جمعرات، 27 جون، 2024

تقلید کی شرعی حیثیت

 


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ www. asrarmohyiddin.blogspot.comمیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔

آج کی پوسٹ تقلیدکے بارے میں ہے ان شاء اللہ مفید رہے گی

کس پر تقلید کرنا واجب ہے اور کس پر نہیں

مجتہد کس کو کہتے ہیں

مجتہد کی کتنی قسمیں ہیں 

کون لوگ ہیں جن کو تقلید کی ضرورت نہیں 

مکلف مسلمان دو طرح کے ہیں ایک مجتہد۔ دوسرے غیر مجید

مجتہد وہ ہے جس میں اس قدر علمی لیاقت اور قابلیت ہو کہ قرآنی اشارات ورموز سمجھ سکے اور کلام کے مقصد کو پہنچان سکے اس سے مسائل نکال سکے۔ ناسخ ومنسوخ کا پورا علم رکھتا ہو علم صرف ونحو و بلاغت میں مہارت حاصل احکام کی تمام آیتوں اور احادیث پراس کی نظر ہو اس کے علاوہ ذکی اور خوش فہم ہو۔د یکھو تفسیرات احمدیہ وغیرہ جو کہ اس درجہ پر نہ پہنچ سکا  ہووہ غیر مجتہد یا مقلد ہے۔ غیر مجتہد پر تقلید ضروری ہے۔ مجتہد کے لئے تقلید منع۔

مجتہد کے چھ طبقے ہیں (۱) مجتہد فی الشرع (۲) مجتہد فی المذهب (۳) مجتہد فی المسائل (۴) اصحاب الخريج (۵) اصحاب الترجیع (۶) اصحاب التمیز (مقدمہ شامی بحث طبقات النقباء)

(۱) مجتہد فی الشرع وہ حضرات ہیں جنہوں نے اجتہاد کرنے کے قواعد بنائے۔ جیسے چاروں امام (امام اعظم ابو حنیفہ امام مالک امام شافی اورامام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم اجمعین)۔

 (۲) مجتہد فی المذہب وہ حضرات ہیں جو ان اصول میں تقلید کرتے ہیں اور ان اصول سے مسائل شرعیہ فرعیہ خود استنباط کر سکتے ہیں جیسے امام ابو یوسف و محمد ابن مبارک رحمہم اللہ اجمعین کہ یہ قواعد میں حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مقلد ہیں اور مسائل میں خود مجتہد۔

(۳) مجتہد فی المسائل وہ حضرات ہیں جو تو اعد اور مسائل فرعیہ دونوں میں مقلد ہیں۔ مگر وہ مسائل جن کے متعلق آئمہ کی تصریح نہیں ملتی۔ ان کو قرآن وحدیث وغیرہ دلائل سے نکال سکتے ہیں۔ جیسے امام طحاوی اور قاضی خان شمس الائمہ سرسی و غیر ہم۔

(۴) اصحاب التخریج وہ حضرات ہیں جو اجتہاد تو بالکل نہیں کر سکتے ہاں آئمہ میں سے کسی کے مجمل قول کی تفصیل فرما سکتے ہیں جیسے امام کرخی وغیرہ۔

(۵) اصحاب الترجیح وہ حضرات ہیں جو امام صاحب کی چند روایات میں سے بعض کو ترجیح دے سکتے ہیں یعنی اگر کسی مسئلہ میں حضرت مام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو قول روایت میں آئے تو ان میں سے کس کو ترجیح دیں۔ یہ وہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جہاں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہو تو کسی کے قول کو ترجیح دے سکتے ہیں کہ ہذا اولی یا ہذا اصح وغیرہ جیسے صاحب قدوری اور صاحب ہدایہ۔

(۲) اصحاب تمیز وہ حضرات ہیں جو ظا ہر مذہب اور روایات نادرہ اسی طرح قول ضعیف اور قوی اور اقویٰ میں فرق کر سکتے ہیں کہ اقوال مردوده روایات ضعیفہ کو ترک کر دیں۔ اور صحیح روایات اور معتبر قول کو لیں جیسے کہ صاحب کنز اور صاحب در مختار وغیرہ۔(رد التارج اس ۷۲ مطبوعہ استانبول )

جن میں ان چھ وصفوں میں سے کچھ بھی نہ ہوں۔ وہ مقلد محض ہیں۔ جیسے ہم اور ہمارے زمانے کے عام علماء کہ ان کا صرف یہ ہی کام ہے کہ کتاب سے مسائل دیکھ کر لوگوں کو بتادیں۔

ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ مجتہد کو قید کرنا حرام ہے تو ان چھ طبقوں میں جو صاحب ہیں جس درجہ کے مجتہد ہوں گے۔ وہ اس درجہ سے کسی کی تقلید نہ کریں گے۔ اور اس سے اوپر والے درجہ میں مقلد ہوں گے جیسے امام ابو یوسف ومحمد حمہم اللہ تعالی کہ یہ حضرات اصول اورقوائد میں تو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد ہیں اور مسائل میں چونکہ خود مجتہد ہیں ۔ اس لئے ان میں مقلد نہیں۔ ہماری اس تقریر سے ان دوستو کا یہ سوال بھی اٹھ گیا کہ جب امام ابو یوسف محمد علیہ الرحمہ حنفی ہیں اور مقلد ہیں تو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی جگہ جگہ مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ تو یہ ہی کہا جاوے گا کہ اصول و قواعد میں یہ حضرات مقلد ہیں ۔ اس میں مخالفت نہیں کرتے اور فرعی مسائل میں مخالفت کرتے ہیں اس میں خود مجتہد ہیں۔ وہ کسی کے مقلد نہیں۔

یہ سوال بھی اٹھ گیا کہ تم بہت سے مسائل میں صاحبین کے قول پر فتوی دیتے ہو اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو چھوڑتے ہو پھر تم حنفی کیسے ؟ جواب آگیا کہ بعض درجہ کے فقہاء اصحاب ترجیح بھی ہیں جو چند قولوں میں سے بعض کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے ہم کو ان فقہاء کا ترجیح دیا ہوا جو قول ملا اس پر فتوی دیا گیا یہ سوال بھی اٹھ گیا کہ تم اپنے کو یوحنفی پھر کیوں کہتے ہو ۔ یوسفی یا محمدی یا ابن مبار کی کہو! کیونکہ بہت کی جگہ تم ان کے قول پر عمل کرتے ہو امام ابو حنیفہ کا قول چھوڑ کر ۔ جواب یہ ہی ہوا کہ چونکہ ابو یوسف ومحمد ابن مبار کہ رحمہم اللہ تعالی کے تمام اقوال امام ابوحنیفہ علیہ الرحمتہ کے اصول اور قوانین پر بنے ہیں۔ لہذا ان میں سے کسی بھی قول کو لیتا در حقیقت امام صاحب ہی کے قول کو لینا ہے جیسے حدیث پر عمل در حقیقت قرآن پر ہی عمل ہے کہ رب تعالٰی نے اس کا حکم دیا ہے مثلاً امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ کوئی حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو وہ ہی میرا مذ ہب ہے۔ اب اگر کوئی محقق فی المذاہب کوئی صحیح حدیث پا کر اس پر عمل کرے تو وہ اس سے غیر مقلد نہ ہوگا۔ بلکہ حنفی رہے گا کیونکہ اس نے اس حدیث پر امام صاحب کے اس قاعدے سے عمل کیا یہ پوری بحث دیکھو مقدمہ شامی مطلب صح من الامام اذا صح الحديث فهو مذهبی (ردالمختارج اص ۶۳ مطبوعہ استانبول ) امام صاحب کے اس قول کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب کوئی حدیث صحیح ثابت ہوئی ہے تو وہ میرا مذہب بنی یعنی ہر مسئلہ اور ہر حدیث میں میں نے بہت جرح قدح اور تحقیق کی ہے تب اسے اختیار کیا چنانچہ حضرت امام کے یہاں ہر مسئلہ کی بڑی چھان بین ہوتی تھی۔ مجتہد شاگردوں سے نہایت تحقیقی گفتگو کے بعد اختیار فرمایا جاتا تھا۔

اگر یہ مختصرسی تقریر خیال رکھی گئی تو بہت مشکلوں کو انشاء اللہ حل کر دے گی اور بہت کام آئیگی بعض دوست جو اپنے آپ کو غیر مقلد کہتے ہیں کہ ہم میں اجتہاد کرنے کی قوت ہے لہذا ہم کسی کی تقلید نہیں کرتے۔ اس کے لئے بہت طویل گفتگو کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اجتما د کےلئےکس قدر علم کی ضرورت ہے اور ان حضرات کو وہ قوت علمی حاصل ہے کہ نہیں

حضرت امام رازی، امام غزالی و غیره امام ترمزدی و امام ابوداؤد وغیرہ حضور غوث پاک حضرت بایزید بسطامی ۔ شاہ بہاء الحق نقشبند اسلام میں ایسے پایہ کے علماء اور مشائخ گزرے کہ ان پر اہل اسلام جس قدر بھی فخر کریں کم ہے۔ مگر ان حضرات میں سے کوئی صاحب بھی مجتہد نہ ہوئے بلکہ سب مقلد ہی ہوئے خواہ امام شافعی کے مقلد ہوں۔ یا امام ابوحنیفہ کے رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ زمانہ موجودہ میں کون ان کی قابلیت کا ہے جب ان کا علم مجتہد بننے کے لئے کافی نہ ہوا۔ تو جن بے چاروں کو ابھی حدیث کی کتابوں کے نام لینا بھی نہ آتے ہوں وہ کس شمار میں ہیں۔

ایک صاحب نے دعوئی اجتہاد کیا میں نے ان سے صرف اتنا پوچھا کہ سورۃ تکاثر سے کس قدر مسائل آپ نکال سکتے ہیں اور اس میں حقیقت مجاز ، صریح و کنا یہ ظاہر ونص کتنے ہیں۔ ان بے چارے نے ان چیزوں کے نام بھی نہ سنے تھے۔

اب ہم قرآن مجید سے کچھ آیات کو نمونہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ جن میں تقلید کا ہی حکم ہے اور شرعی حکم ہے

(الف) فَاسْئَلُوْآ اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ اس آیت میں لوگوں کو حکم ہے کہ جو شرعی حکم تم کو معلوم نہ ہو اس کو اہل علم سے معلوم کرکے اس پر عمل کرو۔ اسی کا نام تقلید ہے۔

(ب) أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ اس آیت میں حکم ہے کہ جو لوگ ہدایت پر ہیں (یعنی انبیائے سابقین علیہم الصلاة والتسلیم) ان کی اقتدا اور پیروی کرو۔

(ج) يااَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ اس آیت میں اہل علم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، ان مسائل میں جو قرآن و حدیث میں صراحتاً مذکور نہیں ہیں۔

(د) وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَ اِلَی اُولِی الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہ مِنْھُمْ اگر یہ لوگ اس امر کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اولو الامر کے حوالہ کرتے تو جو لوگ اہل فقہ اور اہل استنباط ہیں وہ سمجھ کر ان کو بتلادیتے۔ اس آیت سے بھی ائمہ مجتہدین کی اتباع کا ثبوت ملتا ہے۔

(ھ) وَجَعَلْنَاھُمْ اَئِمَّةً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا ان تمام آیات میں اتباع و تقلید کی تاکید فرمائی گئی ہے اور ان سے تقلید مطلق کا ثبوت ہوتا ہے۔

اب ایسی چند احادیث لکھی جاتی ہیں جن سے تقلید شخصی کا ثبوت ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہٴ کرام جہاں جہاں تشریف لے گئے وہاں اُن کی تقلید کی گئی اوران کے بعد ان کے شاگردوں کی پھر ائمہ اربعہ کا زمانہ آیا تو جب اہل زمانہ نے ان کو علوم قرآن و حدیث میں سب سے زیادہ فائق اور قابل اعتماد پایا اور ان کو اسلاف کے تمام تر علوم کا جامع پایا تو ان کی تقلید کی، انھوں نے قرآن وحدیث سے مسائل کے استنباط کے لیے اصول و قواعد مرتب کیے اور ایسے مسائل کا استنباط کیا جو قرآن وحدیث میں صراحتاً مذکور نہیں ہیں اور واضح رہے کہ ائمہ اربعہ کے مقلدین ان کی تقلید صرف استنباطی مسائل، اور ایسے مسائل ہی میں کرتے ہیں جو قرون اولیٰ صحابہٴ کرام -رضی اللہ عنہم- کے زمانہ سے اختلافی چلے آرہے ہیں، ان مسائل میں کوئی کسی کی تقلید نہیں کرتا جو قرآن وحدیث میں صراحتاً مذکور ہیں، جن میں کسی قسم کے اجمال و احتمال کی گنجائش نہیں ہے۔

 

Read more ...

ہفتہ، 22 جون، 2024

تقلید کیوں ضروری ہے

 


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ www. asrarmohyiddin.blogspot.comمیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔

آج کی پوسٹ تقلید کے بارے میں ایک تحقیق ہے  ان شاء اللہ مفید رہے گی

تقلید کیوں ضروری ہے؟

بحمد اللہ تعالیٰ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین ، دین فطرت ہے۔ یہ دین چونکہ قیامت تک تمام نسل انسانی کیلئے ہے۔ اس لئے اس کے اصول وقوانین ہر قوم ہر ملک اور ہر زمانے کے لوگوں کیلئے قابل عمل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ جو کہ رب العالمین بھی ہے اور عزیز وحکیم بھی۔ اُس نے اپنی شانِ حکمت کے لائق اس دینِ متین کو ایک ہی دن یا ایک ہی وقت میں نافذ نہ فرمایا بلکہ اسی کی بنیادی کتاب قرآن مجید کو تقریباً تئیس 23 سال تک مسلسل نازل فرمایا اور اس میں مناسب مواقع پر ترمیم و تنسیخ فرمائی ۔ جیسا کہ خود قرآن کریم میں اعلانِ خداوندی ہے کہ: ماننسخ من آية أولينهَا تَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللّٰهَ عَلَى كُلِّ شَيْ قَدِير (البقره، آیت نمبر 106)

جب کوئی آیت ہم منسوح فرمائیں یا پھلا دیں (یعنی آپ ﷺکے ذہن سے محو فرما دیں) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے۔ (اے قرآن کے پڑھنے والے) کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

اس میں علم خداوندی کے مطابق بے شمار حکمتوں کے علاوہ ایک یہ حکمت بھی نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رحمتہ للعالمین کے غلاموں پر خاص کرم فرمایا کہ ان پر بتدریج پابندیاں عائد فرما ئیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو ساری تو راۃ ایک ہی مرتبہ عطا فرما دی گئی تھی اس لئے بنی اسرائیل نے تو راہ کے سخت قوانین کو ماننے سے انکار کر دیا۔ لیکن قرآن کریم اس قدر احسن ترین انداز میں نازل ہوا کہ اس کے سخت ترین احکامات بھی دل و جان سے تسلیم کر لئے گئے

مثلاً شروع میں نماز پڑھنے کا حکم تو دیا مگر ایسی نماز کہ جس میں گفتگو بھی کی جاسکتی تھی اور رکعتیں بھی صرف دو ، دوہی رکھی گئیں ۔ پھر آہستہ آہستہ ان کی رکعات بھی بڑھادی گئیں اور پابندیاں بھی عائد فرما دی گئیں۔ اسی طرح روزہ کی موجودہ حالت کئی مرحلوں کے بعد ہوئی۔ پہلے پہل روزہ دار کو افطاری کے بعد سوسنے سے قبل تک کھانے پینے کی اجازت تھی بعد میں نہیں۔ پھر حضرت صرمہ بن قیس کا واقعہ پیش آیا تو طلوع فجر تک کھانے پینے کی اجازت مل گئی۔ اسی طرح رمضان المبارک کی راتوں میں بھی میاں بیوی کو قرب صنفی کی اجازت نہ تھی پھر اس کی اجازت دے دی گئی۔ شروع اسلام میں کفار سے لڑائی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ صبر کرنے کا حکم تھا۔ پھر قتال و جہاد کو فرض فرما دیا گیا۔ ابتدأ بد کار عورتوں کو محض قید کرنے کا حکم تھا بعد میں باقاعدہ حد جاری کرنے کا حکم ارشاد فرما دیا گیا۔ پہلے پہل قبلہ بیت المقدس تھا پھر حرم کعبہ بنا دیا گیا۔ ابتداءً اسلام میں مشرکین کے ساتھ شادی کرنے کی کھلم کھلا اجازت تھی یعنی یہ عام تھا کہ مرد تو مشرک ہے مگر اس کی بیوی مومنہ ہے۔ یونہی مرد تو دامن مصطفی ﷺ سے وابستہ ہے مگر بیوی بت پرست ہے۔ لیکن بعد میں مشرکین کے ساتھ شادی بیاہ سے منع فرما دیا گیا۔ سورۃ التوبہ نازل ہونے سے قبل کفار کو حرم کعبہ میں داخلہ کی عام اجازت تھی مگر بعد میں اُن کو حدود حرم میں داخل ہونے سے بختی کے ساتھ روک دیا گیا۔ الغرض احکامات و اعمال میں ترمیم و تنسیخ ہوتی رہی۔ ان میں بعض چیزیں تو بالکل عیاں ہیں کہ اُن کو اپنانے میں ذرا بھر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی لیکن بعض اعمال و احکام ایسے ہیں کہ اُن میں ناسخ و منسوخ اور راجح و مرجوح کو جاننے کیلئے بہت زیادہ علم و تحقیق کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ احادیث نبویہ پر اس قدر وسیع نظر کی ضرورت ہے کہ لاکھوں احادیث مبارکہ اس انداز سے ذہن  میں محفوظ ہوں کہ ہر حدیث کا معیار صحت وضعف بھی اچھی طرح یاد ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ کس قسم کے ماحول میں کیا حکم دیا گیا تھا۔ اور اس کا بھی پتہ ہو کہ اس میں پہلا حکم کو نسا  ہے اور بعد والا کونسا اور یہ بات بھی خوب ذہن نشین ہو کہ جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا کس حدیث پر عمل تھا اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ مسند ہے یا غیر مسند یہ خبر متواتر ہے یا خبر مشہور و مستفیض ہے یا پھر یہ خبرواحد تو نہیں۔ پھر یہ بھی معلوم ہو کہ ان کے احکام کیا ہیں وغیرہ وغیرہ۔ . تو پھر کہیں جا کر پتہ چلتا ہے کہ کس حدیث پر عمل کیا جائے گا اور کس پر نہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ محدثین نے امت پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ انہوں نے امت مسلمہ کو احادیث نبویہ کا عظیم ذخیرہ عطا فرما دیا اور اس مقصد کے لئے انہوں نے جس قدر مشقت برداشت فرمائی ہے۔ فی زمانہ اُس کا تصور بھی۔ ممکن نہیں۔ پھر اُن لوگوں کا اخلاص اور للہیت قابل رشک تھی۔ آسمان علم وفضل کے ان نیر ہائے تاباں کے اس احسان عظیم پر آج ہر ایمان والا اُن کے حضور عقیدت و محبت کے نذرانے پیش کرتا ہوا اُن کی گدائی کا دم بھرتا ہوا نظر آتا ہے۔

با این ہمہ، بخاری و مسلم یا دیگر کتب صحاح کی چند احادیث مبارکہ پڑھ کہ یہ اعلان کر دینے والا کہ مجھے تقلید کی ضرورت نہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ حدیث پڑھی ہے اور میں اہل حدیث ہونے کے ناطے اس حدیث پر ہی عمل کروں گا۔ اُس کی مثال اُس بے چارے عطائی ڈاکٹر کی سی ہے جو سرجری کی چند کتب پڑھ کر اعلان فرما دے کہ مجھے سرجری کے اسرار و رموز جاننے کے لئے اب کسی میڈیکل کالج میں جانے اور سرجری کے پروفیسروں کے ناز نخرے اُٹھانے کی ضرورت نہیں میرے گھر میں سرجری کی کتاب موجود ہے۔ جہاں بھولوں گا کتاب کھول کر دیکھ لیا کروں گا۔ بس اب میں سول سرجن ہوں۔

تو ایسے عقل بند عطائی سرجن صاحب کو کیا کہا جائے گا ؟ یہی نا کہ جناب آپ پہلے بیالوجی ، اناٹومی اور فزیالوجی میں دسترس حاصل کریں تا کہ آپ کو اعضاء کی ساخت، اُن کے مقام وقوع، اُن کی ہیت کذائی اور اُن کے افعال وفرائض کا صحیح انداز سے پتہ چل جائے۔ پھر آپ چیر پھاڑ شروع کریں ورنہ آپ کُلاہِ گردہ کو پھوڑا سمجھ کر گردہ سے جدا کر دیں گے۔ آپ مریض کے لئے مسیحا کی بجائے وبالِ جان ثابت ہو نگے۔ پھر اگر وہ یہ کہے کہ کیا تم کو اس سرجری کی کتاب لکھنے والے سینئر ترین سول سرجن کے بارہ میں اعتراض ہے۔ تو اُسے کہا جائے گا کہ ہم کتاب لکھنے والے ڈاکٹر صاحب پر اعتراض نہیں کر رہے بلکہ ماتم تو آپ کی بے چارگی عقل کا کر رہے ہیں کہ جو صرف سرجری کی چند کتب پڑھ کر اپنے آپ کو سول سرجن بنائے بیٹھی ہے۔ بالکل اسی طرح ہم اُن حضرات کی خدمت میں عرض کریں گے کہ صرف صحاح ستہ کتب احادیث کو پڑھ کر مجتہد نہ بن بیٹھئے بلکہ کسی فقہیہ امام کی خدمت میں حاضری دیجئے۔ معاذ اللہ تعالیٰ ہمیں کتب صحاح کے مؤلفین پر اعتراض نہیں وہ تو عزت و عظمت کی نہایت بلندی پر فائز ہیں۔ اعتراض تو آپ کی کوتاہ عقلی پر ہے۔ ورنہ بتائیے بغیر کسی راہنمائی کرنے والے کے آپ ان احادیث میں سے کس پر عمل کریں گے اور کس کو ترک کریں گے۔ یادر ہے عظیم ذخیرہ احادیث میں سے یہاں صرف چند احادیث مبارکہ کا اردو ترجمہ نقل کیا جا رہا ہے گویا یہ ایک خرمن سے مٹھی بھر غلہ کا نمونہ ہے۔

کچے بچے کی نماز جنازہ:

وہ بچہ جو قبل از وقت پیدا ہو یعنی ابھی اُس میں زندگی کے آثار بھی نظر نہ آتے ہوں۔ اعضاء بھی غیر مکمل ہوں یا پھر بچہ مردہ پیدا ہو تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں۔ اس بارہ میں احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں ۔

ایک قول نماز جنازہ پڑھی جائے:

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل چلنے والا آگے اور پیچھے بھی چل سکتا ہے اور کچے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اُس کے ماں باپ کےلئے بخشش کی دعا کی جائے

ایک قول نماز جنازہ نہ پڑھی جائے:

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا، کچے بچے کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے نہ تو وہ وارث ہو گا اور نہ ہی کوئی اس کا وارث بن سکے گا۔ یہاں تک کہ آواز کرے۔"

فائدہ: یہ دونوں روایات کتب صحاح ستہ کی ہیں۔ فرمائیے آپ کسی پر عمل کریں گے اور کسے ترک کریں گے؟۔

جنازہ کے ساتھ چلنے والا آگے چلے یا پیچھے:

آپ گذشتہ حضرت مغیرہ سے مروی حدیث پاک میں ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ حکم نبوی کے مطابق سوار جنازے کے پیچھے چلے جبکہ پیدل آگے بھی چل سکتا ہے اور پیچھے بھی اب یہ احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

جنازہ کے آگے چلنا سنت نبوی ﷺ ہے:

حضرت زہری حضرت سالم سے اور وہ اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھا کہ یہ سب حضرات جنازے کے آگے آگے چلتےتھے۔ (ترمذی ، ابو داؤد ، ابن ماجہ )

جنازہ کے آگے نہ چلے:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنازہ متبوع ہے یعنی اس کے پیچھے پیچھے چلو اس کو پیچھے نہیں رکھا جاتا (یاد رکھو) جو شخص جنازے کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ ہی نہیں ہے۔(ابو داؤد، ابن ماجه ، ترندی )

جنازے کے ساتھ سوار چل سکتا ہے یا نہیں :

آپ قبل ازیں پڑھ چکے ہیں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ سوار جنازے کے پیچھے پیچھے چلے یعنی سوار جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے۔ مگر دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے تو آپ ﷺنے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا ( جو جنازہ کے ساتھ جا رہے تھے ) تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم کو اللہ تعالیٰ کے فرشتوں سے حیا نہیں آتی کہ وہ تو اپنے قدموں پر پیدل چل رہے ہیں مگر تم جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہو۔(روایت کیا اس کو ترمذی ، ابن ماجہ اور ابوداؤد نے)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ نے جنازہ کے ساتھ سوار ہو کر جانے کو سخت ناپسند فرمایا۔

فائدہ: آپ ان احادیث مبارکہ کو بار بار پڑھیں۔ پھر فرما ئیں کہ اہل حدیث ہونے کے ناطے ان سب پر کس طرح عمل کیا جائے گا۔

حالت روزہ میں سینگی لگوانا جائز ہے یا نہیں:

فصد یا پچھنوں کی طرح سینگی لگوانا بھی فاسد خون کو نکلوانے کا ایک طریقہ ہے یعنی ایک چھوٹے سائز کے سینگ کے اوپر والے خول کو نوک کی جانب سے کاٹ کر سوراخ کر لیتے ہیں پھر پچھنے لگا کر چوڑے مونہہ کی جانب سے سینگ کو پچھنوں پر رکھ کر باریک سوراخ کی جانب مونہہ لگا کر سانس اندر کو کھینچتے ہیں اس طرح فاسد خون نکل آتا ہے۔

سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر بقیع ( قبرستان مدینہ طیبہ ) کی طرف تشریف لائے وہاں ایک آدمی سینگی کھینچوا رہا تھا۔ رمضان المبارک کی اٹھارہ تاریخ تھی آپ ؤنے فرمایا۔ سینگی کھینچنے والے اور کھینچوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔(دارمی، ابی داؤد، ابن ماجه )

سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا:

حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تین چیزیں روزہ دار کا روزہ نہیں تو ڑتیں۔ سینگی لگوانا، قے اور احتلام۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حالت احرام میں بھی سینگی کھینچوائی اور حالت روزہ میں بھی سینگی کھینچوائی۔ حالت احرام میں نکاح کرنا:

حالت احرام میں بعض حلال چیز یں حرام ہو جاتی ہیں جبکہ بعض حلال اشیاء بدستور حلال ہی رہتی ہیں۔ ہم نے احادیث مبارکہ کے حوالہ سے دیکھنا ہے کہ حالت احرام میں نکاح جائز ہے یا نا جائز۔

حالت احرام میں نکاح کرنا عمل نبوی ﷺ  سے ثابت ہے:

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت احرام میں شادی فرمائی ۔ (ملاحظہ ہو صحیح بخاری و صحیح مسلم )

حالت احرام میں نکاح اور منگنی منع ہے:

حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا محرم یعنی احرام باندھنے والا نہ تو خود نکاح کرے نہ ہی کسی دوسرے کا کرے اور نہ ہی منگنی کرے۔ (صحیح مسلم شریف)

فائدہ: پہلی حدیث پاک پڑھنے والا تو یہ کہے گا کہ بخاری و مسلم سے ثابت ہے کہ حالت احرام میں نکاح کرنا سنت نبوی ﷺہے۔ جب کہ دوسری حدیث پاک کا مطالعہ کرنے والا کہے گا کہ صحیح مسلم کے مطابق حالت احرام میں نکاح تو ہے دَرْ کِنَار منگنی کرنا بھی حرام ہے اور اپنا تو اپنا رہا احرام والا تو دوسرے کا نکاح بھی نہیں پڑھا سکتا۔ اب آپ فرمائیے احادیث مبارکہ پر سطحی نظر رکھنے والا کس حدیث کےمطابق فتوی دے گا ؟

یاد رکھئے : یہ چند احادیث مبارکہ مشت نمونہ از خروارے“ کے مصداق نقل کی گئی ہیں۔ احادیث نبویہ کا طالب علم اس قسم کی روایات کتب احادیث میں جا بجا پاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ہیں تو احادیث مبارکہ ہی مگر ان پر عمل کس طرح کیا جائے اس طرح تو آدمی آدھا اہل حدیث ہو گیا اور آدھا منکر احادیث ۔ لامحالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بعض احادیث مبارکہ کو بعض پر فوقیت حاصل ہے۔ اسی طرح بعض چیزیں خصائص نبوی میں شامل ہوتی ہیں۔ جس طرح کسی روزہ توڑنے والے کا کفارہ خود اس کو کھلا دینا۔ یونہی بعض احادیث ناسخ ہوتی ہیں اور بعض منسوخ ۔ جیسا کہ حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ كَلامِيْ لَا يَنْسَخْ كَلَامَ اللهِ وَكَلَامُ اللهِ يَنْسَخُ كَلَامِيْ و كَلَامُ اللَّهِ يَنْسَخُ بَعْضَهُ بَعْضًا “۔ میرا کلام اللہ تعالیٰ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کر دیتا ہے ہاں البتہ اللہ تعالی کابعض کلام اللہ تعالی کے بعض کلام کو منسوخ کر دیتا ہے۔ (مشکو ۃ)

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضور اکرم رسول محتشم رحمت عالم ﷺ نے فرمایا۔ " إِنَّ أَحَادِيْثَنَا يَنْسَخُ بَعْضُهَا بَعْضًا كَنَسْخِ القُراٰنِ ۔ بے شک ہماری بعض احادیث مبارکہ بعض احادیث مبارکہ کو منسوخ کر دیتی ہیں۔ قرآن کریم کے نسخ کی مانند۔ (مشکوۃ)

ساری احادیث مبارکہ قابل عمل نہیں ہیں

معلوم ہوا کہ ساری احادیث مبارکہ قابل عمل نہیں بلکہ ان میں بعض ناسخ اور بعض منسوخ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں آج سوا چودہ سو سال بعد کیسے پتہ چلے گا کہ کس حدیث پر عمل کیا جائے گا اور کس پر نہیں۔ جدید سائنسی ایجادات کے باوجود آج تک کوئی ایسا آلہ ایجاد نہیں ہوا کہ ہم اس پر کسی حدیث کو پیش کریں اور وہ یہ بتادے کہ یہ ناسخ ہے یا منسوخ ۔ لامحالہ ہمیں کسی نہ کسی سے پوچھ کر عمل کرنا ہو گا۔ اب ہمارا جی چاہے تو اپنے محلے کے مولوی سے پوچھ لیں جو الا ماشاء اللہ کسی بیوروکریٹ یا چوہدری کی بڑھک سے بھی ڈر جاتا ہے اور خدانخواستہ بک بھی جاتا ہے۔ یا پھر تقویٰ و طہارت کے بلند ترین مرتبہ پر فائز حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ سے پوچھ لیں کہ جنہوں نے نہ صرف بادشاہ وقت کی طرف سے پیش کردہ عظیم منصب قاضی القضاۃ (چیف جسٹس کا عہدہ)کق ٹھکرا دیا بلکہ جیل خانہ میں اس قدر کوڑے برداشت کیے کہ جان جان آفرین کے سپرد کر دی مگر دامن تقویٰ پر آنچ نہ آنے دی۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت امام بخاری، امام مسلم، امام ترندی، ایام ابن ماجہ، امام نسائی، امام داؤ د سب کے سب ہمارے آقا ہیں۔ ان کے بارِ احسان سے ہماری گردنیں جھکی ہوئی ہیں ۔ بایں ہمہ ہر کوئی اپنے اپنے فن میں ماہر ہے۔ کوئی تو تخریج و تدوین حدیث میں ماہر ہے اور کوئی تفہیم حدیث میں ماہر ہے۔ اس جگہ ایک واقعہ نقل کیا جا رہا ہے تا کہ آپ کوہماری یہ گفتگو سمجھنے میں آسانی ہو۔ نامور محدث حضرت امام ابن حجر مکی شافعی علیہ الرحمہ اپنی کتاب الخیرات الحسان فی سیرۃ النعمان میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک دن کسی نے جلیل القدر محدث حضرت امام اعمش رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں کچھ مسائل پیش کئے۔ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ بھی سماعت حدیث کے لئے اُن کے حلقہ درس میں حاضر تھے۔ امام اعمش نے وہ مسائل اپنے اس ہونہار شاگرد کے سامنے (بطور امتحان ) پیش فرمائے تو امام ابو حنیفہ نے فوراً جواب عرض کر دیئے۔ امام اعمش نے حیران ہو کر فرمایا تم نے یہ جوابات کہاں سے اخذ کیے ہیں تو امام ابوحنیفہ نے کہا کہ ان احادیث مبارکہ سے جو کہ میں نے آپ سے سنی ہیں یہ کہہ کر آپ نے وہ ساری احادیث مبارکہ منع اسناد کے فرفر سنادیں تو امام اعمش نے نہایت درجہ متاثرہو کر فرمایا۔ حَسْبُكَ مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ فِي مِائَةِ يَوْمٍ تَحَدَّثَنِيْ بِهِ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ مَا عَلِمْتُ أَنَّكَ تَعْمَلُ  بهْذِهِ الْأَحَادِيثِ يَا مَعْشَرَ الْفُقَهَا أَنْتُمُ الْأَطِبَّاءُ وَنَحْنُ الصَّيَادَنَةُ وَأَنْتَ أَيُّهَا الرَّجُلُ أَخَذْتَ بِكَاءِ الطَّرَفَيْنِ.بس کیجئے (آپ کے لئے یہی کافی ہے) جو احادیث مبارکہ میں نے سو (۱۰۰) دن میں آپ کو سنائی ہیں آپ نے گھڑی بھر میں مجھے سنا دی ہیں مجھے معلوم نہ تھا تم ان احادیث مبارکہ میں یوں عمل کرتے ہو (یعنی اس طرح مسائل اخذ کرتے ہو)اے فقہ والو تم طبیب لوگ ہو اور ہم محدثین تو عطار میں اور اے ابوحنیفہ تم نے تو فقہ اور حدیث کی انتہا کوچھو لیا ہے۔

بحمد اللہ تعالیٰ حدیث شریف کا ہر طالب علم بخوبی واقف ہے کہ حضرت امام سلمان اعمش علیہ الرحمہ ایک بلند پایہ جلیل القدر محدث اور مشہور تابعی ہیں۔ آپ حضور اکرم ﷺ کے خادم خاص اور فقیہ صحابی حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شاگر درشید اور بعد میں آنے والے تمام آئمہ حدیث کے استاد محترم ہیں۔ اس قدر جلالت شان کے باوجود وہ اپنے ہونہار شاگرد حضرت امام ابو حنیفہ کو فرما رہے ہیں کہ ہم محدثین عطار ہیں اور تم طبیب ہو یعنی جس طرح ایک پنساری یا میڈیکل سٹور والے کے پاس ادویات کے انبار لگے ہوتے ہیں یہاں تک کہ طبیب یا ڈاکٹر دوائی خریدنے کے لئے پنساری یا میڈیکل سٹور والے کے پاس ہی جاتا ہے مگر دوائی کے استعمال اور مزاج و کیفیات سے جو واقفیت اس طبیب و ڈاکٹر کو ہے وہ ادویات کے تاجر کو نہیں ۔ اگر توفیق خداوندی شامل حال ہو تو بس یہی بات سمجھنے والی ہے۔

آخر کوئی تو بات تھی کہ استاذ الائمہ حضرت امام اعمش محدثین کے استاد ہونے کے باوجود جب حج پر جانے لگے تو حضرت امام ابوحنیفہ کی طرف پیغام بھیجا کہ میرے لیے مناسک حج (یعنی حج کے ضروری مسائل ) تحریر کر دو۔ آپ عموماً فرمایا کرتے تھے کہ مناسک ابو حنیفہ سے حاصل کرو۔ میرے علم میں فرائض و نوافل کا آج اُن سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں۔

غور طلب بات

استاذ اپنے شاگرد سے مسائل لکھوائے اور آج کا ایک عام آدمی جو نہ تو احادیث کے ذخیرہ سے واقف ہو اور نہ ہی ناسخ و منسوخ سے واقف ہو اور نہ ہی آحادیث کی توایخ سے اس کی کوئی واقفیت ہو ایسا بندہ جب کہے کہ مجھے زیادہ علم ہے امام اعظم ابو حنیفہ سے تو پھر عقل سلیم کے لیے دعا ہی تو کی جاسکتی ہے کہ استاذ فرمائیں کہ مجھے ایک سودن لگے آپکو آحادیث سنانے میں اور تم ہو کہ ایک ہی دم تمام احادیث سناگئے ۔

اس یہ بات بھی ان لوگوں کے لیے ثابت ہوگئی جو کہتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ کو احادیث ہر عبور نہیں تھا اوہ عقل کے اندھے غو کر فکر کر دیکھ استاذ امام اعمش ہیں جو تابعی ہیں اور شاگر بھی جناب حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہیں وہ احادیث کو بیان کریں اور مسائل کے لیے امام اعظم ابو حنیفہ سے کہیں کہ آپ نکالیں وہ کیا شان ہے

تحریر (فقیر محمد اسرار محی الدین قادری ) 

Read more ...

جمعہ، 21 جون، 2024

رفع الیدین میں ایک اور تحقیق


 گزارشات:

(فقیر محمد اسرار محی الدین قادری)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  www.asrarmohyuddin.blogspot.com میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔

آج کی پوسٹ رفع الدین کے بارے میں ایک تحقیق ہے  ان شاء اللہ مفید رہے گی

مقالہ کو لکھنے سے پہلے چند ایک گزارشات عرض کرنا چاہوں گا

حدیث کا صحیح ہونا شرط ہے نہ کہ بخاری یا مسلم یا صحاستہ کی کتب میں ہونا ضروری نہیں ہے ۔بلکہ کتب احادیث جو کہ تقریبا 360 ہیں کسی بھی کتاب میں سے ہو سکتی ہے

" رفع یدین" دو لفظوں کا مجموعہ ہے، ’’رفع‘‘ کا مطلب ہے:  اٹھانا اور ’’یدین‘‘  کا مطلب ہے : دونوں ہاتھ، چناں  چہ ’’رفع یدین ‘‘ کا مطلب ہوا  ’’دونوں ہاتھوں کو اٹھانا‘‘،  رفع یدین  سے مراد  نماز  کی حالت میں تکبیر کہتے وقت  دونوں ہاتھوں کو کانوں کی لو تک اٹھانا ہے، وتر اور عیدین  کی نماز کے  علاوہ  عام نمازوں میں  صرف تکبیر تحریمہ کہتے  وقت ہی ”رفعِ یدین“   مسنون ہے، اور   یہ مسئلہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے مختلف فیہ ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بعض صحابہ کرام ”رفع یدین“ کرتے تھے اوربعض نہیں کرتے تھے،اسی وجہ سے مجتہدینِ امت میں بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہواہے،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ترکِ رفع یدین والی روایات کوراجح قراردیاہے،کئی اکابر صحابہ کرام کامعمول ترکِ رفع کاتھا، اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاآخری عمل ہے۔ احناف کے نزدیک  ترکِ رفع یدین ہی  سنت ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:

 

رفع یدین کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے یہ بنیادی حقیقت ذہن میں رکھیں

شروع اسلام میں دوران نماز گفتگو کرنا جائز تھی۔  خود حضور کے دوران نماز سلام کرنے والے کو جواب دے دیا کرتے تھے۔ ( بخاری ) لیکن بعد میں یہ عمل منسوخ ہو گیا، باقی نہ رہا۔ اب اگر کوئی آدمی بہت سی روایات دکھا دے کہ دیکھو نماز میں گفتگو کرنا جائز ہے۔ تم ایک حدیث لئے پھرتے ہو کہ منع ہے اب بتاؤ اس کا جواب کیا ہو گا۔ یقینا یہی جواب ہو گا کہ بھائی نماز میں گفتگو کرنا حدیث سے تو ثابت ہے مگر سنت یہ ہے کہ یہ احادیث منسوخ ہیں ان کی ناسخ آیہ مبارکہ وَقُومُوَ اللَّهِ قَنِتِينَ ہے۔ (البقرہ)

مثال سے سمجھئے :

فرض کیجئے کہ عبداللہ اور عبدالرحمن دو آدمی ایک جلسہ عام میں موجود تھے۔ عبداللہ نے سینکڑوں آدمیوں کی موجودگی میں عبدالرحمن سے دس ہزار روپے قرض لیا۔ ایک ماہ گزرنے کے بعد عبداللہ نے عبید اللہ اور عبدالئی کی موجودگی میں مجھ دس ہزار روپے عبدالرحمن کو واپس کر دیئے۔ اب عبدالرحمن نے بد دیانتی کی اورعبد اللہ پر مقدمہ کر دیا کہ یہ میرے دس ہزار روپے نہیں دیتا۔ حالانکہ اس نے کئی سو آدمیوں کی موجودگی میں لیے تھے اور کئی سو آدمیوں نے حلفیہ طور پر اس بات کی گواہی بھی دے دی کہ ہمارے سامنے عبداللہ نے عبدالرحمن سے دس ہزا روپے لیے تھے۔ لیکن عبید اللہ اور عبدالحئی کہہ رہے ہیں کہ وہ روپے واپس کر دیئے تھے۔ اب ایمان سے بتائیے کہ اگر قاضی صرف اس بنا پر عبد اللہ کے خلاف ڈگری دے دے کہ عبدالرحمن کے گواہ سینکڑوں ہیں جبکہ عبداللہ کے پاس صرف دو گوالا ہیں تو کیا یہ فیصلہ درست ہو گا؟ یقیناً ہر انصاف پسند یہی کہے گا کہ اگر چہ سینکڑوں کو آدمیوں نے جو گواہی دی ہے وہ بھی سچ ہے قرض واقعی لیا تھا۔ مگر یہ دو آدمی گواہ ہیں کہ قرض واپس کر دیا تھا۔

اسی طرح سمجھیں کہ ابتداء میں دوران نماز رفع یدین کیا جا تا تھا بلکہ بہت کاجاتا تھا۔ احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔

(246) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ الله كَانَ يَرْفَ يَدَيْهِ فِي الرَّكُوعِ وَالسُّجُودِ. ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم رکوع وسجود میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے۔ (کنز العمال) (247)

حضرت عمیر حبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ "كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ كُلَّ تَكْبِيرَةٍ فِي الصَّلوة المَكْتُوبَةِ

رسول الله فرض نماز میں ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔ یعنی رفع یدین کیا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ )(248)

حضرت ابوحمید ساعدی فرماتے ہیں کہ جب آپ صلى الله عليه وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہوتے پھر اپنے کندھوں تک ہاتھ اُٹھاتے اور اللہ اکبر فرماتے جب رکوع کا ارادہ فرماتے تب بھی کندھوں تک ہاتھ اُٹھاتے جب سمع اللہ لمن حمدہ فرماتے تب بھی کندھوں تک ہاتھ اُٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب دوسری رکعت سے کھڑے ہوتے تب بھی کندھوں تک ہاتھ سے کھڑےاُٹھاتے ۔ (سنن ابن ماجہ)(249)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  ہر تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔ (ابن ماجہ )

رفع یدین کے اوقات :

اگر غور کریں تو ان صحیح احادیث سے درج ذیل مقامات پر رفع یدین ثابت ہوا

(۱) تکبیر تحریمہ کے وقت (۲) رکوع میں جاتے ہوئے (۳) رکوع سے سر اٹھاتے وقت (۴) سجدے میں جاتے وقت (۵) سجدہ سے سر اُٹھاتے وقت (1) دوسرے سجدہ میں جاتے وقت (۷) دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے وقت (۸) تیسری رکعت کے شروع میں (۹) بعض روایات کے مطابق سلام پھیرتے وقت بھی رفع یدین کیا جاتا تھا۔ اہل حدیث ہونے کے دعویدار غیرمقلد حضرات صرف تین مقامات پر یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور تیسری رکعت کے آغاز میں تو رفع یدین کرتے ہیں لیکن ہر سجدہ اور ہر ہر تکبیر پر رفع یدین کیوں نہیں کرتے ۔

تعجب کی بات ہے کہ غیر مقلد حضرات چھ سات جگہ پر رفع یدین کو ترک کے بھی اہل حدیث کے اہل حدیث ہی رہے لیکن اگر ہم رکوع سے پہلے اور تیسری رکعت کے شروع میں نہ کریں تو فتویٰ کے تیروں کی اندھا دھند بارش یاللعجب۔

ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کر دیں تو چرچا نہیں ہوتا

ہو سکتا ہے کہ کوئی دانا قسم کا غیر مقلد یہ حکم سنا دے کہ یہ سارے رفع یدین پہلے کیے جاتے تھے اب منسوخ ہیں تو ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ حضرت ہم بھی تو یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ یہ سب رفع یدین پہلے کیے  جاتے تھے اب منسوخ ہیں لیکن آپ مانتے ہی نہیں ہیں۔

رفع یدین پچاس صحابہ سے ثابت ہے

غیر مقلد حضرات سادہ لوح عوام الناس پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے عموماً ارشاد فرماتے ہیں کہ رکوع کرتے ، رکوع سے سر اٹھاتے اور تیسری رکعت کے شروع میں رفع یدین کرنا چار سو احادیث میں وارد ہے جبکہ رفع یدین کی روایات بچاس صحابہ کرام سے منقول ہیں جن میں خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں۔ اتنی بھاری دلیل دیکھ کر تو ہر کس و ناکس کا جی رفع یدین کو چاہتا ہے۔اس جگہ ہم ان دونوں دعوؤں کا جائزہ لیتے ہیں کہ کہاں تک درست ہیں۔

(1) ان مقامات پر رفع یدین کی بابت چارسو احادیث کا دعویٰ جو کیا جاتا ہے وہ محض دعویٰ ہی ہے اس بارہ میں ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالی سچ بولنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔ کیونکہ جھوٹ بولنے والوں کے لئے قرآن کریم میں بڑی سخت وعید ہے اور غیر مقلدین حضرات سے گزارش کریں

ھے کہ اس مجموعہ کو منظر عام پر لایا جائے ۔ اگر تا حال وہ روایات یکجا نہیں کی گئی ہیں تو مہربانی فرما کر جید علماء کا پینل مقرر فرما ئیں جو صحاح ستہ سے ان چارصد روایات کو جمع کرے ۔ امت مسلمہ پر ان کا بڑا احسان ہو گا مگر قیامت تک یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ دعوئی سوفی صد جھوٹ پر مبنی ہے اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں یہی وجہ

ہے کہ غیر مقلدین کے جید علماء کا فیصلہ ہے کہ:

وَلَيْسَ فِي رِوَايَةٍ مَنْ رُوِى تَرَكَ الرَّفْعِ إِلَّا مَاقُلْنَا إِنَّ الْمُثْبِتَ مُقَدَّمٌ عَلَى النَّافِي. (تردى)

ترجمہ: جن روایات میں رفع یدین نہ کرنے کا ذکر ہے کہ ان روایات میں کوئی بھی قابل اعتراض بات نہیں۔

(یعنی معیار صحت پر پوری اترتی ہیں ) بس آجا کر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ رفع یدین والی احادیث کو ہم انکار والی احادیث پر ترجیح دیتے ہیں۔

رفع یدین بالا تفاق صرف مستحب ہے واجب نہیں ہے۔ (غیر مقلد ) رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں سنت سے ثابت ہے یہی بات انصاف کی ہے۔ (غیر مقلد)

رفع یدین میں جھگڑنا تعصب اور جہالت سے خالی نہیں کیونکہ رفع یدین کا ثبوت اور عدم ثبوت دونوں مروی ہیں۔ (غیر مقلد)

نوٹ:۔ موخر الذکر تینوں حوالہ جات بھی چند صفحات پیچھے گزر چکے ہیں۔

(2) اب آئیے پچاس صحابہ والی دلیل کی جانب کہ جن میں خلفاء راشد ہیں بھی شامل ہیں اور حضرات عشرہ مبشرہ بھی۔ اس بارہ میں عرض ہے کہ حضرت آپ نے کسر نفسی سے کام لیا کہ محض پچاس صحابہ کا ذکر فرمایا۔ اگر آپ یہ دعوئی فرما دیتے کہ ہمارے آقا رسول محتشم ﷺ ہمیشہ اس پر سختی سے کاربند رہے ایک لاکھ نے زائد صحابہ کرام اور اس وقت سے لے کر آج تک ساری کی ساری امت بشمول شیعه، سنی، بریلوی، دیوبندی، مقلد، غیر مقلد اس پر متفق ہیں۔ تو بھی ہمیں انکار نہ ہوتا۔ اس لئے کہ یہ رفع یدین نماز کے شروع کرنے کے وقت کا ہے رکوع و سجود والا نہیں۔ محض لفظ رفع یدین کرنا (یعنی کندھوں یا کانوں تک ہاتھ اُٹھانا) سے عوام الناس کو دھوکہ نہ دیں بلکہ بتائیں کہ اس جگہ وہ رفع یدین (ہاتھ اٹھانا ) مراد ہے۔ جو تکبیر تحریمہ کے وقت شروع نماز میں کیا جاتا ہے۔ یادرکھئے دھو کہ دہی ، قرآن وسنت کی نظر میں قابل تعریف نہیں اور پھر دین متین کے بارہ میں دھو کا۔ (اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ) بہت بُری بات اور ٍاللہ تعالیٰ پر جرات ہے۔

اعتراف حقیقت:

ممکن ہے کہ ہماری اس گزارش پر کچھ حضرات برہم ہوں ان کی تسلی کے لئے عرض ہے کہ غیر مقلدین کے مایہ ناز محقق اور امام علامہ شوکانی، نیل الاوطار ومیں لکھتے ہیں۔

وَجَمَعَ الْعَرَاقِيُّ عَدَدَ مَنْ رَوَى رَفَعَ الْيَدَيْنِ فِي ابْتِدَاءِ الصَّلوةِ .فَبَلَغُوا خَمْسِينَ صَحَابِياً مِنْهُمُ الْعَشْرَةُ الْمَشْهُودُ لَهُمُ بِالْجَنَّةِ. (نیل الاوطار)

ترجمہ: علامہ عراقی نے نماز کے شروع میں رفع یدین کرنے کی روایات کو نقل فرمانے والے صحابہ کرام کو شمار کیا تو ان کی تعداد پچاس تک پہنچ گئی۔ غیر مقلدین کے جید عالم محدث اور شارح علامہ محمد بن اسماعیل صنعانی سبل السلام فی شرح بلوغ المرام میں اسی ناقابل تردید حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

قَالَ الْمُصَنفُ إِنَّهُ رُوِيَ رَفْعُ الْيَدَيْنِ فِي أَوَّلِ الصَّلَوةِ خَمْسُونَ صَحَابِيًا مِنْهُمُ الْعَشَرَةُ الْمَشْهُودُلَهُم بِالْجَنَّةِ وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ عَنِ الْحَاكِمِ لَا تَعْلَمُ سُنَّةَ اتَّفَقَ عَلَى رِوَايَتِهَا عَنْ رَّسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْخُلَفَاءُ الْأَرْبَعَةُ ثُمَّ الْعَشَرَةُ الْمَشْهُودُ لَهُمُ بِالْجَنَّةِ فَمَنْ بَعْدُهُمْ مِنَ الصَّحَابَةِ مَعَ تَفَرُّقِهِمُ فِي الْبِلَادِ الشَّاسِعَةِ غَيْرَ هَذِهِ السُّنَّةِ. (سبل السلام )

ترجمہ: (علامہ ابن حجر شارح بخاری) فرماتے ہیں کہ نماز کے شروع میں رفع یدین کرنے کی احادیث پچاس صحابہ سے مروی ہیں جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں اور امام بیہقی نے امام حاکم کے حوالہ سے نقل فرمایا کہ نماز کے شروع میں رفع یدین کرنا (یعنی کندھوں یا کانوں تک ہاتھ اُٹھانا) ایک ایسا عمل ہے کہ رسول اللہ ہ سے اس کو منقول کرنے میں خلفائے راشدین عشرہ مبشرہ اور دیگر بہت سے

صحابہ متفق ہیں باوجود یہ کہ وہ مختلف شہروں میں پھیل چکے تھے۔ محترم قارئین کرام ! ان دونوں عبارات میں خط کشیدہ عبارت رفع اليدين في ابتداء الصلوة .. اور .... رفع الدين في اول الصلوة .. قابل غور ہیں۔ سوچئے کیا ان الفاظ سے غیر مقلدین کا رفع یدین ثابت ہوتا ہے۔ یا مقلدین کا؟ اللہ تعالی حقائق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین کی ناسخ احادیث اگر چہ طالب حق کے لئے مندرجہ بالا گفتگو ہی کافی ہے بایں ہمہ اگر آپ اپنے ذہن و قلب پر بار محسوس نہیں فرماتے تو ذیل کی روایات پڑھیں تا کہ پتہ چلے کہ بحمد اللہ تعالیٰ حنفی حضرات کی نماز عین سنت نبوی صلى الله عليه وسلم کے مطابق ہے۔ (250) حضرت علقمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود را

رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ اَلَا أَصَلِّي بِكُمْ صَلوةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ .وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ.

ترجمہ : کیا میں تمہیں رسول اللہ کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں ۔ ( یہ کہا) پھر نماز پڑھی اور سوائے پہلی مرتبہ یعنی تکبیر اولی کے کسی بھی جگہ رفع یدین نہ فرمایا۔ ترندی ، نسائی کے ابو داؤد سلام اس روایت کا تجزیہ کرتے ہوئے امام ترمذی فرماتے ہیں۔(251)

وَفِي الْبَابِ عَنْ بَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَسَنُ وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ وَاهْلِ الْكُوفَهِ.

ترجمہ: اس بات میں (یعنی صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع یدین کرنے کے بارہ میں ) حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی حدیث پاک مروی ہے امام ترندی مزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث (سند کے اعتبار سے) حسن یعنی بہت بہتر ہے ۔ مزید یہ کہ حضور نبی کریم کے بہت سے (عام صحابہ نہیں بلکہ ) علماء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی پر عمل کرتے تھے اور اسی طرح تابعین بھی اور حضرت سفیان ثوری اور اہل کوفہ (امام ابو حنیفہ ) کا بھی یہی فرمان ہے ( کہ تکبیر تحریمہ کے سوا کہیں رفع یدین نہ کیا جائے ) ۔( ترندی)

فائدہ: قارئین کرام ! آپ نے امام ترمذی کی روایت کردہ حدیث اور اس پر خود انہی کا تبصرہ ملاحظہ فرمایا۔ دیکھئے اس سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ جو خود بڑے فقیہہ صحابی ہیں وہ جماعت صحابہ کے سامنے حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کا یہ انداز نماز پیش فرماتے ہیں مگر کوئی بھی انکار نہیں کرتا۔ کیا وہ خدانخواستہ حضرت عبداللہ سے ڈرتے تھے۔ نہیں ہرگزنہیں بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ حق یہی ہے۔

ہ یہ حدیث ضعیف نہیں ہے کہ قابل عمل نہ ہو بلکہ حسن یعنی بہترین اور لائق دلیل ہے کہ جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پہلی مرتبہ یعنی تکبیر اولیٰ کے علاوہ رفع یدین نہ کرنے پر محض عام صحابہ کرام نہیں بلکہ جید علماء قسم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عمل فرماتے تھے۔ ہیں ان جید صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے تابعین اور فقہا مثلاً سفیان ثوری اور امام اعظم رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہم کا بھی یہی مذہب تھا۔(252)

مذکورہ بالا حدیث پاک کو امام نسائی نے اپنی سنن کے کتاب الافتتاح ج 1 ص 58 مطبوعہ کراچی میں نقل فرمایا اور اسی طرح (سنن ابی داؤد ج 1 ص 118 میں کتاب الصلوۃ) میں یہ حدیث مذکور ہے۔ مزید برآں سنن ابو داؤد میں ہے۔

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيِّ نَامُعَاوِيَةُ وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو وَاَبُوْ حُذَيْفَةً قَالُوْ أَنَا سُفْيَانُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَرَّةً وَاحِدَهُ.

ترجمہ: حضرت حسن بن علی، معاویه، خالد بن عمر اور حضرت ابو حذیفہ نے اپنی سند کے ساتھ سفیان سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھائے اوربعض نے کہا صرف ایک مرتبہ ہاتھ اُٹھائے۔ (ابو داؤد)

(253) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی

عنہ سے روایت کیا کہ:

إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَحَ الصَّلوةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ.

ترجمہ: بے شک رسول اللہ ہے جب نماز شروع فرماتے تو اپنے ہاتھ مبارک کانوں کے قریب تک اُٹھاتے اس کے بعد (پوری نماز میں ) پھر ایسا نہ کرتے۔(ابوداؤد)

(254) حضرت ابن ابی شیبہ جو کہ حضرت امام بخاری و امام مسلم کے استاد محترم ہیں۔ انہوں نے اپنی مشہور زمانہ کتاب المصنف ص 267 جلد نمبر 1 میں مذکورہ بالا روایات ابن مسعود و براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بَاب مَنْ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرَةٍ ثُمَّ لَا يَعُودُ میں نقل فرمایا۔ امام ابن ابی شیبہ مزید آثار نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عاصم بن کلیب نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ : (255) حضرت علی المرتضیٰ کا عمل :

إِنَّ عَلِيًّا يَرْفَعَ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلوةَ ثُمَّ لَا يَعُودُ –

ترجمہ: بے شک حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم اپنے دونوں ہاتھ جب نماز شروع کرتے تب اُٹھاتے پھر نہیں اُٹھاتے تھے۔ ( ابن ابی شید (1) (256)

حضرت عبداللہ بن مسعود :

امام ابراہیم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَايَسْتَفْتَحُ ثُمَّ لَا يَرْفَعُهَا - بے شک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز کے شروع میں افتتاح نماز کے وقت ہاتھ اُٹھاتے پھر کہیں نہ اٹھاتے تھے ۔ ( ابن ابی شیبہ )

امام اشعث و شعمی :

امام اشعث سے مروی ہے کہ انهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَكْبِيرٍ ثُمَّ لا یرفعھا ۔ بے شک آپ پہلی ہی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے پھر نہیں اُٹھاتےتھے۔ ( ابن ابی شیبہ (۳)

امام نخعی:

حضرت حصین و حضرت مغیرہ امام شخصی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوںنے فرمایا۔ إِذَا كَبَّرْتَ فِي فَاتِحَةِ الصَّلوةِ فَارْفَعُ يَدَاكَ ثُمَّ لَا تَرْفَعُهُمَا فيما بقی ۔ جب تم نماز شروع کرو تو تکبیر کہو اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھاؤ۔ پھر باقی نماز میں انہیں او پر نہ اٹھاؤ۔ ( ابن ابی شیبہ )

شاگردان علی و عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما :

امام ابو اسحاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابُ عَلِي لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا فِي افْتِتَاحِ الصَّلَوةِ، قَالَ وَكِيعٌ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے شاگرد بھی صرف نماز کے شروع میں ہاتھ اُٹھاتے تھے۔ وکیع فرماتے ہیں کہ پھر دوبارہ نہیں اُٹھاتے تھے۔ ( ابن ابی شیبہ )

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہحضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں " نے فرمایا۔ لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِيَ إِلَّا فِي سَبْعِ مَوَاطِنِ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلوةِ . وَإِذَارَائِ الْبَيْتَ وَعَلَى الصَّفَاءِ وَعَلَى الْمَرْوَةِ وَفِي عَرَفَاتٍ وَفِي جَمْعِ وَعِندَ الْجَمَارِ .

 سات مقامات کے سوا کہیں بھی رفع یدین نہ کیا جائے۔ (۱) جب نمازکے لئے کھڑا ہو (۲) جب حرم کعبہ اللہ کو دیکھے (۳) صفا پر (۴) مروہ پر (۵) میدان عرفات میں (۲) میدان مزدلفہ میں اور (۷) رمی جمار کے وقت ۔( ابن ابی شیبہ )

فائدہ پتہ چلا کہ صرف نماز کے ابتداء میں ہی رفع یدین کرنا چاہیے ورنہ وہ فرماتے کہ رکوع سجود کے وقت بھی۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت مجاہد رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں۔ مَا رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ ۔ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو نماز کے شروع میں ہاتھ اُٹھاتے دیکھا اس کے سوا کسی جگہ بھی نہیں۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ :

حضرت اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلوتِهِ إِلَّا حِيْنَ افْتَتَحَ الصَّلوةَ ـ حضرت اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے نماز کی ابتداء کے وقت ہاتھ اُٹھائے پھر کسی بھی جگہ (نمازپڑھتے ) ہاتھ نہ اُٹھاتے ۔ ( ابن ابی شیبہ ) محترم قارئین کرام ! امام بخاری و مسلم کے استاد امام ابن ابی شیبہ نے اس باب میں پندرہ احادیث و آثار اپنی سندوں کے ساتھ روایت فرمائیں۔ جو ہرالتی میں ہے کہ یہ سب اسناد جید ہیں ان میں کوئی بھی ضعیف نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ صحابہ و تابعین (سوائے تکبیر تحریمہ کے ) کہیں بھی رفع یدین نہیں فرمایا کرتےتھے۔ ( جو ہر انقی )

ازالہ شبہات :

اگر کسی دوست کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ جن صحابہ سے رفع یدین نہ کرنا ثابت ہے۔ انہی سے کرنا بھی ثابت ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے تو جوابا عرض ہے کہ وہ حضرات پہلے کراتے تھے پھر نہیں۔ گویا ایک عمل پہلے کا ہے اور دوسرا بعد کا۔ ہم حنفیہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ وہ عمل ہے جو پہلے کیا جاتا تھا اور بعد میں نہیں۔ دنیا بھر کے غیر مقلدین کا فرض ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ پہلے نہیں کیا جاتا تھا اور پھر سابقہ حکم منسوخ کر کے رفع یدین کا حکم دے دیا گیا۔ ورنہ وہ بتائیں کہ ان احادیث مبارکہ کا کیا بنے گا کہ جن میں رفع یدین کے نہ کرنے کا حکم ہے۔ جب کہ ہم ثابت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے رفع یدین سے منع کرے فرمایاملاحظہ ہو۔

رفع الیدین کو منع خود رسول اللہ نے کیا ہے

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهَ ، فَقَالَ مَالَى أَرَاكُمُ رَافِعِيُّ أَيْدِيَكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسِ اسْكُنُوا فِي الصَّلوة - (ایک مرتبہ ہم نماز پڑھ رہے تھے ) رسول اللہ ے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں نماز میں سکون اختیارکرو۔ (مسلم شریف)

فائدہ: مسلم شریف کی اس حدیث پاک سے ثابت ہوا کہ حضور اکرم ہے۔ رفع یدین کرنے والوں کو سکون کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ چونکہ رفع یدین کے سکون کے منافی ہے لہذا ہم کو حکم مصطفی کے مطابق پر سکون انداز میں نمانوپڑھنی چاہیے۔

واضح رہے کہ صحیح مسلم شریف حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی دوسری روایت میں ہے کہ:

كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا تُؤْمِنُونَ يَدَهُ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْ نَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدُكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ.

ترجمہ: جب رسول اللہ اللہ کے ساتھ ہم صحابہ نماز پڑھتے تو اختتام نماز پر دائیں بائیں السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ ملاحظہ فرما کر حضور اکرم نبی محترم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تم لوگ اپنے ہاتھوں سے یوں اشارے کرتے ہو جس طرح شریر گھوڑوں کی ڈمیں ہلتی ہیں۔ تمہیں یہ ہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنے زانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں اور بائیں اپنے بھائی کو سلام کہا کرو ۔ (مسلم شریف) بعض لوگ یہ ثابت کرتے ہیں کہ حدیث ہذا سابقہ حدیث کی تفسیر ہے یعنی اس حدیث میں سابقہ حدیث والی بات کو زیادہ واضح انداز میں پیش کیا گیا ہے یعنی جس رفع یدین سے منع کیا گیا ہے وہ سلام پھیر تے وقت کا رفع یدین ہے۔

انصاف کی نظرسے:

دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یہ دو واقعات جدا جدا ہیں۔ ہم نے اس جگہ اصل عربی عبارات نقل کی ہیں تا کہ یہ شبہ نہ رہے کہ شاید اصل الفاظ کیا تھے؟ اب دونوں روایات کو دیکھیں۔ پہلی میں یہ ہے کہ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم اکیلے نماز پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔

جب کہ دوسری روایت میں ہے کہ ہم حضور اکرم ﷺکی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔ گویا یہ دو جدا جدا واقعات ہیں ایک نہیں اگر یہ کہا جائے کہ واقعات تو دو ہیں۔ لیکن مقصد ایک ہی ہے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ دوسری روایت میں یہ الفاظ نہایت واضح ہیں کہ ثُمَّ يُسَلَّمُ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَلَى يَمِيْنِهِ وَشِمَالِهِ پھر وہ سلام کرے اپنے بھائی کو جو اس کے دائیں طرف ہے جو اس کے بائیں طرف ہے یہ عمل صرف ایسی ہی صورت میں ممکن ہے کہ باجماعت نماز پڑھی جائے اور سارے مقتدی اکٹھے سلام پھیر ہیں۔ اس طرح وہ ایک دوسرے کو سلام کریں لیکن اگر لوگ الگ الگ نماز پڑھ رہیں ہو تو وہ ایک دوسرے کو کس طرح سلام کریں گے۔ کیونکہ ا کوئی تو سلام پھیر رہا ہو گا کوئی قیام میں، کوئی رکوع میں اور کوئی سجود میں ہوگا ایک دوسرے کو سلام کس طرح کریں گے۔ اسی طرح ایک آدمی تنہا نماز پڑھتا ہے تو وہ دائیں بائیں اپنے کس بھائی کو سلام کہے گا؟ لا محالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پہلی روایت میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ دوسرے رفع یدین منع ہیں جبکہ دوسری روایت ہے میں بوقت سلام ہاتھ سے اشارے کرنا منع ہیں۔ علاوہ ازیں پہلی حدیث میں ہے أَسْكُنُوا فِي الصَّلوة یعنی دوران نماز سکون اختیار کرو، ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ جبکہ دوسری روایت میں بوقت اختتام نماز یعنی نماز ختم کرتے ہوئے اشارے نہ کرو۔ ہمارے اس دعوے کی تائید نسائی شریف کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے ملاحظہ ہو۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ رَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصَّلَوَةِ فَقَالَ مَا بَالُهُمْ رَافِعِيْنَ أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلَوةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشَّمْسِ أَسْكُنُوا فِي الصَّلوةِ. حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ اللہ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم دوران نماز رفع یدین کر رہے تھے (یعنی ہاتھ اٹھا رہے تھے ) اس پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ دوران نماز اس طرح رافِعِینَ أَيْدِيهِمُ ) رفع یدین کر رہے ہیں جس طرح سرکش گھوڑوں کی ذمیں۔ نماز میں سکون اور اطمینان کرو ۔ (سنن نسائی) !

فائدہ محترم قارئین کرام ! عربی عبارت کی عبارت پر غور فرمائیں کہ رفع یدین دوران نماز کیا جا رہا تھا اور حضور اکرم ﷺنے بھی یہ ہی فرمایا کہ رَافِعِيْنَ أَيْدِيَهُمُ فِي الصَّلوةِ “وہ نماز میں رفع یدین کر رہے ہیں اس عمل سے منع فرما کر نماز میں سکون و اطمینان کا حکم دیا۔

مزید تسلی کے لئے مسند امام احمد کی روایت کے ان الفاظ پر غور فرما لیجئے۔

أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلامُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَبْصَرَ قَوْمًا قَدْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمُ فَقَالَ قَدْرَ فَعُوْهَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشَّمْسِ أَسْكُنُوا فِي الصَّلوةِ.

ترجمہ: حضور اکرم نبی محترم نے مسجد میں تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ رفع یدین کر رہے ہیں تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا یہ لوگ ہاتھ اوپر اٹھا رہے ہیں۔ (یعنی رفع یدین کرتے ہیں) جس طرح سرکش گھوڑے کی دمیں (اوپر کو بار باراٹھتی ہیں ) سکون اختیار کر ونماز میں ۔ (مسئلہ رفع یدین)۔(مسند امام احمد ، مسند امام احمد )

طحاوی کے دلال : حضرت امام ابو جعفر احمد بن محمد الطحاوی رحمتہ اللہ علیہ متوفی 321 ھ اپنی مشہور زمانہ کتاب شرح معانی الآثار میں اپنی سند کے ساتھ حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث مبارکہ تین مختلف اسناد کے ساتھ نقل فرماتےہیں کہ:

عَنْ بَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ لا فُتِتَاحِ الصَّلوةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَ إِبْهَامَاهُ قَرِيْبًا مِّنْ شَحْۃِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُودُ :

ترجمہ: نبی کریم نے جب نماز شروع فرماتے ہوئے تکبیر کہتے تو اپنے مبارک ہاتھوں کو اتنا اُٹھاتے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے انگوٹھے آپ سے کے دونوں کانوں کے لوؤں کے قریب ہو جاتے اس کے بعد ( آخر نماز تک ) آپ کے رفع یدین نہ

فائدہ :

اس حدیث مبارکہ سے دو باتیں نہایت واضح انداز میں معلوم ہوتی ہیں ۔ کہ (۱) حضور اکرم ٍﷺنے رفع یدین ترک فرمادیا تھا۔ (۲) انگوٹھے کانوں کی لوتک اٹھانے چاہیے۔

امام طحاوی علیہ الرحمۃ نے اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی حدیث مبارکہ نقل فرمانے کے علاوہ مختلف صحابہ کے عمل سے بھی ثابت فرمایا کہ وہ رفع یدین نہیں کرتے تھے کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ ان صحابہ سے رفع یدین کرنا بھی ثابت ہے اس لئے وہ ان کے اس عمل پر تبصرہ بھی فرماتے ہیں مثلاً حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔

صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي تَكْبِيرَةِ الأولى مِنَ الصَّلوة.

میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں نمازیں پڑھی ہیں وہ پہلی تکبیر کے سوا کہیں بھی رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔ ( طحاوی سم اس روایت پر طحاوی کے تبصرہ کا مفہوم یہ ہے کہ:

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک زمانہ تک حضور اکرم کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا۔ ایک روایت کے مطابق آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ خود بھی رفع یدین کرتے رہے پھر انہوں نے رفع یدین کیوں چھوڑا؟ حالانکہ کہ آپ نہایت سختی سے سنت پر عمل کیا کرتے تھے۔ لا محالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک بھی یہ بات ثابت شدہ ہے کہ رفع یدین منسوخ ہو چکا ہے۔ وگرنہ آپ کبھی بھی رفع یدین کو ترک نہ فرماتے ۔ ظاہر ہے کہ ترک شده عمل سنت نہیں کہلاتا۔ ( طحاوی )

کریں وہ جو جی میں آئے:

تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہ کرنے کے بارہ میں موطا امام محمد طحاوی شریف، جو ہر انتقی صیح البہاری میں بہت سی احادیث مبارکہ اور آثار صحابہ درج ہے۔ جن کو درج کرنا بحث کو مزید طویل کرنا ہے۔ آخر میں ہم عینی شرح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن زبیر کا حکم نقل کرتے ہیں۔ سنئیے آپ کیافرماتے ہیں۔

أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَوةِ عِنْدَ الرَّكُوعِ وَعِنْدَ رَفْعِ رَأْسِهِ مِنَ الرَّكُوعِ فَقَالَ لَهُ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَرَكَهُ.

ترجمہ: آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک آدمی کو رکوع میں جاتے اور رکوع سے کی سر اُٹھاتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو اُسے فرمایا، ایسا نہ کیا کرو کیونکہ یہ وہ عمل ہے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پہلے کیا تھا پھر چھوڑ دیا۔ ( عینی شرح بخاری)

محترم قارئین کرام یہ ہے ہمارا موقف کہ یہ عمل پہلے کیا جاتا تھا پھر ترک کر دیا گیا۔ جبکہ غیر مقلد حضرات بفضلہ تعالی کوئی بھی صحیح ، مرفوع حدیث پیش نہیں کر سکتے کہ رفع یدین پہلے نہیں کیا جاتا تھا لیکن بعد میں کیا جانے لگا۔

عاؤں کا طالب

فقیر محمد اسرار محی الدین قادری
Read more ...