پھر
کہیں نہ اٹھاتے تھے ۔ ( ابن ابی شیبہ )
امام اشعث و شعمی :
امام
اشعث سے مروی ہے کہ انهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ
تَكْبِيرٍ ثُمَّ لا یرفعھا ۔ بے شک آپ پہلی ہی تکبیر میں ہاتھ
اٹھاتے تھے پھر نہیں اُٹھاتےتھے۔ ( ابن ابی شیبہ (۳)
امام نخعی:
حضرت
حصین و حضرت مغیرہ امام شخصی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوںنے فرمایا۔ إِذَا
كَبَّرْتَ فِي فَاتِحَةِ الصَّلوةِ فَارْفَعُ يَدَاكَ ثُمَّ لَا تَرْفَعُهُمَا
فيما بقی ۔ جب تم نماز شروع کرو تو تکبیر کہو اور اپنے دونوں
ہاتھوں کو اوپر اٹھاؤ۔ پھر باقی نماز میں انہیں او پر نہ اٹھاؤ۔ ( ابن ابی شیبہ )
شاگردان علی و عبد اللہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہما :
امام
ابو اسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ كَانَ أَصْحَابُ
عَبْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابُ عَلِي لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا فِي
افْتِتَاحِ الصَّلَوةِ، قَالَ وَكِيعٌ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ ۔ حضرت
عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے شاگرد بھی صرف
نماز کے شروع میں ہاتھ اُٹھاتے تھے۔ وکیع فرماتے ہیں کہ پھر دوبارہ نہیں اُٹھاتے
تھے۔ ( ابن ابی شیبہ )
حضرت
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہحضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے
ہیں کہ انہوں " نے فرمایا۔ لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِيَ إِلَّا
فِي سَبْعِ مَوَاطِنِ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلوةِ . وَإِذَارَائِ الْبَيْتَ
وَعَلَى الصَّفَاءِ وَعَلَى الْمَرْوَةِ وَفِي عَرَفَاتٍ وَفِي جَمْعِ وَعِندَ
الْجَمَارِ .
سات مقامات کے سوا
کہیں بھی رفع یدین نہ کیا جائے۔ (۱) جب نمازکے
لئے کھڑا ہو (۲) جب حرم
کعبہ اللہ کو دیکھے (۳) صفا پر
(۴) مروہ پر (۵) میدان
عرفات میں (۲) میدان
مزدلفہ میں اور (۷) رمی
جمار کے وقت ۔( ابن ابی شیبہ )
فائدہ
پتہ چلا کہ صرف نماز کے ابتداء میں ہی رفع یدین کرنا چاہیے ورنہ وہ فرماتے کہ رکوع سجود کے وقت بھی۔ (واللہ
تعالیٰ اعلم)
حضرت ابن عمر رضی اللہ
تعالیٰ عنہ
حضرت
مجاہد رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں۔ مَا رَأَيْتَ
ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ ۔ میں نے
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو نماز کے شروع میں ہاتھ اُٹھاتے دیکھا
اس کے سوا کسی جگہ بھی نہیں۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ
تعالٰی عنہ :
حضرت
اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ صَلَّيْتُ مَعَ
عُمَرَ فَلَمُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلوتِهِ إِلَّا حِيْنَ
افْتَتَحَ الصَّلوةَ ـ حضرت اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے نماز کی
ابتداء کے وقت ہاتھ اُٹھائے پھر کسی بھی جگہ (نمازپڑھتے ) ہاتھ نہ اُٹھاتے ۔ ( ابن
ابی شیبہ ) محترم قارئین کرام ! امام بخاری و مسلم کے استاد امام ابن ابی شیبہ نے
اس باب میں پندرہ احادیث و آثار اپنی سندوں کے ساتھ روایت فرمائیں۔ جو ہرالتی میں
ہے کہ یہ سب اسناد جید ہیں ان میں کوئی بھی ضعیف نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ صحابہ و
تابعین (سوائے تکبیر تحریمہ کے ) کہیں بھی رفع یدین نہیں فرمایا کرتےتھے۔ ( جو ہر
انقی )
ازالہ شبہات :
اگر
کسی دوست کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ جن صحابہ سے رفع یدین نہ کرنا ثابت ہے۔
انہی سے کرنا بھی ثابت ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے تو جوابا عرض ہے کہ وہ حضرات پہلے
کراتے تھے پھر نہیں۔ گویا ایک عمل پہلے کا ہے اور دوسرا بعد کا۔ ہم حنفیہ یہ ثابت
کرتے ہیں کہ یہ وہ عمل ہے جو پہلے کیا جاتا تھا اور بعد میں نہیں۔ دنیا بھر کے غیر
مقلدین کا فرض ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ پہلے نہیں کیا جاتا تھا اور پھر سابقہ حکم
منسوخ کر کے رفع یدین کا حکم دے دیا گیا۔ ورنہ وہ بتائیں کہ ان احادیث مبارکہ کا
کیا بنے گا کہ جن میں رفع یدین کے نہ کرنے کا حکم ہے۔ جب کہ ہم ثابت کرتے ہیں کہ
حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے رفع یدین سے منع کرے فرمایاملاحظہ ہو۔
رفع الیدین کو منع خود رسول اللہ
نے کیا ہے
حضرت
جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ خَرَجَ عَلَيْنَا
رَسُولُ اللَّهَ ، فَقَالَ مَالَى أَرَاكُمُ رَافِعِيُّ أَيْدِيَكُمْ كَأَنَّهَا
أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسِ اسْكُنُوا فِي الصَّلوة - (ایک
مرتبہ ہم نماز پڑھ رہے تھے ) رسول اللہ ے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کیا
وجہ ہے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دمیں
ہیں نماز میں سکون اختیارکرو۔ (مسلم شریف)
فائدہ:
مسلم شریف کی اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ حضور اکرم ہے۔ رفع یدین کرنے والوں کو
سکون کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ چونکہ رفع یدین کے سکون کے منافی ہے لہذا ہم
کو حکم مصطفی کے مطابق پر سکون انداز میں نمانوپڑھنی چاہیے۔
واضح
رہے کہ صحیح مسلم شریف حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی دوسری روایت
میں ہے کہ:
كُنَّا
إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ
وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ
عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ فَقَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا
تُؤْمِنُونَ يَدَهُ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْ نَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ إِنَّمَا
يَكْفِي أَحَدُكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى
أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ.
ترجمہ:
جب رسول اللہ اللہ کے ساتھ ہم صحابہ نماز پڑھتے تو اختتام نماز پر دائیں بائیں
السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ ملاحظہ فرما
کر حضور اکرم نبی محترم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنے ہاتھوں سے یوں
اشارے کرتے ہو جس طرح شریر گھوڑوں کی ڈمیں ہلتی ہیں۔ تمہیں یہ ہی کافی ہے کہ تم
قعدہ میں اپنے زانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کہا
کرو ۔ (مسلم شریف) بعض لوگ یہ ثابت کرتے ہیں کہ حدیث ہذا سابقہ حدیث کی تفسیر ہے
یعنی اس حدیث میں سابقہ حدیث والی بات کو زیادہ واضح انداز میں پیش کیا گیا ہے
یعنی جس رفع یدین سے منع کیا گیا ہے وہ سلام پھیر تے وقت کا رفع یدین ہے۔
انصاف کی نظرسے:
دیکھا
جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ دو واقعات جدا جدا ہیں۔ ہم نے اس جگہ اصل عربی عبارات
نقل کی ہیں تا کہ یہ شبہ نہ رہے کہ شاید اصل الفاظ کیا تھے؟ اب دونوں روایات کو
دیکھیں۔ پہلی میں یہ ہے کہ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم اکیلے نماز پڑھ رہے تھے کہ
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔
جب کہ
دوسری روایت میں ہے کہ ہم حضور اکرم ﷺکی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔ گویا یہ دو
جدا جدا واقعات ہیں ایک نہیں اگر یہ کہا جائے کہ واقعات تو دو ہیں۔ لیکن مقصد ایک
ہی ہے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ دوسری روایت میں یہ الفاظ نہایت واضح ہیں کہ ثُمَّ
يُسَلَّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِيْنِهِ وَشِمَالِهِ پھر وہ
سلام کرے اپنے بھائی کو جو اس کے دائیں طرف ہے جو اس کے بائیں طرف ہے یہ عمل صرف
ایسی ہی صورت میں ممکن ہے کہ باجماعت نماز پڑھی جائے اور سارے مقتدی اکٹھے سلام
پھیر ہیں۔ اس طرح وہ ایک دوسرے کو سلام کریں لیکن اگر لوگ الگ الگ نماز پڑھ رہیں
ہو تو وہ ایک دوسرے کو کس طرح سلام کریں گے۔ کیونکہ ا کوئی تو سلام پھیر رہا ہو گا
کوئی قیام میں، کوئی رکوع میں اور کوئی سجود میں ہوگا ایک دوسرے کو سلام کس طرح
کریں گے۔ اسی طرح ایک آدمی تنہا نماز پڑھتا ہے تو وہ دائیں بائیں اپنے کس بھائی کو
سلام کہے گا؟ لا محالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پہلی روایت میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ
دوسرے رفع یدین منع ہیں جبکہ دوسری روایت ہے میں بوقت سلام ہاتھ سے اشارے کرنا منع
ہیں۔ علاوہ ازیں پہلی حدیث میں ہے أَسْكُنُوا فِي الصَّلوة یعنی دوران نماز سکون
اختیار کرو، ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ جبکہ دوسری روایت میں بوقت اختتام نماز یعنی نماز ختم
کرتے ہوئے اشارے نہ کرو۔ ہمارے اس دعوے کی تائید
نسائی شریف کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے ملاحظہ ہو۔
عَنْ
جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ
رَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصَّلَوَةِ فَقَالَ مَا بَالُهُمْ رَافِعِيْنَ
أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلَوةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشَّمْسِ
أَسْكُنُوا فِي الصَّلوةِ. حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ اللہ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم دوران نماز رفع
یدین کر رہے تھے (یعنی ہاتھ اٹھا رہے تھے ) اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے
فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ دوران نماز اس طرح رافِعِینَ
أَيْدِيهِمُ ) رفع یدین کر رہے ہیں جس طرح سرکش گھوڑوں کی
ذمیں۔ نماز میں سکون اور اطمینان کرو ۔ (سنن نسائی) !
فائدہ محترم قارئین کرام ! عربی
عبارت کی عبارت پر غور فرمائیں کہ رفع یدین دوران نماز کیا جا رہا تھا اور حضور
اکرم ﷺنے بھی یہ ہی فرمایا کہ رَافِعِيْنَ أَيْدِيَهُمُ فِي
الصَّلوةِ “وہ نماز میں رفع یدین کر رہے ہیں اس عمل سے منع فرما
کر نماز میں سکون و اطمینان کا حکم دیا۔
مزید
تسلی کے لئے مسند امام احمد کی روایت کے ان الفاظ پر غور فرما لیجئے۔
أَنَّهُ
عَلَيْهِ السَّلامُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَبْصَرَ قَوْمًا قَدْ رَفَعُوا
أَيْدِيَهُمُ فَقَالَ قَدْرَ فَعُوْهَا
كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشَّمْسِ أَسْكُنُوا فِي الصَّلوةِ.
ترجمہ:
حضور اکرم نبی محترم نے مسجد میں تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ رفع یدین
کر رہے ہیں تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا یہ لوگ ہاتھ اوپر اٹھا رہے ہیں۔
(یعنی رفع یدین کرتے ہیں) جس طرح سرکش گھوڑے کی دمیں (اوپر کو بار باراٹھتی ہیں )
سکون اختیار کر ونماز میں ۔ (مسئلہ رفع یدین)۔(مسند امام احمد ، مسند امام احمد )
طحاوی
کے دلال : حضرت امام ابو جعفر احمد بن محمد الطحاوی رحمتہ اللہ علیہ متوفی 321 ھ
اپنی مشہور زمانہ کتاب شرح معانی الآثار میں اپنی سند کے ساتھ حضرت براء بن عازب
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث مبارکہ تین مختلف اسناد کے ساتھ نقل فرماتےہیں کہ:
عَنْ
بَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ
وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ لا فُتِتَاحِ الصَّلوةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَ
إِبْهَامَاهُ قَرِيْبًا مِّنْ شَحْۃِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ :
ترجمہ:
نبی کریم نے جب نماز شروع فرماتے ہوئے تکبیر کہتے تو اپنے مبارک ہاتھوں کو اتنا
اُٹھاتے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے انگوٹھے آپ سے کے دونوں کانوں کے لوؤں کے
قریب ہو جاتے اس کے بعد ( آخر نماز تک ) آپ کے رفع یدین نہ
فائدہ :
اس
حدیث مبارکہ سے دو باتیں نہایت واضح انداز میں معلوم ہوتی ہیں ۔ کہ (۱) حضور اکرم ٍﷺنے رفع یدین ترک فرمادیا تھا۔
(۲) انگوٹھے کانوں کی لوتک اٹھانے چاہیے۔
امام
طحاوی علیہ الرحمۃ نے اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ
تعالٰی عنہ سے مروی حدیث مبارکہ نقل فرمانے کے علاوہ مختلف صحابہ کے عمل سے بھی
ثابت فرمایا کہ وہ رفع یدین نہیں کرتے تھے کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ
تعالیٰ وجہہ الکریم حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروق اعظم
رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ ان صحابہ سے رفع یدین کرنا بھی ثابت ہے اس لئے وہ ان کے
اس عمل پر تبصرہ بھی فرماتے ہیں مثلاً حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
صَلَّيْتُ
خَلْفَ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي تَكْبِيرَةِ
الأولى مِنَ الصَّلوة.
میں نے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں نمازیں پڑھی ہیں وہ پہلی
تکبیر کے سوا کہیں بھی رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔ ( طحاوی سم اس روایت پر طحاوی کے
تبصرہ کا مفہوم یہ ہے کہ:
حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک زمانہ تک حضور اکرم کو رفع یدین کرتے
ہوئے دیکھا۔ ایک روایت کے مطابق آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ خود بھی رفع یدین کرتے رہے
پھر انہوں نے رفع یدین کیوں چھوڑا؟ حالانکہ کہ آپ نہایت سختی سے سنت پر عمل کیا
کرتے تھے۔ لا محالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک بھی یہ
بات ثابت شدہ ہے کہ رفع یدین منسوخ ہو چکا ہے۔ وگرنہ آپ کبھی بھی رفع یدین کو ترک
نہ فرماتے ۔ ظاہر ہے کہ ترک شده عمل سنت
نہیں کہلاتا۔ ( طحاوی )
کریں وہ جو جی میں آئے:
تکبیر
تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہ کرنے کے بارہ میں موطا امام محمد طحاوی شریف، جو ہر
انتقی صیح البہاری میں بہت سی احادیث مبارکہ اور آثار صحابہ درج ہے۔ جن کو درج
کرنا بحث کو مزید طویل کرنا ہے۔ آخر میں ہم عینی شرح بخاری کے حوالہ سے حضرت
عبداللہ ابن زبیر کا حکم نقل کرتے ہیں۔ سنئیے آپ کیافرماتے ہیں۔
أَنَّهُ
رَأَى رَجُلًا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَوةِ عِنْدَ الرَّكُوعِ وَعِنْدَ
رَفْعِ رَأْسِهِ مِنَ الرَّكُوعِ فَقَالَ لَهُ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّهُ شَيْءٌ
فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ ثُمَّ تَرَكَهُ.
ترجمہ:
آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک آدمی کو رکوع میں جاتے اور رکوع سے کی سر اُٹھاتے
وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو اُسے فرمایا، ایسا نہ کیا کرو کیونکہ یہ وہ عمل
ہے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پہلے کیا تھا پھر چھوڑ دیا۔ ( عینی شرح
بخاری)
محترم
قارئین کرام یہ ہے ہمارا موقف کہ یہ عمل پہلے کیا جاتا تھا پھر ترک کر دیا گیا۔
جبکہ غیر مقلد حضرات بفضلہ تعالی کوئی بھی صحیح ، مرفوع حدیث پیش نہیں کر سکتے کہ
رفع یدین پہلے نہیں کیا جاتا تھا لیکن بعد میں کیا جانے لگا۔
عاؤں
کا طالب
فقیر محمد اسرار محی الدین قادری