السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ www. asrarmohyiddin.blogspot.comمیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔
آج کی پوسٹ تقلیدکے بارے میں ہے ان شاء اللہ مفید رہے گی
کس پر تقلید کرنا واجب ہے اور کس پر نہیں
مجتہد کس کو کہتے ہیں
مجتہد کی کتنی قسمیں ہیں
کون لوگ ہیں جن کو تقلید کی ضرورت نہیں
مکلف مسلمان دو طرح کے ہیں ایک مجتہد۔
دوسرے غیر مجید
مجتہد وہ ہے جس میں اس قدر علمی لیاقت اور
قابلیت ہو کہ قرآنی اشارات ورموز سمجھ سکے اور کلام کے مقصد کو پہنچان سکے اس سے
مسائل نکال سکے۔ ناسخ ومنسوخ کا پورا علم رکھتا ہو علم صرف ونحو و بلاغت میں مہارت
حاصل احکام کی تمام آیتوں اور احادیث پراس کی نظر ہو اس کے علاوہ ذکی اور خوش فہم
ہو۔د یکھو تفسیرات احمدیہ وغیرہ جو کہ اس درجہ پر نہ پہنچ سکا ہووہ غیر مجتہد یا مقلد ہے۔ غیر مجتہد پر تقلید
ضروری ہے۔ مجتہد کے لئے تقلید منع۔
مجتہد کے چھ طبقے ہیں (۱) مجتہد فی الشرع (۲) مجتہد
فی المذهب (۳) مجتہد فی المسائل (۴) اصحاب
الخريج (۵) اصحاب الترجیع (۶) اصحاب
التمیز (مقدمہ شامی بحث طبقات النقباء)
(۱) مجتہد
فی الشرع وہ حضرات ہیں جنہوں نے اجتہاد کرنے کے قواعد بنائے۔ جیسے چاروں امام
(امام اعظم ابو حنیفہ امام مالک امام شافی اورامام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم اجمعین)۔
(۲) مجتہد فی المذہب وہ حضرات ہیں جو ان اصول
میں تقلید کرتے ہیں اور ان اصول سے مسائل شرعیہ فرعیہ خود استنباط کر سکتے ہیں
جیسے امام ابو یوسف و محمد ابن مبارک رحمہم اللہ اجمعین کہ یہ قواعد میں حضرت امام
ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مقلد ہیں اور مسائل میں خود مجتہد۔
(۳) مجتہد
فی المسائل وہ حضرات ہیں جو تو اعد اور مسائل فرعیہ دونوں میں مقلد ہیں۔ مگر وہ
مسائل جن کے متعلق آئمہ کی تصریح نہیں ملتی۔ ان کو قرآن وحدیث وغیرہ دلائل سے نکال
سکتے ہیں۔ جیسے امام طحاوی اور قاضی خان شمس الائمہ سرسی و غیر ہم۔
(۴) اصحاب
التخریج وہ حضرات ہیں جو اجتہاد تو بالکل نہیں کر سکتے ہاں آئمہ میں سے کسی کے
مجمل قول کی تفصیل فرما سکتے ہیں جیسے امام کرخی وغیرہ۔
(۵) اصحاب
الترجیح وہ حضرات ہیں جو امام صاحب کی چند روایات میں سے بعض کو ترجیح دے سکتے ہیں
یعنی اگر کسی مسئلہ میں حضرت مام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو قول روایت
میں آئے تو ان میں سے کس کو ترجیح دیں۔ یہ وہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح جہاں امام صاحب
اور صاحبین کا اختلاف ہو تو کسی کے قول کو ترجیح دے سکتے ہیں کہ ہذا اولی یا ہذا
اصح وغیرہ جیسے صاحب قدوری اور صاحب ہدایہ۔
(۲) اصحاب
تمیز وہ حضرات ہیں جو ظا ہر مذہب اور روایات نادرہ اسی طرح قول ضعیف اور قوی اور
اقویٰ میں فرق کر سکتے ہیں کہ اقوال مردوده روایات ضعیفہ کو ترک کر دیں۔ اور صحیح
روایات اور معتبر قول کو لیں جیسے کہ صاحب کنز اور صاحب در مختار وغیرہ۔(رد
التارج اس ۷۲ مطبوعہ استانبول )
جن میں ان چھ وصفوں میں سے کچھ بھی نہ ہوں۔ وہ مقلد محض
ہیں۔ جیسے ہم اور ہمارے زمانے کے عام علماء کہ ان کا صرف یہ ہی کام ہے کہ کتاب سے
مسائل دیکھ کر لوگوں کو بتادیں۔
ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ مجتہد کو قید کرنا حرام ہے
تو ان چھ طبقوں میں جو صاحب ہیں جس درجہ کے مجتہد ہوں گے۔ وہ اس درجہ سے کسی کی
تقلید نہ کریں گے۔ اور اس سے اوپر والے درجہ میں مقلد ہوں گے جیسے امام ابو یوسف
ومحمد حمہم اللہ تعالی کہ یہ حضرات اصول اورقوائد میں تو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ
کے مقلد ہیں اور مسائل میں چونکہ خود مجتہد ہیں ۔ اس لئے ان میں مقلد نہیں۔ ہماری
اس تقریر سے ان دوستو کا یہ سوال بھی اٹھ گیا کہ جب امام ابو یوسف محمد علیہ
الرحمہ حنفی ہیں اور مقلد ہیں تو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی جگہ جگہ مخالفت
کیوں کرتے ہیں۔ تو یہ ہی کہا جاوے گا کہ اصول و قواعد میں یہ حضرات مقلد ہیں ۔ اس
میں مخالفت نہیں کرتے اور فرعی مسائل میں مخالفت کرتے ہیں اس میں خود مجتہد ہیں۔
وہ کسی کے مقلد نہیں۔
یہ سوال بھی اٹھ گیا کہ تم بہت سے مسائل میں صاحبین کے
قول پر فتوی دیتے ہو اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو چھوڑتے ہو پھر تم
حنفی کیسے ؟ جواب آگیا کہ بعض درجہ کے فقہاء اصحاب ترجیح بھی ہیں جو چند قولوں میں
سے بعض کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے ہم کو ان فقہاء کا ترجیح دیا ہوا جو قول ملا اس
پر فتوی دیا گیا یہ سوال بھی اٹھ گیا کہ تم اپنے کو یوحنفی پھر کیوں کہتے ہو ۔
یوسفی یا محمدی یا ابن مبار کی کہو! کیونکہ بہت کی جگہ تم ان کے قول پر عمل کرتے
ہو امام ابو حنیفہ کا قول چھوڑ کر ۔ جواب یہ ہی ہوا کہ چونکہ ابو یوسف ومحمد ابن
مبار کہ رحمہم اللہ تعالی کے تمام اقوال امام ابوحنیفہ علیہ الرحمتہ کے اصول اور
قوانین پر بنے ہیں۔ لہذا ان میں سے کسی بھی قول کو لیتا در حقیقت امام صاحب ہی کے
قول کو لینا ہے جیسے حدیث پر عمل در حقیقت قرآن پر ہی عمل ہے کہ رب تعالٰی نے اس
کا حکم دیا ہے مثلاً امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ کوئی حدیث صحیح
ثابت ہو جائے تو وہ ہی میرا مذ ہب ہے۔ اب اگر کوئی محقق فی المذاہب کوئی صحیح حدیث
پا کر اس پر عمل کرے تو وہ اس سے غیر مقلد نہ ہوگا۔ بلکہ حنفی رہے گا کیونکہ اس نے
اس حدیث پر امام صاحب کے اس قاعدے سے عمل کیا یہ پوری بحث دیکھو مقدمہ
شامی مطلب صح من الامام اذا صح الحديث فهو مذهبی (ردالمختارج اص ۶۳ مطبوعہ استانبول ) امام صاحب کے اس قول کا
مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب کوئی حدیث صحیح ثابت ہوئی ہے تو وہ میرا مذہب بنی
یعنی ہر مسئلہ اور ہر حدیث میں میں نے بہت جرح قدح اور تحقیق کی ہے تب اسے اختیار
کیا چنانچہ حضرت امام کے یہاں ہر مسئلہ کی بڑی چھان بین ہوتی تھی۔ مجتہد شاگردوں
سے نہایت تحقیقی گفتگو کے بعد اختیار فرمایا جاتا تھا۔
اگر یہ مختصرسی تقریر خیال رکھی گئی تو بہت مشکلوں کو
انشاء اللہ حل کر دے گی اور بہت کام آئیگی بعض دوست جو اپنے آپ کو غیر مقلد کہتے
ہیں کہ ہم میں اجتہاد کرنے کی قوت ہے لہذا ہم کسی کی تقلید نہیں کرتے۔ اس کے لئے
بہت طویل گفتگو کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اجتما د کےلئےکس قدر
علم کی ضرورت ہے اور ان حضرات کو وہ قوت علمی حاصل ہے کہ نہیں
حضرت امام رازی، امام غزالی و غیره امام ترمزدی و امام
ابوداؤد وغیرہ حضور غوث پاک حضرت بایزید بسطامی ۔ شاہ بہاء الحق نقشبند اسلام میں
ایسے پایہ کے علماء اور مشائخ گزرے کہ ان پر اہل اسلام جس قدر بھی فخر کریں کم ہے۔
مگر ان حضرات میں سے کوئی صاحب بھی مجتہد نہ ہوئے بلکہ سب مقلد ہی ہوئے خواہ امام
شافعی کے مقلد ہوں۔ یا امام ابوحنیفہ کے رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ زمانہ موجودہ میں
کون ان کی قابلیت کا ہے جب ان کا علم مجتہد بننے کے لئے کافی نہ ہوا۔ تو جن بے
چاروں کو ابھی حدیث کی کتابوں کے نام لینا بھی نہ آتے ہوں وہ کس شمار میں ہیں۔
ایک صاحب نے دعوئی اجتہاد کیا میں نے ان سے صرف اتنا
پوچھا کہ سورۃ تکاثر سے کس قدر مسائل آپ نکال سکتے ہیں اور اس میں حقیقت مجاز ،
صریح و کنا یہ ظاہر ونص کتنے ہیں۔ ان بے چارے نے ان چیزوں کے نام بھی نہ سنے تھے۔
اب ہم قرآن مجید سے کچھ آیات کو نمونہ کے طور پر پیش کر
رہے ہیں کہ جن میں تقلید کا ہی حکم ہے اور شرعی حکم ہے
(الف) فَاسْئَلُوْآ اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ اس آیت میں لوگوں کو حکم ہے کہ جو
شرعی حکم تم کو معلوم نہ ہو اس کو اہل علم سے معلوم کرکے اس پر عمل کرو۔ اسی کا
نام تقلید ہے۔
(ب) أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللّهُ
فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
اس آیت میں حکم ہے کہ جو لوگ ہدایت پر ہیں (یعنی انبیائے سابقین علیہم الصلاة والتسلیم)
ان کی اقتدا اور پیروی کرو۔
(ج) يااَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ
وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ اس آیت میں اہل علم کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، ان مسائل میں
جو قرآن و حدیث میں صراحتاً مذکور نہیں ہیں۔
(د) وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَ اِلَی اُولِی الْاَمْرِ
مِنْھُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہ مِنْھُمْ اگر یہ لوگ اس امر کو رسول صلی اللہ
علیہ وسلم اور اولو الامر کے حوالہ کرتے تو جو لوگ اہل فقہ اور اہل استنباط ہیں وہ
سمجھ کر ان کو بتلادیتے۔ اس آیت سے بھی ائمہ مجتہدین کی اتباع کا ثبوت ملتا ہے۔
(ھ) وَجَعَلْنَاھُمْ اَئِمَّةً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا ان تمام آیات میں اتباع و تقلید کی
تاکید فرمائی گئی ہے اور ان سے تقلید مطلق کا ثبوت ہوتا ہے۔
اب ایسی چند احادیث لکھی جاتی ہیں جن
سے تقلید شخصی کا ثبوت ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
بعد صحابہٴ کرام جہاں جہاں تشریف لے گئے وہاں اُن کی تقلید کی گئی اوران کے بعد ان
کے شاگردوں کی پھر ائمہ اربعہ کا زمانہ آیا تو جب اہل زمانہ نے ان کو علوم قرآن و
حدیث میں سب سے زیادہ فائق اور قابل اعتماد پایا اور ان کو اسلاف کے تمام تر علوم
کا جامع پایا تو ان کی تقلید کی، انھوں نے قرآن وحدیث سے مسائل کے استنباط کے لیے
اصول و قواعد مرتب کیے اور ایسے مسائل کا استنباط کیا جو قرآن وحدیث میں صراحتاً
مذکور نہیں ہیں اور واضح رہے کہ ائمہ اربعہ کے مقلدین ان کی تقلید صرف استنباطی
مسائل، اور ایسے مسائل ہی میں کرتے ہیں جو قرون اولیٰ صحابہٴ کرام -رضی اللہ عنہم-
کے زمانہ سے اختلافی چلے آرہے ہیں، ان مسائل میں کوئی کسی کی تقلید نہیں کرتا جو
قرآن وحدیث میں صراحتاً مذکور ہیں، جن میں کسی قسم کے اجمال و احتمال کی گنجائش
نہیں ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
خوش آمید۔
ہمارا مقصد دین اسلام کی ترویج ہے