جمعہ، 21 جون، 2024

رفع الیدی میں جن سے احادیث کا ثبوت ہے انکا اپنا عمل


 ان احادیث کی تحقیق

بخاری کی یہ تمام احادیث جس میں رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے ہاتھوں کا اٹھانا ہے اور اس پر غیر مقلدین عمل کرتے ہیں ان سے ہمارا ایک سوال ہے جب آپ ان مقامات پر ہاتھ کو اٹھاتے ہیں تو سجدے میں جاتے ہوئے اور سجدے سے اٹھتے ہوئے رفع یدین کیوں نہیں کرتے حالانکہ یہ بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے اور اسکو غیرمقلدین کے شیخ محقق علامہ ناصرالدین البانی نے لکھا ہے

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سجدہ میں جاتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے
یہ رفع یدین 10 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے اور ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہم اور حسن بصری، طاؤس، ابن عمر رضی اللہ عنہ کے غلام نافع، سالم بن نافع، قاسم بن محمد، عبداللہ بن دینار، اور عطاء اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مھدی نے اس کو سنت کہا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس پہ عمل کیا ہے، امام مالک رح اور امام شافعی رح کا بھی ایک قول یہی ہے۔''
( نماز نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، علامہ ناصر الدین البانی، صفحہ 131)"

ہمارا سوال کہ جب یہ سنت سے ثابت ہے تو سجدہ میں جاتے ہوئے اور اٹھتے وقت کیوں نہیں کیا جاتا؟

جواب میں حضرت فرماتے ہیں کہ منسوخ ہوگیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو آپ کو لگے مسوخ ہے صرف وہی منسوخ ہوگا اس کے علاوہ میں کوئی چیز منسوخ نہیں ہوگی ؟

جناب عبد اللہ بن عمر کا اپنا عمل

روى أبو جعفر الطحاوي عن ابْنُ أَبِي دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاش، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: صَلَّيْت خَلْفَ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما فَلَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الآُولَى مِنْ الصَّلاَةِ۔ ’’ابوبکربن عیاشؒ نے حصین سے انہوں نےمجاہد سےروایت نقل کی ہے کہ میں نے ابن عمررضی اﷲعنہ کے پیچھے نماز ادا کی وہ صرف تکبیرافتتاح میں ہاتھ اٹھاتے تھے‘‘۔ (المعانی الآثار للطحاوی: ج۱، ص۲۲۵؛ نصب الرایۃ: ج۱، ص۳۹۶،  رقم ۱۶۹۹)

۲۔روى ابن أبي شيبة من طريق أبي بَكْرِ بْن عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَا يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ۔ ’’ابوبکربن عیاشؒ نے حصین سے انہوں نےمجاہد سےروایت نقل کی ہے کہ میں نے ابن عمررضی اﷲعنہ کودیکھا جب نمازشروع کرتے توصرف پہلی تکبیرمیں ہاتھ اٹھاتے تھے‘‘۔ (رواۃ ابن أبی شیبۃ فی المصنف وسندصحیح علی شرط الشیخین: ج۲، ص۶۱؛  والبيهقی فی المعرفة:ج۲، ص۴۲۸)

امام طحاوی کا جناب عبد اللہ بن عمر سے روایات پر تجزیہ

امام أبوجعفرالطحاویؒ ابن عمررضی اﷲعنہ سےمروی رفع الیدین کے اثبات اورترک کی روایات کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فَهَذَا ابْنُ عُمَرَ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ يَرْفَعُ، ثُمَّ قَدْ تَرَكَ هُوَ الرَّفْعَ بَعْدَ النَّبِيِّ فَلاَ يَكُونُ ذَلِكَ إلَّا وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدَهُ نَسْخُ مَا قَدْ رَأَى النَّبِيُّ فِعْلَهُ وَقَامَتْ الْحُجَّةُ عَلَيْهِ بِذَلِكَ۔ فَإِنْ قَالَ: قَائِلٌ "هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ" قِيلَ لَهُ "وَمَا دَلَّك عَلَى ذَلِكَ؟ فَلَنْ تَجِدَ إلَى ذَلِكَ سَبِيلًا"۔ فَإِنْ قَالَ: فَإِنْ طَاوُسًا قَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يَفْعَلُ مَا يُوَافِقُ مَا رُوِيَ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ، مِنْ ذَلِكَ۔ قِيلَ لَهُمْ: فَقَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ طَاوُسٌ، وَقَدْ خَالَفَهُ مُجَاهِدٌ۔ فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عُمَرَ فَعَلَ مَا رَآهُ طَاوُسٌ مَا يَفْعَلُهُ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ عِنْدَهُ الْحُجَّةُ بِنَسْخِهِ، ثُمَّ قَامَتْ عِنْدَهُ الْحُجَّةُ بِنَسْخِهِ فَتَرَكَهُ وَفَعَلَ مَا ذَكَرَهُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ۔ هَكَذَا يَنْبَغِي أَنْ يُحْمَلَ مَا رُوِيَ عَنْهُمْ، وَيُنْفَى عَنْهُ الْوَهْم، حَتَّى يَتَحَقَّقَ ذَلِكَ، وَإِلَّا سَقَطَ أَكْثَرُ الرِّوَايَاتِ‘‘۔ ’’ابن عمررضی اﷲعنہ جنہوں نے جناب رسول اﷲﷺ کو رفع الیدین کرتے دیکھاپھرانھوں نے ہاتھوں کااٹھاناآپﷺکے بعدچھوڑدیا۔ اور اس کے خلاف عمل کیایہ اس صورت میں درست ہے جبکہ ان کے ہاں اس کا نسخ ثابت ہوچکاہو، جس کو انہوں نے جناب نبی کریم ﷺسے دیکھاتھا۔ اور ان کے ہاں اس کےنسخ کی دلیل ثابت نہ ہوگئی ہے۔ اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ یہ روایت سرے سے منکرہے تو اس کے جواب میں کہاجائے گا، آپ کوکس نے بتلایا؟ آپ کے لئے اس کے منکرقرار دینے کی کوئی صورت نہیں۔ اگرکوئی یہ کہےکہ طاؤس نےابن عمررضی اﷲعنہ کووہ فعل کرتے دیکھاجواس روایت کے موافق ہے جو انہوں نے جناب نبی اکرمﷺسے روایت کی، تو جواب میں یہ کہاجائے گاکہ طاؤس نے یہ بات ذکرکی ہے مگرمجاہدنے ان کی مخالفت کی ہے۔ تو اب یہ کہنا درست ہواکہ طاؤس نے ابن عمررضی اﷲعنہ کے اس وقت کے عمل کو دیکھاجب ان کے سامنے نسخ کے دلائل نہ آئےتھے، پھرجب ان کے ہاں نسخ کے دلائل قائم ہوگئے تو انہوں نے رفع الیدین کوترک کردیااور وہی کیاجو ان سےمجاہدنے دیکھا۔ اسی طرح مناسب یہ ہے کہ جوان سےمروی ہے وہ اس پرمحمول کیاجائےاوروہم کی نفی کی جائےتاکہ یہ بات ثابت ہوجائے ورنہ اکثرروایات کو ساقط الاعتبارقرار دیناپڑےگا‘‘۔ (شرح المعانی الآثار للطحاوی[اردو]: ج۱، ص۶۴۱-۶۴۲)

حافظ ابن حجرعسقلانیؒ فتح الباری میں ابن عمررضی اﷲعنہ سےرفع الیدین کرنے اورنہ کرنے کی دواحادیث نقل کرنے کے بعد فرماتےہیں: ’’مُجَاهِدٍ أَنه صلى خلف بن عُمَرَ فَلَمْ يَرَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ۔۔۔ مَعَ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ مُمْكِنٌ وَهُوَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَاهُ وَاجِبًا فَفَعَلَهُ تَارَةً وَتَرَكَهُ أُخْرَى‘‘۔ ’’دونوں روایات کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ابن عمررضی اﷲعنہ کے نزدیک رفع الیدین کرناضروری نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ نے پہلےرفع الیدین کیااورآخرمیں ترک کردیا‘‘۔ (فتح الباری لابن حجرالعسقلانی: ج۲، کتاب الاذان، قَوْلُهُ بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ، ص۶۲۵)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خوش آمید۔
ہمارا مقصد دین اسلام کی ترویج ہے