السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ www. asrarmohyiddin.blogspot.comمیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔
آج کی پوسٹ تقلید کے بارے میں ایک تحقیق ہے ان شاء اللہ مفید رہے گی
تقلید کیوں ضروری ہے؟
بحمد اللہ تعالیٰ ہم مسلمان
ہیں اور ہمارا دین ، دین فطرت ہے۔ یہ دین چونکہ قیامت تک تمام نسل انسانی کیلئے ہے۔ اس لئے اس کے اصول وقوانین
ہر قوم ہر ملک اور ہر زمانے کے لوگوں کیلئے قابل عمل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ جو
کہ رب العالمین بھی ہے اور عزیز وحکیم بھی۔ اُس نے اپنی شانِ حکمت کے لائق اس دینِ
متین کو ایک ہی دن یا ایک ہی وقت میں نافذ نہ فرمایا بلکہ اسی کی بنیادی کتاب قرآن
مجید کو تقریباً تئیس 23 سال تک مسلسل نازل فرمایا اور اس میں مناسب مواقع پر
ترمیم و تنسیخ فرمائی ۔ جیسا کہ خود قرآن کریم میں اعلانِ خداوندی ہے کہ: ماننسخ من آية أولينهَا تَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا
أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللّٰهَ
عَلَى كُلِّ شَيْ قَدِير (البقره، آیت نمبر 106)
جب کوئی آیت ہم منسوح فرمائیں یا پھلا
دیں (یعنی آپ ﷺکے ذہن سے محو فرما دیں) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے۔ (اے
قرآن کے پڑھنے والے) کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
اس میں علم خداوندی کے مطابق
بے شمار حکمتوں کے علاوہ ایک یہ حکمت بھی نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب
رحمتہ للعالمین کے غلاموں پر خاص کرم فرمایا کہ ان پر بتدریج پابندیاں عائد فرما
ئیں۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو ساری تو راۃ ایک ہی مرتبہ عطا فرما دی گئی تھی اس
لئے بنی اسرائیل نے تو راہ کے سخت قوانین کو ماننے سے انکار کر دیا۔ لیکن قرآن
کریم اس قدر احسن ترین انداز میں نازل ہوا کہ اس کے سخت ترین احکامات بھی دل و جان
سے تسلیم کر لئے گئے
مثلاً شروع میں نماز پڑھنے کا
حکم تو دیا مگر ایسی نماز کہ جس میں گفتگو بھی کی جاسکتی تھی اور رکعتیں بھی صرف
دو ، دوہی رکھی گئیں ۔ پھر آہستہ آہستہ ان کی رکعات بھی بڑھادی گئیں اور پابندیاں
بھی عائد فرما دی گئیں۔ اسی طرح روزہ کی موجودہ حالت کئی مرحلوں کے بعد ہوئی۔ پہلے
پہل روزہ دار کو افطاری کے بعد سوسنے سے قبل تک کھانے پینے کی اجازت تھی بعد میں
نہیں۔ پھر حضرت صرمہ بن قیس کا واقعہ پیش آیا تو طلوع فجر تک کھانے پینے کی اجازت
مل گئی۔ اسی طرح رمضان المبارک کی راتوں میں بھی میاں بیوی کو قرب صنفی کی اجازت نہ
تھی پھر اس کی اجازت دے دی گئی۔ شروع اسلام میں کفار سے لڑائی کرنے کی اجازت نہیں
تھی۔ صبر کرنے کا حکم تھا۔ پھر قتال و جہاد کو فرض فرما دیا گیا۔ ابتدأ بد کار
عورتوں کو محض قید کرنے کا حکم تھا بعد میں باقاعدہ حد جاری کرنے کا حکم ارشاد
فرما دیا گیا۔ پہلے پہل قبلہ بیت المقدس تھا پھر حرم کعبہ بنا دیا گیا۔ ابتداءً
اسلام میں مشرکین کے ساتھ شادی کرنے کی کھلم کھلا اجازت تھی یعنی یہ عام تھا کہ
مرد تو مشرک ہے مگر اس کی بیوی مومنہ ہے۔ یونہی مرد تو دامن مصطفی ﷺ سے وابستہ ہے
مگر بیوی بت پرست ہے۔ لیکن بعد میں مشرکین کے ساتھ شادی بیاہ سے منع فرما دیا گیا۔
سورۃ التوبہ نازل ہونے سے قبل کفار کو حرم کعبہ میں داخلہ کی عام اجازت تھی مگر
بعد میں اُن کو حدود حرم میں داخل ہونے سے بختی کے ساتھ روک دیا گیا۔ الغرض احکامات
و اعمال میں ترمیم و تنسیخ ہوتی رہی۔ ان میں بعض چیزیں تو بالکل عیاں ہیں کہ اُن
کو اپنانے میں ذرا بھر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی لیکن بعض اعمال و احکام ایسے
ہیں کہ اُن میں ناسخ و منسوخ اور راجح و مرجوح کو جاننے کیلئے بہت زیادہ علم و
تحقیق کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ احادیث نبویہ پر اس قدر وسیع نظر کی
ضرورت ہے کہ لاکھوں احادیث مبارکہ اس انداز سے ذہن میں محفوظ ہوں کہ ہر حدیث کا معیار صحت وضعف
بھی اچھی طرح یاد ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ کس قسم کے ماحول میں کیا حکم دیا گیا
تھا۔ اور اس کا بھی پتہ ہو کہ اس میں پہلا حکم کو نسا ہے اور بعد والا کونسا اور یہ بات بھی خوب ذہن
نشین ہو کہ جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا کس حدیث پر عمل
تھا اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ مسند ہے یا غیر مسند یہ خبر متواتر ہے یا خبر مشہور
و مستفیض ہے یا پھر یہ خبرواحد تو نہیں۔ پھر یہ بھی معلوم ہو کہ ان کے احکام کیا
ہیں وغیرہ وغیرہ۔ . تو پھر کہیں جا کر پتہ چلتا ہے کہ کس حدیث پر عمل کیا جائے گا
اور کس پر نہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ محدثین نے امت پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ
انہوں نے امت مسلمہ کو احادیث نبویہ کا عظیم ذخیرہ عطا فرما دیا اور اس مقصد کے
لئے انہوں نے جس قدر مشقت برداشت فرمائی ہے۔ فی زمانہ اُس کا تصور بھی۔ ممکن نہیں۔
پھر اُن لوگوں کا اخلاص اور للہیت قابل رشک تھی۔ آسمان علم وفضل کے ان نیر ہائے
تاباں کے اس احسان عظیم پر آج ہر ایمان والا اُن کے حضور عقیدت و محبت کے نذرانے
پیش کرتا ہوا اُن کی گدائی کا دم بھرتا ہوا نظر آتا ہے۔
با این ہمہ، بخاری و مسلم یا
دیگر کتب صحاح کی چند احادیث مبارکہ پڑھ کہ یہ اعلان کر دینے والا کہ مجھے تقلید
کی ضرورت نہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ حدیث پڑھی ہے اور میں اہل حدیث ہونے کے
ناطے اس حدیث پر ہی عمل کروں گا۔ اُس کی مثال اُس بے چارے عطائی ڈاکٹر کی سی ہے جو
سرجری کی چند کتب پڑھ کر اعلان فرما دے کہ مجھے سرجری کے اسرار و رموز جاننے کے
لئے اب کسی میڈیکل کالج میں جانے اور سرجری کے پروفیسروں کے ناز نخرے اُٹھانے کی
ضرورت نہیں میرے گھر میں سرجری کی کتاب موجود ہے۔ جہاں بھولوں گا کتاب کھول کر دیکھ
لیا کروں گا۔ بس اب میں سول سرجن ہوں۔
تو ایسے عقل بند عطائی سرجن صاحب کو کیا کہا جائے گا ؟ یہی نا کہ جناب آپ پہلے
بیالوجی ، اناٹومی اور فزیالوجی میں دسترس حاصل کریں تا کہ آپ کو اعضاء کی ساخت،
اُن کے مقام وقوع، اُن کی ہیت کذائی اور اُن کے افعال وفرائض کا صحیح انداز سے پتہ
چل جائے۔ پھر آپ چیر پھاڑ شروع کریں ورنہ آپ کُلاہِ گردہ کو پھوڑا سمجھ کر گردہ سے
جدا کر دیں گے۔ آپ مریض کے لئے مسیحا کی بجائے وبالِ جان ثابت ہو نگے۔ پھر اگر وہ
یہ کہے کہ کیا تم کو اس سرجری کی کتاب لکھنے والے سینئر ترین سول سرجن کے بارہ میں
اعتراض ہے۔ تو اُسے کہا جائے گا کہ ہم کتاب لکھنے والے ڈاکٹر صاحب پر اعتراض نہیں
کر رہے بلکہ ماتم تو آپ کی بے چارگی عقل کا کر رہے ہیں کہ جو صرف سرجری کی چند کتب
پڑھ کر اپنے آپ کو سول سرجن بنائے بیٹھی ہے۔ بالکل اسی طرح ہم اُن حضرات کی خدمت
میں عرض کریں گے کہ صرف صحاح ستہ کتب احادیث کو پڑھ کر مجتہد نہ بن بیٹھئے بلکہ
کسی فقہیہ امام کی خدمت میں حاضری دیجئے۔ معاذ اللہ تعالیٰ ہمیں کتب صحاح کے
مؤلفین پر اعتراض نہیں وہ تو عزت و عظمت کی نہایت بلندی پر فائز ہیں۔ اعتراض تو آپ
کی کوتاہ عقلی پر ہے۔ ورنہ بتائیے بغیر کسی راہنمائی کرنے والے کے آپ ان احادیث
میں سے کس پر عمل کریں گے اور کس کو ترک کریں گے۔ یادر ہے عظیم ذخیرہ احادیث میں
سے یہاں صرف چند احادیث مبارکہ کا اردو ترجمہ نقل کیا جا رہا ہے گویا یہ ایک خرمن
سے مٹھی بھر غلہ کا نمونہ ہے۔
کچے بچے کی نماز جنازہ:
وہ بچہ جو قبل از وقت پیدا ہو
یعنی ابھی اُس میں زندگی کے آثار بھی نظر نہ آتے ہوں۔ اعضاء بھی غیر مکمل ہوں یا
پھر بچہ مردہ پیدا ہو تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا
نہیں۔ اس بارہ میں احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں ۔
ایک قول نماز جنازہ
پڑھی جائے:
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل چلنے والا آگے
اور پیچھے بھی چل سکتا ہے اور کچے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اُس کے ماں باپ
کےلئے بخشش کی دعا کی جائے
ایک قول نماز جنازہ نہ پڑھی جائے:
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ
عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا، کچے بچے کی نماز جنازہ
نہ پڑھی جائے نہ تو وہ وارث ہو گا اور نہ ہی کوئی اس کا وارث بن سکے گا۔ یہاں تک
کہ آواز کرے۔"
فائدہ: یہ دونوں روایات کتب صحاح ستہ کی
ہیں۔ فرمائیے آپ کسی پر عمل کریں گے اور کسے ترک
کریں گے؟۔
جنازہ کے ساتھ چلنے
والا آگے چلے یا پیچھے:
آپ گذشتہ حضرت مغیرہ سے مروی حدیث پاک میں
ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ حکم نبوی کے مطابق سوار جنازے کے پیچھے چلے جبکہ پیدل آگے
بھی چل سکتا ہے اور پیچھے بھی اب یہ احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
جنازہ کے آگے چلنا سنت نبوی ﷺ ہے:
حضرت زہری حضرت سالم سے اور وہ
اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق
اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھا کہ یہ سب حضرات جنازے کے آگے
آگے چلتےتھے۔ (ترمذی ، ابو داؤد ، ابن ماجہ )
جنازہ کے آگے نہ چلے:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنازہ متبوع ہے یعنی اس کے پیچھے پیچھے
چلو اس کو پیچھے نہیں رکھا جاتا (یاد رکھو) جو شخص جنازے کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ
ہی نہیں ہے۔(ابو داؤد، ابن ماجه ، ترندی )
جنازے کے ساتھ سوار چل سکتا ہے یا
نہیں :
آپ قبل ازیں پڑھ چکے ہیں حضور اکرم ﷺ نے
فرمایا کہ سوار جنازے کے پیچھے پیچھے چلے یعنی سوار جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے۔ مگر
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے
ساتھ ایک جنازہ میں نکلے تو آپ ﷺنے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا ( جو جنازہ کے ساتھ جا
رہے تھے ) تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم کو اللہ تعالیٰ کے فرشتوں سے حیا نہیں آتی کہ
وہ تو اپنے قدموں پر پیدل چل رہے ہیں مگر تم جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہو۔(روایت
کیا اس کو ترمذی ، ابن ماجہ اور ابوداؤد نے)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ نے
جنازہ کے ساتھ سوار ہو کر جانے کو سخت ناپسند فرمایا۔
فائدہ: آپ ان احادیث مبارکہ کو بار بار
پڑھیں۔ پھر فرما ئیں کہ اہل حدیث ہونے کے ناطے ان سب پر کس طرح عمل کیا جائے گا۔
حالت روزہ میں سینگی لگوانا جائز ہے
یا نہیں:
فصد یا پچھنوں کی طرح سینگی
لگوانا بھی فاسد خون کو نکلوانے کا ایک طریقہ ہے یعنی ایک چھوٹے سائز کے سینگ کے
اوپر والے خول کو نوک کی جانب سے کاٹ کر سوراخ کر لیتے ہیں پھر پچھنے لگا کر چوڑے
مونہہ کی جانب سے سینگ کو پچھنوں پر رکھ کر باریک سوراخ کی جانب مونہہ لگا کر سانس
اندر کو کھینچتے ہیں اس طرح فاسد خون نکل آتا
ہے۔
سینگی لگوانے سے روزہ
ٹوٹ جاتا ہے:
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ
تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر بقیع ( قبرستان
مدینہ طیبہ ) کی طرف تشریف لائے وہاں ایک آدمی سینگی کھینچوا رہا تھا۔ رمضان
المبارک کی اٹھارہ تاریخ تھی آپ ؤنے فرمایا۔
سینگی کھینچنے والے اور کھینچوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔(دارمی، ابی داؤد، ابن ماجه )
سینگی لگوانے سے روزہ
نہیں ٹوٹتا:
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالٰی
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تین چیزیں روزہ دار کا روزہ نہیں تو
ڑتیں۔ سینگی لگوانا، قے اور احتلام۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ
عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حالت احرام میں بھی سینگی کھینچوائی اور حالت
روزہ میں بھی سینگی کھینچوائی۔ حالت احرام میں نکاح کرنا:
حالت احرام میں بعض حلال چیز یں
حرام ہو جاتی ہیں جبکہ بعض حلال اشیاء بدستور حلال ہی رہتی ہیں۔ ہم نے احادیث
مبارکہ کے حوالہ سے دیکھنا ہے کہ حالت احرام میں نکاح جائز ہے یا نا جائز۔
حالت احرام میں نکاح کرنا عمل نبوی
ﷺ سے ثابت ہے:
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حالت
احرام میں شادی فرمائی ۔ (ملاحظہ ہو صحیح بخاری و صحیح مسلم )
حالت احرام میں نکاح اور منگنی منع
ہے:
حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا محرم یعنی احرام باندھنے والا نہ تو خود نکاح کرے نہ ہی
کسی دوسرے کا کرے اور نہ ہی منگنی کرے۔ (صحیح مسلم شریف)
فائدہ: پہلی حدیث پاک پڑھنے والا تو یہ کہے
گا کہ بخاری و مسلم سے ثابت ہے کہ حالت احرام میں نکاح کرنا سنت نبوی ﷺہے۔ جب کہ
دوسری حدیث پاک کا مطالعہ کرنے والا کہے گا کہ صحیح مسلم کے مطابق حالت احرام میں
نکاح تو ہے دَرْ کِنَار منگنی کرنا بھی حرام ہے اور اپنا تو اپنا رہا احرام والا
تو دوسرے کا نکاح بھی نہیں پڑھا سکتا۔ اب آپ فرمائیے احادیث مبارکہ پر سطحی نظر
رکھنے والا کس حدیث کےمطابق فتوی دے گا ؟
یاد رکھئے : یہ چند احادیث
مبارکہ مشت نمونہ از خروارے“ کے مصداق نقل کی گئی ہیں۔ احادیث نبویہ کا طالب علم
اس قسم کی روایات کتب احادیث میں جا بجا پاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ہیں تو احادیث
مبارکہ ہی مگر ان پر عمل کس طرح کیا جائے اس طرح تو آدمی آدھا اہل حدیث ہو گیا اور
آدھا منکر احادیث ۔ لامحالہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بعض احادیث مبارکہ کو بعض پر
فوقیت حاصل ہے۔ اسی طرح بعض چیزیں خصائص نبوی میں شامل ہوتی ہیں۔ جس طرح کسی روزہ
توڑنے والے کا کفارہ خود اس کو کھلا دینا۔ یونہی بعض احادیث ناسخ ہوتی ہیں اور بعض
منسوخ ۔ جیسا کہ حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ كَلامِيْ لَا يَنْسَخْ
كَلَامَ اللهِ وَكَلَامُ اللهِ يَنْسَخُ كَلَامِيْ و كَلَامُ اللَّهِ يَنْسَخُ بَعْضَهُ بَعْضًا “۔ میرا کلام اللہ تعالیٰ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا اور اللہ
تعالیٰ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کر دیتا ہے ہاں البتہ اللہ تعالی کابعض کلام
اللہ تعالی کے بعض کلام کو منسوخ کر دیتا ہے۔ (مشکو ۃ)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ
عنہما سے مروی ہے کہ حضور اکرم رسول محتشم رحمت عالم ﷺ نے فرمایا۔ " إِنَّ أَحَادِيْثَنَا يَنْسَخُ بَعْضُهَا بَعْضًا كَنَسْخِ القُراٰنِ
۔ بے شک ہماری بعض احادیث مبارکہ بعض احادیث مبارکہ کو منسوخ کر دیتی
ہیں۔ قرآن کریم کے نسخ کی مانند۔ (مشکوۃ)
ساری احادیث مبارکہ قابل عمل نہیں
ہیں
معلوم ہوا کہ ساری احادیث مبارکہ قابل عمل
نہیں بلکہ ان میں بعض ناسخ اور بعض منسوخ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں آج
سوا چودہ سو سال بعد کیسے پتہ چلے گا کہ کس حدیث پر عمل کیا جائے گا اور کس پر
نہیں۔ جدید سائنسی ایجادات کے باوجود آج تک کوئی ایسا آلہ ایجاد نہیں ہوا کہ ہم اس
پر کسی حدیث کو پیش کریں اور وہ یہ بتادے کہ یہ ناسخ ہے یا منسوخ ۔ لامحالہ ہمیں
کسی نہ کسی سے پوچھ کر عمل کرنا ہو گا۔ اب ہمارا جی چاہے تو اپنے محلے کے مولوی سے
پوچھ لیں جو الا ماشاء اللہ کسی بیوروکریٹ یا چوہدری کی بڑھک سے بھی ڈر جاتا ہے
اور خدانخواستہ بک بھی جاتا ہے۔ یا پھر تقویٰ و طہارت کے بلند ترین مرتبہ پر فائز
حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ سے پوچھ لیں کہ جنہوں نے نہ صرف بادشاہ وقت
کی طرف سے پیش کردہ عظیم منصب قاضی القضاۃ (چیف جسٹس کا عہدہ)کق ٹھکرا دیا بلکہ
جیل خانہ میں اس قدر کوڑے برداشت کیے کہ جان جان آفرین کے سپرد کر دی مگر دامن
تقویٰ پر آنچ نہ آنے دی۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت امام بخاری، امام مسلم، امام
ترندی، ایام ابن ماجہ، امام نسائی، امام داؤ د سب کے سب ہمارے آقا ہیں۔ ان کے بارِ
احسان سے ہماری گردنیں جھکی ہوئی ہیں ۔ بایں ہمہ ہر کوئی اپنے اپنے فن میں ماہر
ہے۔ کوئی تو تخریج و تدوین حدیث میں ماہر ہے اور کوئی تفہیم حدیث میں ماہر ہے۔ اس
جگہ ایک واقعہ نقل کیا جا رہا ہے تا کہ آپ کوہماری یہ گفتگو سمجھنے میں آسانی ہو۔
نامور محدث حضرت امام ابن حجر مکی شافعی علیہ الرحمہ اپنی کتاب الخیرات الحسان فی
سیرۃ النعمان میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک دن کسی نے جلیل القدر محدث حضرت امام اعمش
رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں کچھ مسائل پیش کئے۔ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ
تعالٰی علیہ بھی سماعت حدیث کے لئے اُن کے حلقہ درس میں حاضر تھے۔ امام اعمش نے وہ
مسائل اپنے اس ہونہار شاگرد کے سامنے (بطور امتحان ) پیش فرمائے تو امام ابو حنیفہ
نے فوراً جواب عرض کر دیئے۔ امام اعمش نے حیران ہو کر فرمایا تم نے یہ جوابات کہاں
سے اخذ کیے ہیں تو امام ابوحنیفہ نے کہا کہ ان احادیث مبارکہ سے جو کہ میں نے آپ
سے سنی ہیں یہ کہہ کر آپ نے وہ ساری احادیث مبارکہ منع اسناد کے فرفر سنادیں تو
امام اعمش نے نہایت درجہ متاثرہو کر فرمایا۔ حَسْبُكَ مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ فِي مِائَةِ يَوْمٍ تَحَدَّثَنِيْ
بِهِ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ مَا عَلِمْتُ أَنَّكَ تَعْمَلُ بهْذِهِ الْأَحَادِيثِ يَا مَعْشَرَ الْفُقَهَا أَنْتُمُ
الْأَطِبَّاءُ وَنَحْنُ الصَّيَادَنَةُ وَأَنْتَ أَيُّهَا الرَّجُلُ أَخَذْتَ
بِكَاءِ الطَّرَفَيْنِ.بس کیجئے (آپ کے لئے یہی کافی ہے)
جو احادیث مبارکہ میں نے سو (۱۰۰) دن میں آپ کو سنائی ہیں آپ نے
گھڑی بھر میں مجھے سنا دی ہیں مجھے معلوم نہ تھا تم ان احادیث مبارکہ میں یوں عمل
کرتے ہو (یعنی اس
طرح مسائل اخذ کرتے ہو)اے فقہ والو تم طبیب لوگ ہو
اور ہم محدثین تو عطار میں اور اے ابوحنیفہ تم نے تو فقہ اور حدیث کی انتہا کوچھو لیا
ہے۔
بحمد اللہ تعالیٰ حدیث شریف کا
ہر طالب علم بخوبی واقف ہے کہ حضرت امام سلمان اعمش علیہ الرحمہ ایک بلند پایہ
جلیل القدر محدث اور مشہور تابعی ہیں۔ آپ حضور اکرم ﷺ کے خادم خاص اور فقیہ صحابی
حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شاگر درشید اور بعد میں آنے والے تمام آئمہ
حدیث کے استاد محترم ہیں۔ اس قدر جلالت شان کے باوجود وہ اپنے ہونہار شاگرد حضرت
امام ابو حنیفہ کو فرما رہے ہیں کہ ہم محدثین عطار ہیں اور تم طبیب ہو یعنی جس طرح
ایک پنساری یا میڈیکل سٹور والے کے پاس ادویات کے انبار لگے ہوتے ہیں یہاں تک کہ
طبیب یا ڈاکٹر دوائی خریدنے کے لئے پنساری یا میڈیکل سٹور والے کے پاس ہی جاتا ہے
مگر دوائی کے استعمال اور مزاج و کیفیات سے جو واقفیت اس طبیب و ڈاکٹر کو ہے وہ
ادویات کے تاجر کو نہیں ۔ اگر توفیق خداوندی شامل حال ہو تو بس یہی بات سمجھنے والی
ہے۔
آخر کوئی تو بات تھی کہ استاذ
الائمہ حضرت امام اعمش محدثین کے استاد ہونے کے باوجود جب حج پر جانے لگے تو حضرت
امام ابوحنیفہ کی طرف پیغام بھیجا کہ میرے لیے مناسک حج (یعنی حج کے ضروری مسائل )
تحریر کر دو۔ آپ عموماً فرمایا کرتے تھے کہ مناسک ابو حنیفہ سے حاصل کرو۔ میرے علم
میں فرائض و نوافل کا آج اُن سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں۔
غور طلب بات
استاذ اپنے شاگرد سے مسائل
لکھوائے اور آج کا ایک عام آدمی جو نہ تو احادیث کے ذخیرہ سے واقف ہو اور نہ ہی
ناسخ و منسوخ سے واقف ہو اور نہ ہی آحادیث کی توایخ سے اس کی کوئی واقفیت ہو ایسا
بندہ جب کہے کہ مجھے زیادہ علم ہے امام اعظم ابو حنیفہ سے تو پھر عقل سلیم کے لیے
دعا ہی تو کی جاسکتی ہے کہ استاذ فرمائیں کہ مجھے ایک سودن لگے آپکو آحادیث سنانے
میں اور تم ہو کہ ایک ہی دم تمام احادیث سناگئے ۔
اس یہ بات بھی ان لوگوں کے لیے
ثابت ہوگئی جو کہتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ کو احادیث ہر عبور نہیں تھا اوہ
عقل کے اندھے غو کر فکر کر دیکھ استاذ امام اعمش ہیں جو تابعی ہیں اور شاگر بھی
جناب حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہیں وہ احادیث کو بیان کریں اور
مسائل کے لیے امام اعظم ابو حنیفہ سے کہیں کہ آپ نکالیں وہ کیا شان ہے
تحریر (فقیر محمد اسرار محی الدین قادری )



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
خوش آمید۔
ہمارا مقصد دین اسلام کی ترویج ہے