جمعرات، 19 مارچ، 2026

عید الفطر کیسے منائیں


 

عید الفطر

الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، ونشھد أن سیدنا ومولانا محمدًا عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرًا ونذیرًا، وداعیًا إلى اللہ بإذنہ وسراجًا منیرًا، اللهم صل وسلم وبارک على سیدنا محمد وعلى آلہ وأصحابہ أجمعین۔اما بعد!

معزز و مکرام دوستو! آج کا ہمارا موضوع ہے:

اے ایمان والو! آج ہم ایک عظیم مہینے رمضان المبارک کو الوداع کہہ کر عید الفطر کی خوشیوں میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ دن محض خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان بندوں کے لیے انعام کا دن ہے جنہوں نے رمضان میں روزے رکھے، قیام کیا، قرآن کی تلاوت کی، اور اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کیا۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ"یعنی تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس ہدایت پر جو اس نے تمہیں دی، اور تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔

یہ آیت ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ عید کا مقصد اللہ کی کبریائی بیان کرنا اور اس کا شکر ادا کرنا ہے، نہ کہ محض دنیاوی لذتوں میں کھو جانا۔

محترم بھائیو! رمضان المبارک دراصل ایک تربیتی کورس تھا۔ اس میں ہمیں صبر سکھایا گیا، تقویٰ سکھایا گیا، اپنے نفس پر قابو پانا سکھایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"
(بخاری و مسلم)جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس تربیت سے کچھ حاصل کیا؟ کیا ہماری زندگیوں میں کوئی تبدیلی آئی؟ اگر رمضان گزر گیا اور ہم ویسے کے ویسے ہی رہے، تو پھر ہمیں اپنی فکر کرنی چاہیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں فرمایا:"رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ"
(ابن ماجہ) کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
لہٰذا ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارا روزہ ہمیں کہاں لے کر گیا؟ کیا اس نے ہمیں گناہوں سے روکا؟ کیا اس نے ہمیں اللہ کے قریب کیا؟کیا ہم نے تقویٰ اختیار کیا ؟ کیا ہم نے سائلوں و فقراء کے لیے اپنے مال کو کھولا؟

اے مسلمانو! عید الفطر دراصل کامیابی کا اعلان ہے، لیکن یہ کامیابی صرف اسی کے لیے ہے جس نے رمضان کی روح کو سمجھا ہو۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں، اور ہماری اصل کامیابی اسی کی اطاعت میں ہے۔

اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خوشی کا اظہار بھی اللہ کی حدود کے اندر رہ کر کرنے کی تعلیم دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدٌ وَهَذَا عِيدُنَا"(بخاری)ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔یعنی یہ عید ایک اسلامی تہوار ہے، جس کی اپنی حدود اور اپنی روح ہے۔

محترم حاضرین! عید الفطر کا ایک اہم پہلو صدقہ فطر بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ"(ابو داؤد)یعنی صدقہ فطر روزہ دار کو پاک کرتا ہے اور مسکینوں کے لیے کھانے کا ذریعہ بنتا ہے۔اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عید کی خوشیوں میں غریبوں کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔

اے ایمان والو! عید کا دن اخوت و محبت کا دن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف کریں، کینہ اور بغض کو ختم کریں، اور ایک دوسرے کو معاف کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا"(مسلم)آپس میں حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، بلکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا: أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ"(طبرانی)اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ شخص ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو۔لہٰذا عید کے دن ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، خوشیاں بانٹیں، اور معاشرے میں محبت کو فروغ دیں۔

محترم بھائیو! عید کا دن ہمیں یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ ہم اپنی عبادات کو جاری رکھیں۔ رمضان کے بعد عبادت چھوڑ دینا ایک بہت بڑی محرومی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ"(بخاری)اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم نمازوں کی پابندی جاری رکھیں، قرآن کی تلاوت کو معمول بنائیں، اور اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں۔

آخر میں! ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں رمضان کی برکتوں کو اپنی زندگیوں میں برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری عبادات کو قبول فرمائے، اور ہمیں حقیقی معنوں میں عید کی خوشیاں نصیب فرمائے۔

اللهم تقبل منا صيامنا وقيامنا، واجعلنا من عتقائك من النار، واجعل عيدنا هذا عيد خير وبركة، وأعده علينا أعوامًا عديدة وأزمنة مديدة ونحن في خير وعافية۔

عباد اللہ! آج کے دن اپنے دلوں کو صاف کریں، اپنے رب کا شکر ادا کریں، اور یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق گزاریں گے۔ یہی عید الفطر کا حقیقی پیغام ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

2 تبصرے:

خوش آمید۔
ہمارا مقصد دین اسلام کی ترویج ہے